کالم

چھوٹے بچوں اور بچیوں کی تربیت ایک مشکل مرحلہ

ننھے بچے ہر گھر کی رونق بڑھاتے ہیں، انکی کھلکھلاہٹوں سے والدین کے لب مسکرا اُٹھتے ہیں لیکن جب یہ چھوٹے بچے تنگ کرنے لگیں ستائیں یا ضد کریں تو والدین اور بزرگ بھی زچ آجاتے ہیں۔ آج کل پھر سے تعلیمی ادارے کورونا وائرس کی وجہ سے بند کر دئیے گئے ہیں اس صورتحال میں والدین کو چاہیے کہ بچوں کو زیادہ سے زیادہ وقت دیں اور سب بہن بھائی ملکر مختلف سرگرمیوں کے ذریعے کچھ نیا سیکھنے کی کوشش کریں۔
بچوں میں مذہبی شعور اجاگر کرنے کے لئے ضروری ہے کہ بچوں کی دینی تربیت کی جائے۔ چھوٹے چھوٹے بچوں کو عبادات کی طرف راغب کرنے کے لئے ان دنوں گھر میں جماعت سے نماز کروانا سب سے افضل عمل ہے۔ گھر کے تمام افراد یعنی والدہ، بچے اور بزرگ اکھٹے نماز ادا کریں اور اسکے بعد وبا کے خاتمے اور ملک کی سلامتی کے لئے خصوصی دعا کروائی جائیں۔ بزرگ بچوں کو تاریخی واقعات، قرآن اور اصحابہ کرام کے قصے، سیرت النبیؐ کے متعلق بتائیں، اس طرح بچوں کا نہ صرف بزرگوں سے رشتہ مضبوط ہوگا بلکہ وہ تاریخ کے متعلق جان بھی سکیں گے۔ بچوں کی معلومات میں اضافے کے لئے مختلف موضوعات کے کوئز اور سوالات پوچھے جائیں تاکہ انکی معاشرے کے متعلق معلومات میں اضافہ ہو سکے۔
آج کل بچوں کو ڈرائنگ اور پینٹنگ سیکھائی جا سکتی ہے جس سے وہ نئی چیزیں بنانے میں ماہر ہو سکتے ہیں۔ چھوٹے بچوں کی چھوٹی باتوں پر حوصلہ افزائی انہیں بڑے کام کرنے کا حوصلہ مہیا کرئے گی۔
دو سے چار سال کے بچوں کے لئے ایک مزیدار سرگرمی گھر کی چیزوں کے متعلق معلومات ہیں۔ آپ دو یا تین بچوں کو گھر کے کمروں لاوئنج، لان،کچن، باتھ روم کی سیر کروا سکتے ہیں اور ان میں موجود اشیاء کے نام اردو اور انگریزی زبان میں یاد کروا سکتے ہیں۔ بچے چیزوں کو غور سے دیکھ کر ان کے نام یاد کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ بچے شوق شوق میں بہت سے نئے الفاظ کا ذخیرہ سیکھ جاتے ہیں۔ بچوں کو کلرنگ، پینٹنگ اور قینچی کی مدد سے اشکال کاٹ کر مختلف اشکال بنانا اور کاغذ کی مدد سے مختلف چیزیں بنانا، سبزیوں اور پینٹ کی مدد سے اشکال بنانا، پُرانی چیزوں کو استعمال میں لانا، پودے لگانا، پتھر یا مٹی کے برتنوں پر پینٹ کرنا اور ایسی سرگرمیاں کروائی جا سکتی ہیں جس سے وہ نہ صرف لطف اندوز ہو سکتے ہیں بلکہ انکی ذہنی نشوونما بھی ہو سکتی ہے۔
چھوٹی بچیوں کو گھر کے چھوٹے چھوٹے کام سیکھائے جا سکتے ہیں جو آگے گھر داری میں انکی مدد کر سکیں مثلا ادھڑے ہوئے کپڑے سینا، بچیوں سے گڑیا کی فراک اور کپڑے بنوانا، کڑھائی کے لئے مختلف ٹانکے سیکھانا، اوون کی مدد سے مختلف چیزیں بنانا سیکھانا، مہندی کے نقش و نگار بنانا سیکھانا ، آلو انڈہ اُبالنا سیکھانا۔ بچوں کے شوق کے تسکین کے لئے ضروری ہے کہ انکی زیادہ سے زیادہ حوصلہ افزائی کی جائے یہ حوصلہ افزائی نہ صرف والدین کا بچوں کے ساتھ تعلق مضبوط کرئے گی بلکہ بچوں میں خود اعتمادی بھی پروان چڑھائے گی اس لئے ان دنوں میں وقت کا بہترین استعمال کر کے اس وقت کو کار آمد بنائیں اور بچوں کو خود سے زیادہ سیکھنے کے مواقع فراہم کریں۔
بقلم: امتل ھدٰی

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button