کالم

‎حکومت کا عوام پر پٹرول بم حملہ

حکومت نے کورونا وباءاور لاک ڈاﺅن کے باعث معاشی دباﺅ کا شکار عوام پر ایک بار پھر پٹرول بم گرا دیا اور اسکی قیمتوں میں 17روپے سے لے کر25روپے تک فی لیٹر اضافہ کردیا۔ وزارت خزانہ کی جانب سے اعلامیہ کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق کر دیا گیا۔
اقتصادی مبصرین کے مطابق حکمرانوں نے صارف عوام کو سستے پٹرول کے عارضی ریلیف کا لالی پاپ دے کر جس بے دردی سے پٹرول بم مارا اسکی کوئی مثال نہیں ملتی، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ سے اشیائے خوردونوش کی قیمتیں یا مہنگائی جس ہوشربا رفتار سے بڑھ رہی ہے اس کی بھی ماضی میں نظیر نہیں ملتی۔ غریب صارفین تبدیلی سرکار کے پٹرول اور دیگر ٹائم بموں سے تقریباََ نیم جان اور خستہ حال ہو چکے ہیں۔ غریب خاندانوں کو مہنگائی اور بیروزگاری نے محاصرے میں لے رکھا ہے، ہر چیز مہنگی ہو گئی ہے۔ ماہرِ معاشیات کے مطابق ریاست نے پٹرول مافیا کے سامنے سرنڈر کر دیا ہے، بظاہر حکومت نے سستے پٹرول کی ریلیف کا ایک دلکش منظر نامہ ملکی معیشت کے ساتھ اس دلفریب انداز میں پیش کیا کہ عوام نے اپنی خوشحالی اور آسودگی کی ایک خیالی جنت ذہن میں سجا لی۔ عام آدمی یہ سوچتا رہ گیا کہ سستے پٹرول کی بدولت اسکی زندگی میں راحت و آرام بس اب آیا کہ جب آیا مگر معیشت پر قابض قوتوں نے اپنی عیاری اور چابکدستی سے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں پر 6کروڑ جرمانہ عائد کر کے انہیں7 ارب روپوں کا فائدہ پہنچایا بلکہ اپوزیشن نے تو یہ بھی کہا ہے کہ پٹرول مافیا کو حکومت نے عوام کو لوٹنے کا لائسنس دے رکھا ہے۔پٹرول کارٹل اور مافیا کی طاقت کا عالم دیکھئے کہ قیمتوں میں اضافہ کا نوٹیفیکیشن چار دن پہلے ہی جاری کر دیا گیا جسکو عوام نے پٹرولیم صنعت کے عفریت کاروں کی طرف سے ظلم کی انتہا قرار دیا ہے۔ حکومتی نوٹیفیکشن کے مطابق پٹرول 25روپے58پیسے ہائی سپیڈ ڈیزل 21روپے31پیسے، مٹی کا تیل 23روپے 50پیسے اور لائٹ دیزل آئل 17روپے 84پیسے فی لیٹر مہنگا کیا گیا جس کے نتیجے میں پٹرول74روپے 52پیسے سے بڑھ کر 100روپے10پیسے، ہائی سپیڈ ڈیزل 80.15روپے سے بڑھ کر 101روپے46پیسے ، مٹی کا تیل 35روپے56پیسے سے بڑھ کر 59روپے06پیسے اور لائٹ ڈیزل 38.14روپے سے بڑھ کر 55.98 روپے فی لیٹر ہو گیا۔
حکومت نے پٹرولیم مصنوعات پر لیوی کی شرح میں  بھی ردوبدل کیا ہے جس میں ہائی سپیڈ ڈیزل پر 30روپے، مٹی کے تیل پر6روپے اور لائٹ ڈیزل آئل ہر لیوی ڈیوٹی 3روپے فی لیٹر کی دی جبکہ قانوناً حکومت زیادہ سے زیادہ 30روپے فی لیٹر لیوی ڈیوٹی عائد کرنے کی مجاز ہوتی ہے اس قدم سے حکومت کی آمدنی میں10ارب روپے  جبکہ سیلز ٹیکس کی مد میں بھی اچھا خاصہ اضافہ سرمایہ اکٹھا کرنے کو ملے گا۔ گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن نے ڈیزل کی قیمت میں اضافہ واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے انکے مطابق گڈز ٹرانسپورٹ انڈسٹری پہلے سے ہی زوال پذیر ہے قیمتوں میں اچانک بھاری اضافے سے یہ صنعت بند اور لاکھوں لوگ بے روز گار ہو جائیں گے۔
حکومت نے پٹرول اگر سستا کرنا ہو تو چند روپوں میں کرتی ہے لیکن اس بار مہینہ ختم ہونے سے چار دن پہلے پٹرول کی قیمتوں میں بھاری اضافہ ظلم کی انتہا اور پٹرول مافیا کی جیت ہے حکومت کو چاہیے تھا کہ وہ ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں کی شرح کو کم کرتی تاکہ کورونا مہنگائی اور بیروزگاری کے حالات میں عوام کو سہولت ملتی وہ اس لیے کہ پٹرولیم قیمتوں کا معاملہ عوام کی قوت خرید سے جڑا ہے جو کسی اکیلے فرد کو نہیں بلکہ پورے اہلِ خانہ کو متاثر کرتی ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button