کالم

چین، پاکستان اور سی پیک منصوبہ

چینی صدر شی جن پنگ نے ایک تقریب میں خطاب کے دوران کہا کہ دُنیا کی کوئی طاقت چینی قوم کی بنیادوں کو ہلا نہیں سکتی، کیونکہ آج کروڑوں چینی اپنے ہاتھوں سے چین کے حال اور مستقبل کی تعمیرکر رہے ہیں۔اُنہوں نے چینی کمیونسٹ پارٹی کے تمام ارکان، تمام فوجیوں اور چین کے مختلف قومیتوں کے عوام کو مزید متحد ہونے اور اور چین کی ترقی کو برقرار رکھنے پر زور دیا، اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے چینی عوام کو دو سو سالہ اہداف پورا کرنے کے لئے کوشش پر بھی زور دیا۔
پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جنہوں نے عوامی جمہوریہ چین کو سب سے پہلے تسلیم کیا تھا۔ تب سے لیکر آج تک چین اور پاکستان کے درمیان انتہائی دوستانہ تعلقات قائم ہیں۔ پاک چین دوستی کو عالمی برادری میں ایک آئیڈیل فرینڈ شپ کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ دونوں ممالک اس دوستی کو ہمالیہ سے بلند سمندروں سے گہری اور شہد سے میٹھی قرار دیتے ہیں۔ صرف جغرافیائی لحاظ سے پڑوسی ہی نہیں بلکہ دونوں طرف عوام میں بھی مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ عالمی امور میں باہمی احترام کے حوالے سے خیالات بھی یکساں ہیں۔
1948 میں
جب عوامی جمہوریہ چین نے آزادی کا اعلان کیا تو طویل خانہ جنگی کی وجہ سے اسکی معاشی حالت انتہائی خراب تھی، نہ کسی سے تجارتی تعلقات تھے اور نہ ہی سفارتی، خود انحصاری کے سوا اس کے پاس کوئی چارہ نہ تھا۔ 1950 سے لیکر 1960تک چین کی فی کس آمدی 50 ڈالر تھی جبکہ آج اسکی فی کس آمدنی10 ہزار ڈالر سے بھی زیادہ ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ چین کو اس اقتصادی بحران سے نکل کر دُنیا کی بڑی معاشی طاقتوں کی صف میں کھڑا ہونے میں 70 برس لگے۔
چین کی ترقی کا راز اسکی اقتصادی اصلاحات میں چھپا ہے۔ اقتصادی اصلاحات نے کروڑوں چینی شہریوں کی زندگی بدل ڈالی ہے۔ عالمی بینک کے اعدادوشمار کے مطابق چین نے 85کروڑ افراد کو غربت سے نکالا گیا جبکہ اگلے سال تک چین کے حکمرانوں کا ماننا ہے کہ غربت کا مکمل طور پر خاتمہ ہوجائے گا۔ چینی حکام نے یہ دعویٰ سی پیک پراجیکٹ کی بدولت کیا جو چین کے لئے عالمی معاشی ترقی کے دروازے کھول دے گا۔ اس پراجیکٹ کا مقصد دُنیا کی تقریباٙٙ نصف آبادی اور عالمی جی ڈی پی کے پانچویں حصے کو دُنیا بھر میں تجارت اور سرمایہ کاری کے ذریعے مربوط کرنا ہے۔ خوش قسمتی سے پاکستان بھی اس مضبوط معاشی پراجیکٹ کا حصہ ہے۔ سی پیک منصوبہ کو چینی صدر شی جن پنگ نے تجویز کیا تھا, مئی 2013 میں جب چینی وزیر اعظم نے اپنے دورہ پاکستان کے دوران اس پراجیکٹ کو پاکستانی حکام کے سامنے رکھا تو فوری طور پر حکومت نے اسے قبول کر لیا اسکی بنیادی وجہ یہ تھی کہ یہ ایک گیم چینجر منصوبہ تھا اگر یہ منصوبہ اس وقت پسِ پشت ڈال دیا جاتا تو پاکستان ہمیشہ کفِ افسوس میں رہتا، کیونکہ اس منصوبے کی تکمیل کے بعد پاکستان معاشی طور پر چٹان کی طرح اُبھرے گا اور اپنے دیرینہ دشمنوں کے مذموم عزائم کو خاک میں ملا دے گا۔
سی پیک منصوبہ پر وقت کے ساتھ ساتھ مکمل منصوبہ بندی سے عمل درآمد کیا جا رہا ہے کیونکہ یہ ایک اہم سنگ میل ہے جس پر دونوں ممالک کا اتفاق ہے۔ سی پیک کو چین اور پاکستان کی سدا بہار سٹریٹیجک شراکت داری کو مستحکم کرنے اور مشترکہ تعمیر و ترقی کی منازل طے کرنے کے سفر میں بنیادی حثیت حاصل ہے جس سے مجموعی طور پر پورا پاکستان استفادہ حاصل کرئے گا اور اسی سے پاکستان کی معاشی اور معاشرتی ترقی کو موثر انداز میں فروغ ملے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سی پیک منصوبہ پاکستان کے لئے سیاسی و جغرافیائی اہمیت کا حامل ہے ۔ سی پیک اتنا بڑا منصوبہ ہے کہ اس کی بروقت اور پُر اعتماد تکمیل کی صورت میں یہ ملک کا معاشی حٙب بنے گا اور پاکستان کے لئے ترقی کی نئی راہیں کھول دے گا۔چین کے اس منصوبے سے نا صرف پاکستان اور چین بلکہ خطے کے دیگر ممالک کے لوگ بھی اس سے فائدہ اُٹھائیں گے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button