ٹیکنالوجی

کویڈ 19 دنیا میں سمارٹ فونز کی فروخت میں ریکاڈ کمی آگئی

کورونا وائرس کی وجہ سے جہاں پوری دنیا بند ہوکر رہ گئی ہے اور تمام مارکیٹس کراش کرگئی ہے وہی سمارٹ فون مارکیٹ کو بھی کورونا کی وجہ سے شدید دھچکا پہنچا ہے۔آئی ڈی سی کے مطابق (جو کہ سمارٹ فون ریسرچر کا ایک ادارہ ہے) کے مطابق 2020 کے پہلے کواٹر جنوری سے مارچ کے دوران اسمارٹ فون کی فروخت میں پچھلے سال کے مقابلے میں ریکاڈ 11 فیصد کمی دیکھنے میں آئی ہے۔اس کمی کا اندازہ پہلے ہی لگایا جا رہا تھا کیونکہ سال کے شروع میں چائنا میں کورونا کی وجہ سے لاک ڈائون کیا گیا اور صرف چائنا میں ہی پوری دنیا کی نسبت 25 فیصد سمارٹ فون فروخت ہوتے ہیں اسی طرح چین کے بعد لاک ڈائون پوری دنیا میں ہوگیا۔

پوری دنیا میں جتنے سمارٹ فونز فروخت ہوتے ہیں اُس کا 25 فیصد تو صرف چین میں ہی فروخت ہوتے ہیں جو کہ اس سال کی پہلی سہ ماہی میں کم ہوکر 20 فیصد ہوگئی اور امریکہ میں 1۔16فیصد کمی دیکھنے میں آئی اور یورپ میں 3۔18فیصد کمی آئی۔

پہلے کواٹر 2020 میں ٹوٹل 27 کروڑ58 لاکھ سمارٹ فونز فروخت ہوئے ہیں جو کہ 2014 کے بعد پہلی بار ہے کہ کسی کواٹر میں 30 کروڑ سے کم فونز فروخت ہوئے ہیں۔

اس پہلے کواٹر میں سب سے زیادہ فونز سامسنگ نے فروخت کرکے دنیا کی پہلے نمبر کی سمارٹ فون فروخت کرنے والی کمپنی کا اعزاز حاصل کرلیا جو کہ 2019 کی آخری سہ ماہی میں ایپل نے سام سنگ سے چھین لیا تھا۔

آخری سہ ماہی 2019 میں ایپل نے 7۔70 ملین فونز فروخت کیے جبکہ سامسنگ نے 8۔68ملین مارکیٹ میں بھیجے۔اس کے برعکس2020 کی پہلی سہ ماہی میں سامسنگ نے 3۔58ملین فونز بیچے اور مارکیٹ میں 1۔21فیصد شیئرز کے ساتھ دوبارہ ٹاپ پر آگئی۔ تاہم اس کی مجموعی فروخت میں 18 فیصد کی کمی آئی۔ دوسرے پر ہواوے 8۔18 فیصد شیئر کے ساتھ تیسری سے دوسری پوزیشن پر آگیا۔ اور ایپل مارکیٹ کے 13 فیصد شیئر کے ساتھ پہلے سے تیسرے پر پہنچ گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button