کالم

‎مسئلہ فلسطین پر ہمارا اصولی موقف

چند روز قبل قابلِ اعتماد برادر اسلامی ملک سعودی عرب نے پاکستان کی خدمات اور تعاون کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اسٹیٹ بینک میں رکھوائے گئے زر

ضمانت میں ایک ارب ڈالر واپس مانگ لیے جو عمران خان حکومت نے ملک کو درپیش معاشی بحران اور کورونا وباء کے باوجود ایک دوسرے ہمسائے ملک چین سے لیکر واپس کردئیے۔ خارجہ امور کے ماہرین اور عالمی میڈیا سمیت تمام طبقات نے سعودی عرب کے اس رویہ کی وجہ کو وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کے انٹرویو کے دوران دئیے گئے ایک بیان کو قرار دیا۔ شاہ محمود قریشی کا بیان جو انہوں نے مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے سعودی عرب سمیت عرب ممالک سے شکوہ کیا تھا کہ اُمت مسلمہ نے مقبوضہ کشمیر پر پاکستان کی حمایت میں دو ٹوک موّقف اختیار نہیں کیا اور بھارت کے جارحانہ و ظالمانہ اقدام کی مذمت نہیں کی۔ یہ بات یقینی طور پر سعودی عرب اور دوسرے عرب ممالک پر گراں گزری ہوگی لیکن تاریخ کے ایک طالب علم کی حیثیت سے جب میں ماضی کی تاریخ پر نگاہ ڈالتا ہوں تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے مسئلہ پر عرب دنیا نے کُھل کر پاکستان کی حمایت کرنے اور بھارت سے مخالفت مول لینے کی کبھی کوشش نہیں کی۔ یقینی طور پر عرب دنیا کے پسِ پردہ ان کے بھارت کے اقتصادی شراکت دار ہونے کی وجہ ہوگی لیکن سعودی عرب کی حالیہ ناراضگی کے پیچھے صرف اور صرف وزیرِ خارجہ کا بیان نہیں بلکہ بہت سی دوسری وجوہات بھی شامل ہیں ۔
‎پچھلے چند برسوں کے دوران دنیا کے بھر میں توانائی کے دیگر ذرائع کو تیل پر فوقیت دی جا رہی ہے۔ تیل جو کہ ہمیشہ سے عربوں کا ہتھیار رہا ہے گزشتہ ڈیڑھ برس کے دوران دُنیا کی ترجیحات میں بڑی تبدیلیاں آئی ہیں بالخصوص کوروناوائرس سے سعودی عرب ہی نہیں بلکہ دُنیا کے تمام ممالک کی ترجیحات میں ہوشربا تبدیلیاں رونما ہوچکی ہیں۔
‎پاکستان سعودی عرب کا اسٹریٹجک اتحادی جبکہ ایران ہمسایہ ہے ان دونوں ممالک کے تناوّ کے خاتمہ کے لیے پاکستان کی طرف سے ثالثی پیشکش اور اپنی میزبانی میں دونوں ممالک کو براہ راست مذاکرات پر آمادہ کرنے کی کوشش کی گئی کیونکہ ان دونوں ممالک کے تناوّ اور تصادم کی صورت میں پاکستان اور پورے ایشیائی خطے پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے تھے اسی لیے پاکستان کا ذمہ دارانہ انداز میں معاملات کو آگے بڑھانا فطری عمل تھا لیکن تا حال اس کے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کئے جا سکے۔
‎چین سُپر پاور امریکا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے ڈٹا ہوا ہے، نئے نئے بین الملکی بلاک وجود میں آ رہے ہیں۔ ان حالات میں جبکہ متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ کیا جسکا خیر مقدم امریکا اور دیگر یورپی ممالک نے کیا ہے۔ پاکستان پر بھی امریکا اور عالمی دباوّ بڑھ رہا ہے کہ وہ اسرائیل کو خود مختار ریاست کی حیثیت سے تسلیم کرتے ہوئے اس کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرئے۔ اس حوالے سے ملک کے سیاسی اور سماجی حلقوں میں یہ بحث چل رہی ہے کہ پاکستان کو اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کر کے فائدہ زیادہ ہوگا یا نقصانات زیادہ ہوں گے۔ ملک میں موجود ایک طبقے کی رائے یہ ہے کہ پاکستان کو اسرائیل سے کوئی خطرہ نہیں بلکہ اگر اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کر لئے گئے تو ہمسایہ دشمن ملک بھارت کو قابو کرنے میں بہت آسانی ہوگی کیونکہ کسی بھی غیر ملکی جارحیت کی صورت میں اسرائیل غیر جانبدار رہے گا اور پاکستان پر کسی قسم کا دباوّ نہیں ہوگا۔ ایک دوسرے طبقے کی رائے یہ ہے کہ اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کا معاہدہ کرنا آئین پاکستان کے ساتھ غداری ہے اور ساتھ مظلوم کشمیریوں اور فلسطینیوں کی جدوجہد، آزادی اور خودمختاری کو زبردست ٹھیس پہنچانے کے مترادف ہوگا۔ اس ملک کی عوام بھی نہتے کشمیریوں اور معصوم فلسطینیوں کے کے ساتھ اظہار یکجہتی رکھتے ہیں اس لیے موجودہ حکمرانوں کو حالیہ صورتحال میں اسرائیل کو تسلیم کرنے سے گریز کرنا ہوگا اور امریکا اور دُنیا کے دباوّ کو یکسر مسترد کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہونا ہوگا۔ پاکستان ہمیشہ سے اسرائیل کے لیے گلے کی ہڈی رہا ہے جسے وہ کبھی نگل نہیں سکتا۔ گزشتہ دنوں وزیر اعظم عمران خان نے اپنے ایک انٹرویو میں واضح انداز میں کہا ہے کہ مسئلہ فلسطین کے حل تک پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرئے گا میرے خیال میں یہ ایک اصولی موّقف ہے کہ جب تک فلسطین کا مسئلہ حل نہیں ہوتا اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم نہ کئے جائیں اور ہمیں اس پر کاربند رہنا چاہیے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button