کالم

بجٹ 21-2020 اور سپر کورونا ٹیکس کا انعقاد

ایف بی آر ذرائع سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ آنے والے بجٹ میں حکومت کی امیر ترین لوگوں کی دولت اور ان کے ٹیکس ادا شدہ اثاثوں پر سپر کورونا ٹیکس لگانے کی تجویزہے،جس میں بڑی تنخواہ والے افراد بھی شامل ہیں۔ کورونا وائرس سے ملکی معاشی گروتھ میں 1.5 فیصد کمی اور ریونیو وصولی میں تقریباََ900ارب روپے کی کمی کے پیشِ نظر حکومت زیادہ آمدنی والے افراد پر سپر کورونا ٹیکس لگا کر ریونیو ہدف حاصل کرنا چاہتی ہے جس کے لیے گھریلو اور کمرشل ریئل اسٹیٹ جسکی مالیت2کروڑ روپے سے زائد ہو یا پاکستان میں رجسٹرڈ30 لاکھ کا مکان 1000 سی سی کی گاڑیاں اور 30سے 40ہزار اسٹاک ایکسچینج کے شیئرز رکھنے والوں پر 10 فیصد ویلتھ ٹیکس لگانے کی تجویزہے۔ ویلتھ ٹیکس لوگوں کے اثاثوں، بینک ڈپازٹس، ریئل اسٹیٹ، انشورنس اور پینشن پلان پر عائد کیا جاتا ہے۔2001 کے انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 116 کے مطابق ہر شخص کو انکم ٹیکس ریٹرن فائل کرتے وقت اپنی ویلتھ ا سٹیٹمنٹ جسکی مالیت 10 لاکھ روپے سے زائد ہو جمع کرانا پڑتی ہے، حکومتی ایمنسٹی سکیموں سے فائدہ اٹھانے والے افراد نے اپنے بیرون ملک غیر ظاہر شدہ اثاثوں کی مکمل تفصیل ویلتھ اسٹیٹمنٹ میں ظاہر کی تھی جس کے بعد اب وہ اپنے بیرونی اثاثے بھی اپنی ویلتھ ٹیکس میں ظاہر کرتے ہیں جس پر آنے والی بجٹ میں سپر کورونا ویلتھ ٹیکس لگانے کی تجویز ہے۔معاشی ماہرین کے مطابق ویلتھ ٹیکس سے قومی بچت،سرمایہ کاری اور صنعت کاری پر منفی اثرا ت پڑتے ہیں یہی وجہ ہے کہ پوری دنیا میں سوائے4 یورپی ممالک کے تما م ممالک نے ویلتھ ٹیکس ختم کر دیا ہے جبکہ بھارت نے بھی 2016 میں ویلتھ ٹیکس کا خاتمہ کیا ان حالات میں پاکستان کا دوبارہ ویلتھ ٹیکس عائد کرنا سمجھ سے بالا تر ہے۔پاکستان کے ٹیکس نظام کا جائزہ لیا جائے تو ملک میں دو قسم کے ٹیکس براہ راست اور بالواسطہ(ڈائریکٹ اور اِن ڈائریکٹ) نافذ ہیں، براہ راست ٹیکس میں انکم ٹیکس، پراپرٹی ٹیکس،کیپیٹل گین ٹیکس، تنخواہوں میں ٹیکس شامل ہے۔
جبکہ بالواسطہ ٹیکس میں سیلز ٹیکس،ایڈوانس ٹیکس،ایکسائز ڈیوٹی، ود ہولڈنگ ٹیکس اور ٹر ن اوور ٹیکس شامل ہیں۔دنیا میں حکومتیں اور فلاحی ریاستیں 75سے 80 فیصد ریونیوڈائریکٹ ٹیکسزکی مد میں وصول کرتی ہیں جبکہ صرف20سے 25 فیصد اِن ڈائریکٹ ٹیکسز کے مد میں وصول کرتی ہیں،مگر پاکستان میں اس کے بر عکس نظام چل رہا ہے۔یہاں حکومت 65سے70 فیصد ریونیو اِن ڈائریکٹ ٹیکسز سے حاصل کرتی ہیں، حکومت نے ود ہولڈنگ ٹیکس کو براہ راست ٹیکسز میں شامل کیا ہوا ہے لیکن اگر ود ہولڈنگ ٹیکس کی آمدنی ڈائریکٹ ٹیکسز سے نکال دی جائے تو حکومت کی تقریباََ90 فیصد آمدنی اِن ڈائریکٹ ٹیکسز سے حاصل ہوتی ہے جو ایک المیہ ہے کیونکہ جدید دور میں دنیا میں اِن ڈائریکٹ ٹیکسز کی بجائے ڈائریکٹ ٹیکسز کو فروغ دیا جا رہا ہے جبکہ پاکستان میں اِن ڈائریکٹ ٹیکسزکے بوجھ سے عوام کا جینا محال ہے کیونکہ اِن ڈائریکٹ ٹیکس غریب اور امیر میں تمیز نہیں کرتا۔
پاکستان کی 22 کروڑ آبادی میں سے جو 8سے 13 لاکھ افرادٹیکس ادا کرتے ہیں جو آبادی کا نصف فیصد سے بھی کم ہے ترقی یافتہ ممالک میں یہ شرح15سے 40فیصد تک ہے۔ اسکے علاوہ اگر ہم ملکی معیشت کے تینوں شعبوں انڈسٹری (صنعت)،سروس سیکٹر(خدمات) اور ایگریکلچر(زراعت) کا ملکی جی ڈی پی میں ٹیکس کی شرح کے تناسب میں موازنہ کریں تو ہمارا صنعتی شعبہ جس کا جی ڈی پی میں حصہ 21 فیصد ہے،70 فیصد ٹیکس ادا کرتا ہے، اور سروسز سیکٹر جسکا ملکی جی ڈی پی میں حصہ 60 فیصد ہے29 فیصد ٹیکس ادا کرتا ہے جبکہ ہمار ا زرعی سیکٹرجسکا ملکی جی ڈی پی میں حصہ 19 فیصد ہے ایک فیصد سے بھی کم ٹیکس ادا کرتا ہے۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہماری معیشت کے شعبے اپنے تناسب سے ٹیکسوں کی ادائیگی نہیں کرتے۔دیگر شعبوں کے مقابلے میں انڈسٹریل سیکٹر پر ٹیکسوں کا اضافی بوجھ ڈالا گیا ہے جو انڈسٹری کی مقابلاتی سکت کو متاثر کر رہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ وزیرِ اعظم کے تھنک ٹینک نے اپنی حالیہ رپورٹ میں سیلز ٹیکس کی شرح کو 17فیصد سے 12 فیصد کرنے کی تجویز دی ہے۔
ماضی میں پاکستان میں مختلف ادوارِ حکومت میں کچھ غلط فیصلے کئے گئے جس کے نتائج آج بھی قوم بھگت رہی ہے جس میں صنعتوں کا قومیا ئی(پاک روپیز) اور فارن کرنسی اکاونٹ منجمد کرنا شامل ہیں۔ میرے نزدیک ویلتھ ٹیکس کا نفاذ حکومت کی تیسری بڑی غلطی ہو گی جس سے کیپیٹل کا انخلاءاور نئی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ حکومت کو چاہیے کہ کورونا وائرس کی صورتحال کے پیشِ نظر لوگوں پر دوبارہ ویلتھ ٹیکس عائد کرنے کی بجائے ان کمپنیوں جن کا سالانہ منافع 50کروڑ سے زائد ہو پر ایک بار 2 فیصد سپر ٹیکس لگا دیں تاکہ ویلتھ ٹیکس دوبارہ لگانے سے ملک میں صنعتکاری اور نئی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی نہ ہو۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button