کالم

پاکستان کے مسائل اور غلط ترجیحات

کورونا وائرس نے ساری دنیا میں جدید ریاستی ڈھانچے کی کمزور نوعیت کو عیاں کر دیا ہے۔وہ ممالک جنہیں اپنی ٹیکنالوجی، خدمات کی فراہمی کے نظام اور گورننس کے ڈھانچے پر ناز تھا وہ سب کے سب اس عالمی وباء کے قدموں میں منہ کے بل جا گرے۔عالمی سطح پر نظام صحت منہدم ہو جانے کی مصیبت کے علاوہ اس وباء سے جنم لینے والے معاشی اثرات نے مغرب کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ گورننس کی اپنی ترجیحات کادوبارہ جائزہ لے اور اپنے ادارہ جاتی ڈھانچے کی از سر نو تشکیل کے بارے غور کرئے۔
پاکستان میں مسائل کو مرکب بنا دینے میں غیر فعال ریاستی ڈھانچے اور دہائیوں سے اپنائی گئی غلط ترجیحات کا ہاتھ بھی ہے۔ گزشتہ تیس برسوں میں پاکستان میں سرکاری نظامِ صحت میں گراوٹ آئی اور صورتحال مزید گھمبیر ہو گئی کہ اس میدان کے بہترین کوالیفائیڈ اور پیشہ وارانہ دماغ ملک چھوڑ کر چلے گئے۔ان حالات سے فائدہ اُٹھا کر نجی صحت کی انڈسٹری وجود میں آگئی جہاں کافی حد تک مناسب سہولیات دستیاب تو ہیں لیکن یہ سہولیات آبادی کے صرف اُس محدود حلقے کو ہی دستیاب ہیں جو ان کے بھاری بلوں کی ادائیگی کے قابل ہے۔ نظام صحت کا یہ ٹوٹا پھوٹا سا ڈھانچہ جس کے پاس وسائل بہت محدود تھے اوریہ حکومتی عدم توجہی کا شکاربھی تھا اچانک کورونا جیسی عالمی وباء کے چنگل میں پھنس گیا۔ اس سے پاکستان میں ریاستی نظام صحت کی کمزوریاں عیاں ہوگئی بلکہ پالیسی سازی کے نظام میں موجود خلا بھی کھل کر سامنے آ گیا۔ اب یہ ڈھکی چھپی بات نہیں رہی کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم جس کے متعلق بڑے شادیانے بجائے جاتے تھے کی موجودگی میں صحت کے حوالے سے کسی مربوط قومی حکمت عملی کی تشکیل اور اسکے پورے ملک میں یکساں نفاذکی کوئی حقیقی راہ ہی موجود نہیں ہے۔ موجودہ آئینی اور تنظیمی ڈھانچے میں مرکزی حکومت کسی بھی حوالے سے صحت کے اس نظام میں مداخلت نہیں کر سکتی جو صوبے چلاتے ہیں حتیٰ کے صوبے بھی اپنے ہاں موجود صحت کی سہولیات پر کنٹرول نہیں رکھتے کہ ان میں سے بہت سے ادارے مقامی حکومتوں کے دائرہ اختیار میں جاچکے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ کوئی ایک ایسا شخص یا ادارہ موجود نہیں جسے ملک پاکستان میں بسنے والی عوام کو صحت کی سہولیات کی فراہمی اور اس وبائی مرض کی روک تھام کے لیے مو ثر پالیسی تشکیل دینے میں ناکامی کے لیے جوابدہ ٹھہرایا جا سکے۔ یہ بات تو واضح ہے کہ مرکزی اور صوبائی اسمبلیاں کسی بھی طرح سے موجود مسائل کے حل کے لیے کسی متفق علیہ حکمت عملی کی تشکیل میں بالکل غیر متعلق ہیں۔
بد قسمتی سے سیاسی نظام میں موجو د تمام فریقین کو اس مسائل کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے۔متعلقہ مرکزی اور صوبائی حکومتیں اسمبلی کے فلور پر کورونا وائرس کے حوالے سے کوئی بھی واضح پالیسی بنانے میں ناکام ثابت ہوئیں۔اپوزیشن کے پاس بھی کوئی مجوزہ پالیسی یا متبادل موجود نہیں۔ اسمبلی کا اجلاس جب بھی منعقد ہو ااس میں حاضری کم رہی اور یہاں پالیسی کے حوالے سے کوئی معنی خیزمکالمہ یا نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ بدترین امر یہ ہے کہ ابھی تک متعلقہ ایوانوں کے کسی ایک ممبر کی جانب سے بھی کوئی قانونی تجویز اس حوالے سے سامنے نہیں آئی کہ کس طرح مختصر اور طویل مدت میں نظام صحت میں بہتری لانا ممکن ہے۔
گورننس کا موجودہ جمہوری نظام ہمارے پاکستان میں قابل ِ عمل ہی نہیں۔مثال کے طور پر قومی اسمبلی جو پارلیمانی سیاست کا گڑھ ہے بدترین صورتحال پیش کرتی ہے۔ گزشتہ تین برسوں میں جب سے پانامہ لیکس سامنے آئی ہیں قومی اسمبلی کی کارروائی کا صر ف ایک ہی مقصد نظر آیاہے کہ پاکستان کی اشرافیہ کی دولت کا دفاع کس طرح کیا جائے۔ اسی طر ح پنجاب اسمبلی کا فلور بھی گزشتہ چند برسوں سے دھرنوں اور واک آؤٹ کی نمائش گاہ بنا ہوا ہے۔مسلم لیگ نواز کے دور میں پی ٹی آئی کے ممبران نے شاید ہی کسی قسم کی قانون سازی ممکن ہونے دی اور اس کی بجائے اُنہوں نے ایوان کی سیڑھیوں پر طویل دھرنوں کو ترجیح بنائے رکھا۔ اب جب سے پی ٹی آئی کی حکومت آئی ہے، پی ایم ایل این اور دیگر جماعتوں نے یہ وتیرہ اپنا لیا ہوا ہے۔
سندھ میں صورتحال اس سے بھی زیادہ خراب ہے۔ سیاسی مخالفین کے مابین زبانی بد کلامی اور جسمانی حملوں کا نظارہ اسمبلی اجلاس کے دوران اکثر دیکھنے کو ملتا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکین اسمبلی جنکا ایجنڈا اپنی حکومت کا قانونی عمل آگے بڑھانا ہونا چاہیے اسمبلی میں اپنی تقاریر کو زرداری کی ذاتی دولت کے جواز اور اومنی گروپ کے کاروبار ی حربوں کی صحیح ثابت کرنے کے لیے استعمال کرتے دکھائی دیتے تھے۔اس سب کچھ کے دوران تھر میں بچے بھوک سے دم توڑتے رہے، سارے دیہی سندھ میں لاقانونیت پروان چڑھتی رہی، ایڈز نے لاڑکانہ میں معصوموں کو اپنا شکار بنایا، ابھی بھی سندھ میں کئی جگہوں پر کُتے کے کاٹنے کی ویکسین دستیاب نہیں اور چند دن کی بارش کراچی شہر کی گلیوں کو بیماری پھیلانے والے کوڑے دان میں تبدیل کر دیتی ہے۔ اہم ترین بات یہ ہے کہ اسی عرصے میں اسمبلی نے کئی پندرہ بلین روپوں کے اخراجات کی منظوری دی اور اسکے بدلے دکھانے کو زمین پر کچھ بھی موجود نہیں۔
اب وہ وقت ہے کہ حکومتوں کو اپنی توجہ ذاتی مال و دولت کے دفاع سے ہٹا کر مجموعی فلاح و بہبود پر مرکوز کرنا ہوگی اور گورننس کے نظام کی تشکیل نو کر کے زیادہ فعال اور نتیجہ خیزآئینی فریم ورک اس میں داخل کرنا ہوگا کیونکہ اگر ہمارے آئین اور قانون میں خاص طرح کی سٹرکچرل تبدیلیاں کی جائیں تو پاکستان میں جمہوریت نظام بہتر طور پر چل سکتا ہے اور اگر ایسا نہ ہوا تو پاکستان اس جمہوریت کے ثمرات سے فائدہ حاصل نہیں کر سکتا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button