کالم

ون ویلنگ ایک جان لیوا شوق، اس سے جان کیسے چھڑائی جائے

نوجوا ن نسل کسی بھی ملک یا معاشرے میں اہمیت کی حامل ہوتی ہے وہ ملک ترقی کے منازل نہایت تیزی سے طے کرتا ہے جس ملک کے نوجوان اپنے ملک وقوم کی بہتری کے لیے اپنی صلاحیتوں کو بھر پور انداز میں استعمال کرتے ہیں، پوری دُنیا میں اس وقت جتنے بھی ترقی یافتہ ملک ہیں ان سب کی ترقی کے پیچھے کہیں نہ کہیں تعلیم یافتہ، با صلاحیت اور ملک کی ترقی کا جذبہ رکھنے والی نوجوان نسل کا کردار ضرور ہوتا ہے۔لیکن بد قسمتی سے ہمارے معاشرے و ملک کی نوجوان نسل کو اپنے ملک و قوم کی ترقی اور بہتری کے حوالے سے کوئی خاص لگاؤ نہیں ہے،ہماری نوجوان نسل کا زیادہ تر وقت سوشل میڈیا پر گزرتا ہے اس کے علاوہ ہمارے شہروں کے نوجوان لڑکے مصروف ترین شاہراہوں پرموٹر سائیکل جیسی خطرناک سواری پر ون ویلنگ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، شائد ہی کوئی ایسا شہر ہو جس میں موٹر سائیکل پر کرتب بازی دیکھانے والے نوجوان شاہراہوں پر ون ویلنگ کرتے ہوئے نظر نہ آتے ہوں۔
موٹر سائیکل ایک خطرناک سواری ہے اور اسکو جہاں تک ممکن ہو سکے احتیاط کے ساتھ چلانا چاہیے اور اتنی ہی رفتار میں چلانا چاہیے جتنا انسان کنٹرول کر سکے۔ آئے دن ہم ٹی وی یا اخباروں میں پڑھتے اور سُنتے ہیں جس میں بتایا جاتا ہے کہ ون ویلنگ کرتے ہوئے نوجوان اور کم عمر بچے حادثات کا شکار ہو گئے اور اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئے، یہ بھی ایک اٹل حقیقت ہے کہ سب نے مرنا ہے اور جسکا جو وقت مقرر ہے اس سے ایک بھی لمحہ آگے یا پیچھے نہیں ہو سکتا، لیکن جان بوجھ کر موت کے منہ میں کودنا بھی تو کوئی عقل مندی کی بات نہیں ہے۔
ہماری نوجوان نسل پر موٹر سائیکل پر ریس لگانے کا اور اپنی جان کے ساتھ ساتھ دوسروں کی جان سے کھیلنے کا ایک عجیب سا جنون سوار ہے۔ ون ویلنگ کرنے والے اکثر نوجوان جب اپنا توازن کھو تے ہیں تو ان کی وجہ سے شاہراہوں پر چلنے والی گاڑیاں اور موٹر سائیکل سوار بھی حادثات کا شکار ہوتے ہیں جو کئی قیمتی جانوں کے ضیاع کا باعث بنتے ہیں، ہماری نوجوان نسل موٹر سائیکل پر ون ویلنگ کے شوق اور ریس لگانے کے لیے سارا سارا دن موٹر سائیکل مکینکوں کے پاس وقت ضائع کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، وہ موٹر سائیکل کو تیز ترین بنانے کے لیے فضول اخراجات کرتے ہیں، جس سے نہ صرف انکا دھیان تعلیم سے ہٹ جاتا ہے بلکہ اپنے موٹر سائیکل کو تیز رفتار بنانے کے لیے اس پر ہونے والے خرچ کو پورا کرنے کے لیے بہت سارے نوجوان جرائم کی جانب بھی چلے جاتے ہیں۔ حیران کن بات تو یہ ہے کہ اکثر و بیشتر پولیس کی موجودگی میں یہ بائیک پر ریس لگانے والے لڑکے مصروف ترین سڑکوں پر ریس لگا رہے ہوتے ہیں اور پولیس خاموش تماشائی کی طرح ان کو دیکھ رہی ہوتی ہے۔
ون ویلنگ ایک خطرناک شوق ہے جو کہ نا صرف جانوں کے ضیاع کا باعث بنتا ہے بلکہ بنا سائیلنسرکے موٹر سائیکلوں کی آواز سے بھی شدید کوفت ہوتی ہے، موٹر سائیکل کو بنا سائیلنسر چلانے والے یہ بھی نہیں دیکھتے کہ نماز کا وقت ہے یا شائد گھر میں کوئی بزرگ یا بیمار آرام کر رہا ہے۔ گلیوں میں بازاروں میں سڑکوں پریہ لوگ شور شرابا کرتے پھر رہے ہوتے ہیں۔ اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ والدین اپنے کم عمر بچوں کو موٹر سائیکل جیسی خطرناک سواری سے دور رکھیں اور انکو اٹھارہ سال کی عمر سے پہلے موٹر سائیکل نہ چلانے دیں۔ اس کے علاوہ پولیس اور ٹریفک پولیس سمیت تمام متعلقہ ادارے موٹر سائیکل پر ون ویلنگ کرنے والے نوجوانوں کے خلاف سخت ترین قانونی کاروائی کریں اور حکومت کو چاہیے کہ پورے ملک میں ون ویلنگ پر پابندی عائد کرئے،اس کے بعد جو بھی ون ویلنگ کرتا ہو ا نظر آئے اس کی بائیک کو ضبط کر لیا جائے اور اسے کچھ عرصے کے لیے پابند سلاسل کیا جائے تاکہ اُسکی عقل ٹھکانے آئے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button