Cars

پاکستانی آٹوانڈسٹری کی زبوں حالی

پاکستانی معیشت جو بہت حوالوں سے اپنے پاوًں پر کھڑے ہونے کی کوشش کر رہی تھی، کورونا بحران کی وجہ سے نہ صرف مزید مشکلات کا سامنا کر رہی ہے بلکہ کئی انڈسٹریز بند ہونے کی وجہ سے کئی سال  پیچھے چلی گئی ہے۔

پا کستان کی آٹو انڈسٹری ، تیزی سے ترقی کرتی ہوئی انڈسٹریز میں سے ایک تھی، تقریباََ 3,200 آٹو موٹو مینوفیکچرنگ پلانٹس اور 92 بلین روپے کی سرمایہ کاری کے ساتھ پاکستان میں 3.5 ملین سے زیادہ لوگوں کو روز گار فراہم کر رہی تھی۔ پاکستان نہ صرف ہونڈا اور ٹویوٹا کی ہائبرڈ گاڑیوں کی قبولیت اور مقبولیت کی وجہ سے بلکہ

( CPEC )(China-Pakistan Economic Corridor)

 کے تناظر میں ایک اہم مقام حاصل کرتا جا رہا تھا، مگر کورونا وائرس اور کچھ غلط معاشی پالیسیوں کے اثرات کی وجہ سے نہ صرف گاڑیوں کے پروڈکشن ہاوسز بند ہو گئے بلکہ بہت زیادہ لوگ اپنی نوکریوں  سے بھی ہاتھ  دھو بیٹھے۔

پاکستان میں مارچ ، اپریل 2020 میں سخت لاک ڈاوًن اور صنعتوں کی بندش کی وجہ سے بڑے آٹو پلانٹس مثلاََ

Indus Motor ,Atlas Honda, Honda Atlas Cars, Pak Suzuki Motor Company, Yamaha, Dysin Automobiles,Millat Tractors, Hino Pak Motors نے پیداوار بند کر دی۔

دنیا بھر میں، پاکستان سمیت کاروں کی طلب میں انتہائی کمی کی وجہ سے بہت کم کاریں فروخت ہو پائیں۔ پاکستان میں تو اپریل 2020 کے مہینے میں ایک گاڑی بھی فروخت نہیں ہوئی، اس سے پاکستان کی آٹو انڈسٹری کی زبوں حالی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

 جہاں حکومتِ پاکستان نے کچھ صنعتوں کو صحت کے حفاظتی  اقدامات کے ساتھ  سوفٹ لاک ڈاوًن میں جزوی  طور پر کام کرنے کی اجازت دی ہے، وہاں

Pakistan Automotive Manufacturers Association(PAMA)    

کی پر زور اپیل پر آٹو انڈسڑی کے بھی کچھ پیداواری یونٹس کو بحال کیا گیا ہے ، تاکہ پاکستان کی آٹو موٹو انڈسٹری کو مکمل تباہی سے بچایا جا سکے۔

 اربابِ اختیار کو آٹو انڈسٹری کی بحالی کے لئیے نہ صرف سپورٹ کرنا چاہیئے بلکہ

General Sales Tax  سے Additional Sales Tax

 تک کافی کمی کرنی چاہیئے، تاکہ گاڑیوں کو بہتر حد تک قابلِ خرید بنایا جا سکے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Check Also
Close
Back to top button