کالم

قاتل ڈور اور ہمارے روئیے

آج دنیا میں کئی قسم کے قاتل ہیں ان میں سے کچھ قیدی اور باقی آزاد ہیں۔ ہمارا قانون صرف اسکو قاتل اور سزاوار مانتا اور سمجھتا ہے جو بارود، زہر یا کسی اوزار سے انسا ن کو جان سے مار دے لیکن جو سرمایہ دار انسانوں کو بھوک سے موت کے گھاٹ اُتار تے ہیں انہیں کوئی قاتل نہیں کہتا۔ منشیات فروش اور جعلی ادویات کی تیاری اور انکی تجارت میں ملوث افراد بھی خاموش قاتل ہیں۔ دودھ سمیت ضروریات زندگی میں ملاوٹ کرنا انسان کی رگ رگ میں زہر اُتارنے کے مترادف ہے دنیا میں انکا محاسبہ ہو نہ ہومگر روزِ محشریہ لوگ بھی قاتل افراد کی قطار میں کھڑے ہوں گئے۔
حکومت کی طرف سے ملک بھر میں پتنگ سازی اور اسکے اُرانے پر پابندی عائد ہے مگر پھر بھی پنجا ب بھر میں پتنگ سازی، پتنگ بازی اور منشیات فروشی کے سبب متعدد قیمتی جانوں کا ضیاع ایک قومی سانحہ ہے۔میڈیا کہتا ہے کہ قاتل ڈور نے کسی شاہراہ پر شہری کی شہہ رگ کاٹ دی اور اسے موت کے گھاٹ اُتار دیا جبکہ حقیقت میں ڈور نہیں اُسے بنانے، بیچنے اور اُڑانے والے تینوں کردار بلکہ اپنے بچوں، ہمسایوں اور محلہ داروں کو اس خونخوار شوق سے نہ روکنے والے شہری بھی خاموش قاتل ہیں۔

معاشرے کو درد دینے والے شر پسند ہر گز ہمدردی یا رحم کے قابل نہیں ہو سکتے۔ ماں، باپ، بہن، بھائی، عزیزو اقارب، دوست، محلے دار، علماء حضرات، اساتذہ اور منتخب نمائندے کیوں پتنگ سازی اور پتنگ بازی روکنے کے لیے اپنا کردار ادا نہیں کرتے۔ جہاں قاتل ڈور تیار ہوتی ہے ان مقامات کو کیوں سیل نہیں کیا جاتا، مقامی لوگ کیوں ان کا محاسبہ، گھیراؤیا پولیس کو اطلاع نہیں کرتے۔ اگر ہر کام پولیس نے کرنا ہے توپھر معاشرے کے دوسرے طبقات کس مرض کی دوا ہیں۔پتنگ سازی کو کاروباراور روزگار قرار دیناانتہائی جہالت ہے کیونکہ اگر پیسہ ہی دین ایما ن ہے تو پھر ڈاکٹر اور ڈاکو میں کوئی فرق نہیں۔
مہذب معاشروں میں پتنگ سازوں یا پتنگ بازوں کی نہیں بلکہ تن سازوں کی پذیرائی ہوتی ہے۔ تاریخ پتنگ سازوں کو نہیں بلکہ سرفروشوں کو یاد رکھتی ہے۔ پتنگ سازی نے پتنگ بازی کو جان کی بازی بنا دیا، قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ مٹھی بھر افراد کو اپنے شوق کے لیے معاشرے کو تختہ مشق بنانے کی اجازی یا آزادی ہر گز نہیں دی جاسکتی۔ ا سکے لیے حکومت کے ساتھ ساتھ معاشرے کے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button