Cars

پاکستان میں سیکنڈ ہینڈ جاپانی گاڑیوں کا مستقبل

پاکستان بیورو برائے شماریات (پی بی ایس) کے جاری کردہ اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ پاکستان میں استعمال شدہ کار کا 90 فیصد سے زیادہ پر مشتمل مکمل بلٹ اپ یونٹس (سی بی یو) کے لئے درآمدی بل 74 فیصد سے کم ہوکر 9.5 ملین ڈالر رہ گیا ہے جو 37 ملین ڈالر تھا۔

اس صورتحال میں سب سے اہم کردار حکومتی پالیسیوں کا ہے۔ جو کہ حکومت نے اس سہولت کے غلط استعمال کی وجہ سے نافذ کرنے کا فیصلہ کیا مگر آل پاکستان موٹر ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ایچ ایم شہزاد کا کہنا ہے کہ:

 “موجودہ قوانین کے تحت استعمال شدہ کاروں کی درآمد ممکن نہیں ہے۔ حکومت کسٹم ڈیوٹی کے لحاظ سے بڑی آمدنی سے محروم ہوجائے گی”۔

 حکومتی پالیسی کے مطابق درآمد شدہ گاڑیوں (نئی اور استعمال شدہ حالت میں) پر ڈیوٹی اور ٹیکس ، ذاتی سامان یا تحفہ اسکیم کے تحت پاکستانی شہریوں کے ذریعہ ترتیب دیئے گئے غیر ملکی زرمبادلہ کی ادائیگی خود یا مقامی وصول کنندگان کو بینک انکشمنٹ سرٹیفکیٹ کے ذریعہ کی جاتی ہے ، جو غیر ملکی ترسیلات کو مقامی کرنسی میں تبدیل کرتے ہوئے ظاہر کرتی ہے۔

وزارت کے حکم کے مطابق ، ڈیوٹی اور ٹیکس کی ادائیگی کے لئے ترسیلات زر کا اخراج اب بیرون ملک سے گاڑی بھیجنے والے پاکستانی شہری کے کھاتے سے ہونا چاہئے۔ یہ رقم بیرون ملک سے بھیجنے والے پاکستانی شہری کے اکاؤنٹ میں وصول کی جاسکتی ہے یا  اس کے اکاؤنٹ کی عدم موجودگی کی صورت میں اس کے کسی   فیملی ممبر کے اکاؤنٹ سے رقم وصول کی جائے گی۔

دوسری طرف حکومت پاکستان، الیکٹریکل وہیکلز کے لیئے مراعات کا اعلان کر رہی ہے اور پاکستان کی آٹو موٹو ڈویلپمینٹ پالیسی 2016-2021 اور چین پاکستان اقتصادی راہداری کی وجہ سے نئے آٹو موبائل برانڈز پاکستانی آٹو مارکیٹ میں داخل  ہو رہے ہیں۔

ان تمام حقائق کی روشنی میں پاکستان میں سیکنڈ ہینڈ جاپانی گاڑیوں کا مستقبل بہتر دکھائی نہی دیتا ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Check Also
Close
Back to top button