کالم

“اسلم تم میرے لئے کسی مسیحا سے کم نہیں”

کام ہر انسان کی مجبوری ہے اگر وہ اسے انجام نہ دے تو ایک تو بیکار تصور کیا جائے گا دوسرا معاشرہ اُسے عزت کی نگاہ سے بھی نہیں دیکھے گا اس لئے ہر انسان کی کامیابی اسکے کام سے ہے اور یقیناٙٙ یہی کام اُسے اپنے مالک کے ساتھ مخلص اور بے باک محبت کرنے والا بناتا ہے۔ ہر شخص کا کام اُسے عزت کی بُلندیوں تک پہنچاتا ہے، وہ عزت انسان کو ترقی کی صورت میں، پیار اور محبت کی صورت میں اور قربت کی صورت میں ملتی ہے۔
اسی طرح چاہت جس دل میں ہوتی ہے وہی دل پروان چڑھتا ہے اور لوگوں کی حقیقت پسند نظروں کا محو رہتا ہے، جب جب دل میں محبت کا معیار بُلند ہوتا ہے تب تب انسان کا رُتبہ ہر سمت سے کوہِ پیما کی طرح بُلند و بالا ہوتا چلا جاتا ہے کیونکہ محبت کو تولنے کے لیے ایک دل ہی ہوتا ہے جو ہر لحاظ سے ہر دل کی آنکھ کو دل کی نظر سے پڑھ لیتا ہے، اور میرا دل میرے اسلم نے بخوبی پڑھ لیا۔ اسلم ایک انتھک اور لگن سے کام کرنے والے انسان ہے، اسکے ساتھ ساتھ یہ ایک انتہائی دیدہ زیب، خوب سیرت، با اخلاق، موّدب اور خود شناس انسان بھی ہے جسکو اللّٰہ بزرگ و برتر نے مجھے چھوٹے بھائی کی شکل میں عنائیت فرمایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلم کو نہ صرف میں آپنے گھر کا فرد تسلیم کرتا ہوں بلکہ اسے آپنا بھائی مانتا ہوں، یہ جس انتھک انداز سے مجھ پر اپنا آپ نچھاور کر رہا ہے اسکا حق صرف دعا کی صورت میں ادا ہو سکتا ہے۔
اسلم عرصہ 5 سال سے میرے ساتھ میری سربراہی میں میک آٹو ٹریڈر (پرائیویٹ لمیٹیڈ) بحریہ ٹاوّن لاہور کے دفتری معاملات کو سنبھالنے کے لئے کام سر انجام دے رہا تھا۔ ان پانچ سالوں میں اسلم کی رفاقت اور مخلص کام نے اسکو میرے دل کے اتنے قریب کر لیا کہ میں اس پر دل و جاں سے فدا ہو گیا اور اسے دفتری معاملات کے ساتھ گھریلو معاملات بھی سُونپ دئیے، جو اُس نے بخوبی نبھائے اور کبھی شکایت کا موقع نہیں دیا، بلکہ اپنے کام سے ہمیشہ مجھے خوش کیا۔
اسلم سرگودھا کے ایک چھوٹے سے گاوّں میں رہتا ہے مگر جس قصبے میں وہ رہتا ہے اسمیں امانتداری، محبت کی چاشنی اور پیار کوٹ کوٹ کر بھرا ہے جہاں یہ سب والدین اپنے بچوں کو گُٹھی میں دیتے ہیں۔ سلام ہے ایسے والدین پر جنھوں نے ایسا بیٹا پیدا کیا اور اس کی ایسی مثالی تربیت کی جس نے اسلم کو ہمالیہ کی پہاڑیوں جیسا اونچا کردار، سمندر کی گہرائیوں جیسی وفاداری اور آسمانوں جیسی اونچائی جیسی ایمانداری دی۔
ابھی کچھ دن پہلے ہی میں کورونا جیسے عذاب میں مبتلا ہوا تھا اور انہی دنوں میں میرے دل میں اسلم کے لئے دل میں عزت اور اہمیت مزید اُجاگر ہوئی۔ یکم دسمبر 2020 کو مجھے کورونا کی وجہ سے قرنطینہ میں جانا پڑا جس کے ساتھ ہی میرا، میرے گھر والوں کا اور اسلم کا امتحان شروع ہوا۔ ان یادِ عذاب دنوں میں میری طبعیت دن بدن بگڑتی جا رہی تھی، بس یہ دن مجھے اسپتال کے آئی سی یو تک لے آئے اور اسلم جو دن رات جاگ جاگ کر میرے لئے پریشان ادھر اُدھر بھٹک رہا تھا، ایک وقت ایسا تھا کہ مجھے خود لگا کہ اب میری واپسی اس دُنیا میں ممکن نہیں مگر شائد یہ اسلم اور سب کی دعائیں ہی تھیں جنہوں نے مجھے آگے جانے سے روک لیا۔
اسپتال جہاں نہ سونے کی جگہ تھی اور نہ ہی مناسب بیٹھنے کی جگہ ،لیکن اس کے باوجود اسلم اسپتال سے کتنے دن بلکل ہلا ہی نہیں۔ اس کی آنکھیں نیند سے سوجی دِکھائی دیتی تھی لیکن وہ مسلسل میری تیماداری، میڈیسن اور ضرورت کی چیزوں کے لئے بھاگ دوڑ کر رہا تھا۔ جس وقت میں زندگی اور موت کی کشمکش میں تھا اُس وقت اسلم نے اپنے جیب خرچ جو اُس نے واپس جانے کے لئے جمع کئے تھے سب دوائیاں اور دیگر اشیاء خریدنے پر صرف کر دئیے وہ بھی ایسے وقت میں جب نظر آ رہا ہو شائد یہ بیمار شخض نہ بچ پاۓ ایسے میں اپنے سب کچھ لُوٹا دینا، ایسے حالات میں یہ سب کچھ کوئی فرشتہ صفت اور نیک انسان ہی ایسا کر سکتا ہے۔
اسلم کی امانتداری اسکے کام کا منہ بولتا ثبوت ہے جو اسے دُنیا سے مخلتف کرتی ہے، اسلم نے میرے بعد میرے گھر کو سنبھالتا ہے بالکل ایسے جیسے یہ اسی گھر میں پلا بڑا ہو، میرے علاج کے دوران مجھے لاکھوں روپوں کی میڈیسن منگوانی پڑی اور ان لاکھوں روپوں کے عوض اسلم نے اپنے ایمان کو ڈولنے نہیں دیا بلکہ میرے صحت کو ہر صورت میں مقدّم رکھا۔
اسلم کی ایمانداری، اونچے کردار، وفاداری اور شرافت کی گواہی گزشتہ پانچ سال جو میں نے اسلم کے ساتھ گزارے ہیں دیتے ہیں۔ آجکل کے دور میں جہاں وفاداری، شرافت ایمانداری جو ڈھونڈنے سے نہیں ملتی بلکہ ناپید سی دِکھائی دیتی ہے ایسے میں اسلم کا ساتھ میرے لئے کسی نعمتِ خدا سے کم نہیں۔ کہتے ہیں یہ دنیا اچھے لوگوں سے قائم ہے لیکن وہ اچھے لوگ ہمارے معاشرے میں شازونازر ہی دِکھائی دیتے ہیں لیکن میری خوش قسمتی کہ ایک ہیرے جیسا شخض مجھے اسلم کے روپ میں ملا۔
کورونا جیسی بلا اور آفت کو شکست دینے کے بعد جب میں اسلم کا تہہ دل سے شکریہ ادا کر رہا تھا تو اسکی وفاداری کے عوض مجھ سے الفاظ ادا نہیں ہو پا رہے تھے لیکن پھر میری آنکھوں نے اسکا شکریہ ادا کرنے کے لئے برسنا شروع کر دیا۔
اسلم تمھارا میری زندگی بچانے میں بہت اہم کردار ہے اور تمھارا میرے ساتھ خلوص اور تعاون اس پیماء کا ہے کہ جسے میں ساری زندگی کبھی فراموش نہیں کروں گا۔ میرے یہ کالم کی صورت میں لکھے الفاظ بھی شائد میرے دل میں تمھارے لئے جذبات ، عزت اور محبت کی مکمل عکاسی نہ کر سکیں مگر پھر بھی شکریہ ادا کرنے کے لئےانہیں تمہاری نظر کر رہا ہوں۔
اسلم تم خوبصورت دل اور خوب سیرت کردار
رکھنے میں اکیلے دیدہ ور ہو جو کہ اپنی زمانے میں نظیر نہیں رکھتے، میری دعا ہے کہ خدائے علی و اعلیٰ تمہیں دُنیا و جہاں کی کامرانیوں سے نوازے۔
بقلم: کاشف شہزاد

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button