کالم

تمباکو نوشی ضرور کریں مگر۔۔۔

تمباکو نوشی تاریخ کے اعتبار سے کافی پُرانی روایت ہے مگر برصغیر میں تمباکو نوشی مغل بادشاہ شاہ جہان کے دور سے شروع ہوئی۔ یورپ کے کچھ باشندے اس بلا کو اپنے ساتھ سیاحت کی غرض سے بر صغیر میں لائے اور اس کو پھیلا کر واپس چلے گئے۔ انیسویں صدی کے آخر میں مسلم فقہانے نے اسے حرام قرار دیا جس کے بعد بہت سے اسلامی ممالک میں اسکا استعمال ممنوع ہو گیا ان اسلامی ممالک میں تب مصر سرِ فہرست تھا۔
اس دور میں تمباکو نوشی ایک وباء کی مانند ہر طرف پھیل چُکی ہے۔ ہر عمر اور ہر مصنف کے لوگ اس بُری لٙت میں پڑتے جا رہے ہیں۔ یونیورسٹیوں اور کالجوں کے طالب علم بھی سگریٹ نوشی جیسی لعنت میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ تمباکو نوشی کا آغاز پہلے پہل تفریح، طبع، اور تجسس سے ہوتا ہے، لوگ محض شُغل کے طور پر اسے اپناتے ہیں انکے خیال سے دو چار کٙش لگانے سے کیا فرق پڑ جائیگا، یا دو چار سگریٹ پی کر چھوڑ دیں گے۔ لیکن ایسا ہوتا نہیں، لوگ آہستہ آہستہ عادی ہو جاتے ہیں اور اسے فیشن سمجھ کر اختیار کر لیتے ہیں۔
اسکے بڑھنے کی ایک وجہ ہمارے ذرائع ابلاغ بھی ہیں جو سگریٹ نوشی کے حوالے سے بھرپور تشہیری مہم چلاتے ہیں۔ ریڈیو، ٹیلی ویژن اور اخبارات و رسائل میں سگریٹ کے اشتہارات کی بھرمار ہوتی ہے۔ اسی اشتہار بازی کے نتیجہ میں لا محالہ طور پر لوگ سگریٹ نوشی کو اپنی اُلجھنوں اور مسائل سے نجات کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ سگریٹ نوشی ممکن ہے کہ لوگوں کو وقتی طور پر سکون دیتی ہو لیکن یہ سراسر نفسیاتی کیفیت ہوتی ہے۔ سگریٹ نوشی ابتداء میں سکون لاتی ہے اور بعد میں وبالِ جان بن جاتی ہے۔ سگریٹ نوش سگریٹ کے بغیر زندہ نہیں رہ پاتا اور یوں وہ ہمیشہ کے لئے اسکی لپیٹ میں آ جاتا ہے۔
تمباکو نوشی صحت کے لئے مضر ہے، ہر شخص اسکے بُرے اثرات سے واقفیت رکھتا ہے مگر دُنیا بھر میں سگریٹ کمپنیاں اس قدر طاقتور ہیں کہ کوئی حکومت تمباکو پر پابندی لگانے سے گریز کرتی ہے۔ تمباکو نوشی انفرادی اور قومی سطح پر بھی مضر اور نقصان دہ عادت ہے، اسے صحت کے لئے انتہائی نقصان دہ قرار دیا گیا ہے۔ تمباکو میں نشہ اور الکائیڈ نکوٹین ہوتی ہے۔ یہ اس قدر زہریلی ہوتی ہے کہ اس سے کیڑے مار ادویات بنائی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ تمباکو میں ایسے خطرناک کیمکلز استعمال ہوتے ہیں جو آدمی کو کینسر میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ تمباکو کا مسلسل استعمال شدید منشیات کی عادت ڈال دیتا ہے جس کے نتیجے میں دمہ، ٹی بی، قلت خون، نظامِ تنفس کے نقائص پیدا ہو جاتے ہیں۔
تمباکو نوشی کے عادی لوگوں کے بچے صحت مند نہیں ہوتے۔ ان میں طبی نقصانات اور جسمانی بیماریوں کے ساتھ نفسیاتی اور اخلاقی بیماریاں بھی تمباکو نوشی کا ہی کرشمہ ہیں۔تمباکو نوشی سے انسانی جسم میں جلد بازی، چڑچڑاپن اور خودگریزی کے جذبات جنم لیتے ہیں۔ انسان خود کو تنہا محسوس کرتا ہے اور اعصابی دباوّ کا شکار ہو کر تمباکو نوشی کی فضاوٰں میں گم ہوجاتا ہے۔ جہاں تک اخلاقی بیماریوں کا تعلق ہے تو ایک خرابی سے کئی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ جھوٹ جو سب سے بڑی بیماری ہے، نوجوان تمباکو کی وجہ سے مبتلا ہو جاتے ہیں۔ اپنی تمباکو نوشی کی عادت کو بڑوّں سے چُھپانے کے لئے جھوٹ بولتے بولتے انکی پوری زندگی جھوٹ بن کر رہ جاتی ہے پھر تمباکو نوشی کے اخراجات کو ہورا کرنے کے لئے چوری جیسا قبیح جُرم بھی کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ تمباکو نوشی سے بد اخلاقی کو راہ ملتی ہے اور نفسیاتی جرائم سامنے آتے ہیں۔ مردوں کے ساتھ ساتھ اب عورتیں بھی بے باکی سے سگریٹ نوشی کرتی ہوئی نظر آتی ہیں ۔ اسی بناء پر سگریٹ نوش عورتیں کمزور، اپاہیج اور غیر صحت مند بچوں کو جنم دیتی ہیں۔
اس جان لیوا روگ سے بچنے کے لئے حکومت نے پبلک مقامات، دورانِ سفر اور دفاتر میں سگریٹ نوشی قانوناٙٙ منع قرار دے کر اہم پیش رفت کی ہے۔ سگریٹ نوشی کو روکنے کے لئے حکومت کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی انتہائی موّثر اقدام اُٹھانے ہوں گے۔ جس کے لئے مختلف سماجی اداروں اور انجمنوں کو سگریٹ نوشی کے خلاف لگاتار مہم چلانی ہوگی۔ اس کے علاوہ ابلاغِ عامہ کے تمام وسائل کے ذریعے اس موذی عادت کے خلاف بھرپور مہم چلانی ہوگی۔ تاکہ ہماری آئندہ نسلیں اس کے بھیانک اثرات سے محفوظ رہ سکیں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button