کالم

‎مہنگائی سے غربت اور کرائم کیسے جنم لیتے ہیں

عالمی بینک کی تازہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی 80فیصد غریب آبادی دیہی علاقوں میں رہتی ہے اور ملک کے تمام صوبوں میں سے سب سے زیادہ غربت بلوچستان کے دیہی علاقوں میں ہے۔ پاکستان کے لئے یہ بات بھی کم تشویشناک نہیں کہ اگلے سال کے دوران بھی ملک میں اقتصادی ترقی کی شرح بہت کم رہنے کی توقع ہے۔ حکومت اپنے طور پر ملکی اقتصادی صورتِ حال میں بہتری کی کوششیں کر تو رہی ہے لیکن یہ کاوشیں بظاہر بہت کامیاب ہوتی نظر نہیں آ رہیں۔ غربت کے حوالے سے جو عوامی آرا سامنے آئی ہیں انکے مطابق ہر چیز اتنی مہنگی ہو گئی ہے کہ وہ جو کچھ بھی کماتے ہیں وہ کھانے پینے پر خرچ ہو جاتا ہے۔ بجلی پانی، گیس کے بلوں، بچوں کی فیسوں، خوراک کی خریداری میں سے آپ کیا اور کہاں سے بچت کر سکتے ہیں؟ جہاں پیٹ پالنا مشکل ہو وہاں بچت کیسی؟
عوام کا کہنا ہے کہ ہم مسلسل پریشان رہتے ہیں کہ ہماری آمدن کم اور اخراجات بہت زیادہ ہو چکے ہیں۔ ہم نے تو بیماری کی صورت ڈاکٹروں کے پاس جانا چھوڑ دیا ہے کیونکہ ادویات انتہائی مہنگی ہو چکی ہیں۔ ملکی تاریخ میں سبزیاں دالیں یہاں تک کہ ہر وہ چیز جس سے انسانی زندگی کی بقاء جڑی ہے مہنگی ہو چکی ہیں۔
پاکستان میں اقتصادی ترقی کی شرح موجودہ حکومت کے دور میں گزشتہ حکومت کے مقابلے میں کم ہو کر قریباٙٙ آدھی رہ گئی ہے اور اس کے بارے معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اقتصادی ترقی کے کم ہونے کی بنیادی وجہ مہنگائی ہے۔ پاکستان میں امیر طبقہ خوراک پر اپنی آمدن کا شاید 20سے 30فیصد تک خرچ کرتا ہے لیکن متوسط یا نچلے طبقے کے شہریوں کی بہت بڑی تعداد اپنی آمدن کا 70سے80 فیصد تک زندہ رہنے کے لئے خوراک پر خرچ کرتے ہیں۔ جب اشیاء خورد و نوش کی قیمتیں تیزی سے بڑھتی ہیں تو کم آمدن والا طبقہ غربت کی لکیر سے نیچے جانا شروع ہو جاتا ہے۔ پاکستان میں گزشتہ ایک سال سے جس تیزی سے مہنگائی زیادہ ہوئ ہے وہ صرف اس ایک وجہ سے ہی ہوئی ہے۔
اس سلگتے مسئلے کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں دو طرح کے فوری اقدامات کرنا ضروری ہیں ایک یہ کہ حکومت کسی طرح عام شہریوں کی اقتصادی قوتِ خرید بڑھائے تاکہ عوام کے پاس قابلِ استعمال مالی وسائل زیادہ ہوں۔ دوسری بات یہ کہ شرح سود میں کمی لائی جائے۔ صنعتی شعبے پر قرضے اتنے زیادہ ہو گئے ہیں کہ کاروباری طبقہ اپنے کاروبار اور فیکٹریاں بند کرنے پر مجبور ہوتا جا رہا ہے۔
ملک بھر میں غربت، مہنگائی اور بیروز گاری کی وجہ سے کرائم ریٹ میں بھی بہت بھی بہت زیادہ اضافہ ہو گیا ہے۔ جسکی وجوہات کا ذکر کرتے ہوئے کرمنالوجسٹ کا کہنا ہے کہ جمہوریت کا حُسن یہ ہے کہ اس کی بہترین صورت میں وسائل کی تقسیم اوپر سے نیچے تک ہوتی ہے لیکن پاکستان میں ایسا ہوتا نظر نہیں آتا نتیجتاٙٙ وسائل کی اسی نا مناسب سماجی تقسیم کے باعث معاشرے میں غربت، بے چینی اور مایوسی اور افراتفری پھیلتی ہے اور پھر بیروزگاری اور ایسے ہی دیگر عوامل کے باعث چوری، قتل، دھوکا دہی اور دیگر جرائم میں اضافہ ہوتا ہے۔‎ماہر اقتصادیات کا غربت کے خاتمے کے بارے میں کہنا ہے کہ ملک سے غربت اور کرائم کا خاتمہ تب ہوگا جب روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گئے، عوام کو زیادہ تر مالی وسائل دستیاب ہوں گے اور افراطِ زر کی شرح بھی قابو میں رہے گی۔ اگر یہ تین عوامل قابو میں نہ آئے تو سماجی افراتفری بھی بڑھے گی غربت بھی اور کرائم بھی۔
بقلم: کاشف شہزاد

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button