کالم

صنعت و زراعت کی ترقی سے مہنگائی اور روزگاری پر کنٹرول

اللّٰہ ربُّ العزت کا عظیم احسان ہے کہ اُس نے ہمیں پاکستان جیسا خوبصورت اور قدرتی دولت سے مالا مال ملک دیا ہے۔ وطنِ عزیز پاکستان میں چار موسم اور بارہ مہینے ہیں ہر مہینے کا اپنا اثر اور مزاج ہے جو کہ بہت اہمیت کا حامل ہے۔ وطن عزیز میں تقریباٙٙ ہر قسم کے پھل، سبزیاں اور فصلیں پیدا ہوتی ہیں۔ ہمارے ملک میں معدنیات کے وسیع ذخائز موجود ہیں۔ پاکستان میں سمندر، دریا، پہاڑ اور میدان سب موجود ہیں۔ ہمارے لوگوں میں اپنے ملک کی چاہت اپنے وطن سے پیار اور دھرتی سے محبت کا جذبہ موجود ہے، سب چیزیں موجود ہونے کے باوجود ہمارا ملک پسماندہ ہے اور ملک میں مہنگائی اور بےروزگاری کی شرح دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔
پاکستان میں افراطِ زر یعنی مہنگائی سے حکومت اور عوام دونوں پریشان ہیں۔ افراطِ زر چیزوں کی مجموعی قیمتوں میں اضافے کو کہتے ہیں۔ مجموعی اشیاء کی اوسط قیمت بڑھ جانے سے افراطِ زر میں اضافہ ہوتا ہے۔ افراطِ زر میں اضافے کی دو وجوہات ہیں
ایک کو کاسٹ پُش انفلیشن جبکہ دوسری کو ڈیمانڈ پل انفلیشن کہتے ہیں۔
خام مال کی قیمت یا اجرت زیادہ لگے تو اسکا خرچہ زیادہ ہونے کی وجہ سے قیمت میں اضافہ ہو جاتا ہے اسکو کاسٹ پُش انفلیشن کہتے ہیں۔ جبکہ مارکیٹ میں مال کم ہو لیکن خریدار زیادہ ہوں اور گاہگ اشیاء کی زیادہ قیمتیں دینے کو تیار ہوں تو اسکو ڈیمانڈ پُل انفلیشن کہتے ہیں۔ ہمارے ملک کی برآمدات اور اور درآمدات میں بہت زیادہ فرق پایا جاتا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ کریں اوردرآمدات میں کمی کریں ، ایسا حکومت اور عوام کر سکتی ہے۔ اس کے لئے کاسٹ پُش انفلیشن پر توجہ دینی ہوگی۔ حکومت نے صنعتوں پر ٹیکسوں کا بوجھ لاد دیا ہے۔ لا تعداد مسائل اور اخراجات کی وجہ سے پیداواری لاگت بڑھ جانے سے تیار مصنوعات مہنگی ہو جاتی ہیں جبکہ عالمی لیول پر مقابلہ کرنے کے لئے مصنوعات کا سستا ہونا ضروری ہے۔ سعی کرنی چاہیے کہ مصنوعات کی تیاری پر کم لاگت آئے اس کے لئے ہمارے پاس دوست ملک چائینہ کی مثال موجود ہے اور انکے فارمولے پر عمل بھی کیا جا سکتا ہے۔ آپ صنعت کاروں کی حوصلہ افزائی کریں، صنعت کاروں کو بجلی و دیگر توانائی کے ذرائع کی قیمتوں اور ٹیکس میں ریلیف دیں۔ اگر حکومت صنعتوں کو کم قیمت پر بجلی دے گی تو مصنوعات پر لاگت کم آئے گی۔ ہر نئی فیکٹری پر پہلے پانچ سال ٹیکس معاف کریں اس سے صنعت کاروں کے حوصلے میں اضافہ ہو جائے گا اور وہ وطنِ عزیز میں مزید فیکٹریاں لگائیں گے۔ فیکٹریاں اور کارخانے لگانے کے متعدد فائدے ہیں جن میں بے روزگاری کا کم ہونا، مصنوعات کا زیادہ تیار ہونا، درآمدات میں کمی اور برآمدات میں اضافہ، زرِ مبادلہ میں اضافہ، پاکستانی روپے کی قدر میں اضافہ، لوگوں کی آمدن میں اضافہ اور مہنگائی پر کنٹرول نمایاں ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان بنیادی طور پر زرعی ملک ہے، اس لئے صنعتوں کے ساتھ ساتھ وطنِ عزیز کے زراعت کے شعبے پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں زرخیز زرعی زمینوں کو ہاوسنگ اسکیموں کی نذر نہیں کرنا چاہیے، گذشتہ بیس سالوں سے لاکھوں ایکڑ زرخیز زرعی زمین ہاوسنگ اسکیموں کی نذر ہو چکی ہیں۔ اور اس میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ اس سے پاکستان اور نئی نسل کے لئے گھمبیر مسئلہ بنے گا اس کے لئے حکومت کو پالیسی بنانی چاہیے کہ ہاوسنگ اسکیمیں اور صنعتیں زرخیز زرعی زمینوں کی بجائے بنجر زمینوں پر بنائی جائیں اور جو لوگ اس شعبے میں روپے کی سرمایہ کاری کرتے ہیں وہ ہاوسنگ اسکیم شعبہ کی بجائے صنعتی شعبے میں لگائیں۔
عوام کو بھی چاہیے کہ وہ ہر صورت ملکی مصنوعات کا استعمال کریں تاکہ پاکستانی کرنسی کی قدر میں اضافہ ہو سکے، کیونکہ جب عوام اپنے ملک میں بنی اشیاء خریدیں گے تو پیداوار میں اضافہ ہوگا جس سے صنعت کار مزید سرمایہ کاری کرئے گا اس سے بے روزگاری میں کمی آئے گی اور لوگ خوشحال ہونا شروع ہوں گے۔
بقلم: کاشف شہزاد

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button