کالم

بجٹ 21-2020 کچھ پسِ پردہ حقیقتیں

اگلے مالی سال کے بجٹ کی تیاریاں ان دنوں عروج پر ہیں۔ صلاح مشورے ہو رہے ہیں، اعدادو شمار اکٹھے کیے جا رہے ہیں، اندازے اور تخمینے لگائے جا رہے ہیں کہ کون سا منصوبہ شروع ہونا چاہیے اور کس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے رقم مختص کی جانی چاہیے۔ اسی تناظر میں پارلیمنٹ کا اجلاس بھی شروع ہونے والا ہے چنانچہ وفاقی بجٹ بہت جلد ہمارے سامنے ہوگا اور اس کے بعد چند ہی روز میں تمام صوبوں کے بجٹ بھی پیش کر دئیے جائیں گے۔ یہ واضح ہو جائے گا کہ عوام کے لیے ان بجٹوں میں کیا ہے اور اگلا مالی سال ملک و قوم کے لیے کیا تبدیلیاں لائے گا۔
ویسے تو ہر سال بجٹ کے بارے بہت کچھ عام عوام کی سمجھ سے باہر ہوتا ہے لیکن محسوس ہوتا ہے کہ اس مرتبہ کرشمے، معجزے اور کرتب جو ہر سال دیکھنے کو ملتے ہیں وہ نظر آنا مشکل ہیں۔ کیونکہ ان کرشموں کے لیے اعدادوشمار کا گورکھ دھندہ جیسے الفاظ استعمال کئے جاتے تھے جو کہ کورونا وائرس کی وجہ سے اب استعمال کرنا مشکل ہے۔ ٹیکسوں کے بارے مشیر خزانہ عوام کو پہلے ہی نوید دے چکے ہیں کہ اس سال ہمارے یہ شجرِ ممنوعہ ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا واقعی اس سال کوئی نیا ٹیکس عوام پر لاگو نہیں ہوگا؟ یہ ظاہر ہے کہ سال بھر کا بجٹ تیار کرنا اتنا بھی سادہ اور آسان کام نہیں کیونکہ کچھ بڑے زمینی حقائق میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بطور قوم ہم پر چڑھے قرضے چار ہزار ارب روپے سے تجاوز کر چکے ہیں، چنانچہ مالی سال کے دوران ہدف جو چاہیں مقرر کر لیں معاشی صورت حال کے پیشِ نظر اس ہدف کو حاصل کرنا ناممکن سے بھی کچھ آگے والا معاملہ ہوگا  کیونکہ نہ تو رواں مالی سال کے لئے اہداف حاصل کرنا ممکنات میں رہا ہے اور نہ ہی آئندہ سال کے لیے جو اہداف مقرر کئے جائیں گے انکے پورا ہونے کو امکانات کا موضوع بنایا جا سکتا ہے۔اسکی دو بڑی واضح اور موٹی وجوہات یہ ہیں کہ ہمارے ہاں سال بھر کی آمدنی اور اخراجات کے اہداف مقرر کرتے ہوئے کبھی زمینی حالات کو پیشِ نظر نہیں رکھا جاتا جس سے اکثر آمدنی کم اور اخراجات زیادہ ہوتے ہیں اور خسارے کا بجٹ پیش کر دیا جاتا ہے۔ یہ تصور کر لیا جاتا ہے کہ فلاں فلاں مدوّں سے آمدنی حاصل ہوگی تو فلاں فلاں اخراجات پورے کر لیے جائیں گے لیکن ہوتا یہ ہے کہ نہ تو ٹیکسوں کے ذریعے ریونیو اکٹھا کرنے کا ہدف پورا ہوتا ہے اور نا ہی فلاں فلاں مدوّں والی آمدنی ہی حاصل ہو پاتی ہے چنانچہ مالی سال کا اختتام بہت سی آرزوں اور حسرتوں میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
اسکی دوسری وجہ کورونا وائرس کی وجہ سے معاشی سرگرمیوں میں پیدا ہونے والی سُستی ہے جسکے غیر معینہ مدت تک قائم رہنے کا اندیشہ ہے۔ آمدن کی مد میں آئندہ مالی سال میں حکومت کے حالات کا رواں سال کی نسبت بہتر ہو جانے کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے کیونکہ ہمارے چند اخراجات ایسے ہیں جو پتھر پر لکیر کے مترادف ہیں جن میں کمی ممکن نہیں۔ان میں قرضوں پر سود کی ادائیگیاں، دفاع پر اٹھنے والے اخراجات، تنخواہیں اور پینشنیں شامل ہیں۔ یہ تو ملک کے سب سے بڑے اخراجات ہیں مگر ان کے علاوہ دیگر اخراجات بھی اسی نوعیت کے ہیں کہ جن میں کمی کرنا محال بلکہ ناممکن ہے۔ ان اخراجات میں وہ جرمانے بھی شامل ہیں جو قوم کو ہر سال سرکاری اداروں کو دینا پڑتے ہیں ان اداروں میں، پی ائی اے، ریلوے اور اسٹیل ملزوغیرہ شامل ہیں اسکے علاوہ گردشی قرضوں کا بوجھ بھی ا±نہی اخراجات میں شامل ہے جو کسی صورت کم نہیں ہو سکتا۔ اتنے خراب معاملات کے باوجود تنخواہوں اور پینشنوں میں تیس فیصد تک اضافے کی خبریں تیزی سے گردشیں کرتی نظر آ رہی ہیں۔ ماضی پر اگر نظر ڈالیں تو دس فیصد سے کم تنخواہوں میں اضافہ حکومت اپنے لیے باعث شرمندگی سمجھتی تھی یعنی سو ارب روپے کا اضافہ بوجھ اٹھانا باعث فخر تھا جو کہ صرف ایک مد کی مثال ہے۔ یہ ساری صورتحال ویسی ہی ہے جیسی گزشتہ برس تھی کیونکہ تب بھی ہمارے ارباب بست و کشاد اسی طرح سر جوڑے سوچوں میں گم تھے۔ ہماری حکومتوں کو کبھی یہ احساس نہیں رہا کہ ہمارے وسائل اور اخراجات کیا ہیں اور ان میں توازن کیسے قائم کرنا ہے تاکہ ہمیں مزید قرضوں کے لیے دستِ طلب دراز نہ کرنا پڑے۔ یہ بات سچ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت مالی معاملات میں عام طور پر اس غیر ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کر رہی جو سابقہ حکومتوں کے دورہ حکومت کے دوران دیکھنے میں آتا رہا لیکن وزرا، مشیروں اور خصوصی معاونین کی وفاق اور صوبوں میں فوج دیکھیں تو انسان سوچ میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ ہماری زبوں حالی کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنے یہی اخراجات کم کریں جو مشیروں اور معاونین کے توسط سے ضائع ہو رہے ہیں۔ ہمیں وہ اخراجات بھی کم کرنے ہیں جنہیں کم کرنے میں کوئی بین الااقوامی معاہدہ آڑے نہ آ سکے ایسا کرنے سے ہی حکومت ایک معتدل بجٹ پیش کر سکتی ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button