کالم

پیٹرول کا بحران اور حکومت

جب چوبیس مارچ کو وزیر اعظم عمران خان نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے تیل کی قیمتوں میں پندرہ روپے کمی کا  اعلان کیا تو ایک صحافی نے سوال کیا کہ کیا قیمتوں کا اطلاق آج سے ہوگا؟ کیونکہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ قیمتیں کم کرنے کے لیے اوگرا نے سمری طلب کی اور ای سی سی سے منظوری کے بغیر پیٹرولیم مصنوعات میں کمی کا حکم جاری کر دیا گیا۔ اس اعلان کے بعد سے آئل کمپنیز کے پاس جون تک کا سٹاک موجود تھا، چونکہ ریٹ کم یا زیادہ  مہینے کی یکم تاریخ کو ہی ہوتا ہے اور ذخیرہ شدہ پیٹرول میں روزانہ بیس سے پچس لاکھ لیٹر کا استعمال معمول کی بات ہے اس لیے اس استعمال شدہ پیٹرول کی مقدار سے اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ ڈیلرز اور ، کمپنیز کو کتنے بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ مشاورت اور طریقہ کار سے ہٹ کر کام کرنے کی وجہ سے چھوٹی کمپنیوں کا دیوالیہ نکل گیا ہے۔
لوگوں کا ایک دن میں سال بھر کا منافع نقصان میں بدل گیا ہے جس وجہ سے ایک دن میں ایک شخص کو کروڑوں کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے آئل کمپنیز نے درخواست کی کہ شیڈول کے مطابق ریٹ  مہینے کے وسط کی بجائے یکم جون کو کم کر دیے جائیں لیکن وزیر اعظم کے سامنے جا کر یہ کہنے کی جراّت کسی کو نہ ہوئی۔ اس غیر حقیقی فیصلے سے کمپنیوں کو بھاری نقصان برداشت کرنا پڑا۔
سارا کیا دھرا حکومت میں موجود خود ساختہ ماہرین کا ہے جو نہ تو عوام کا تحفظ کر سکتے ہیں اور نہ ہی کاروبار کو سنبھالنے کے حکمت عملی بنا سکتے ہیں۔
یہ صورتحال حکومت کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے ہوئی ہے، پیٹرول امپورٹ کرنے پر پابندی کی وجہ سے پیٹرول کی قلت پیدا ہو گئی اور آج ملک میں کہیں پیٹرول بکتا نظر نہیں آ رہا۔
پے در پے بحرانوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے کیونکہ نہ کھانے کو عوام کا پاس آٹا ہے نہ گاڑی اور موٹر سائیکل چلانے کو پیٹرول، نہ حکومت چینی کی قیمتیں کم کروا سکی اور نہ ہی پھلوں کی، اور نہ ہی مرغی کے گوشت کی قیمتوں پر قابو پاسکی اور اب باقی رہی کسر پیٹرول کی قلت نے پوری کر دی۔ پیٹرول بحران کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں کروڈ آئل کی قیمتیں مسلسل گر رہی تھیں۔ آئل کمپنیز جب آئل خریدنے کے لیے ایگریمنٹ کرتیں تو مال پہنچنے سے پہلے ہی اسکی قیمت مزید گر جاتی جس سے کمپنیوں کا نقصان مزید بڑھ جاتا۔ گیس اینڈ آئل کمپنیوں کو اس عرصے میں بھاری نقصان برداشت کرنا پڑا۔ حکومت کی طرف سے امپورٹ پر پابندی نے کمپنیوں کو مزید نقصان میں دھکیل دیا۔ حکومت سے یہاں ایک اور غلطی بھی ہوئی کہ حالات سے موافقت نہ رکھنے کی وجہ سے انہوں نے زراعت کے شعبے کی ضروریات کو نظر انداز کر دیا جسکی وجہ سے گزشتہ ماہ ڈیزل بھی ملک میں ناپید ہو گیا۔جون میں مزید ریٹ کم کرنے کے موقع پر کمپنیز کا کہنا تھا کہ اس ریٹ پر آئل کی امپورٹ ممکن نہیں اس فیصلے سے ہمیں مزید نقصان برداشت کرنا پڑے گا، ہم پہلے ہی دو تین ماہ سے مسلسل نقصان برداشت کرتے آ رہے ہیں۔ کمپنیوں کی طرف سے پندرہ دن کے لیے قیمتوں کو موّخر کرنے کی درخواست کی گئی لیکن حکومت نے یہ درخواست رد کر دی اس فیصلے سے کمپنیوں نے امپورٹ آرڈرز ختم کر دئیے جس وجہ سے ان دنوں ملک کو گزشتہ دس سال کی بد ترین پیٹرول و ڈیزل کی قلت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
حکومت کا کام عوامی ریلیف اور بزنس کے درمیان ایکویئشن کو بیلنس رکھنا ہوتا ہے تا کہ ایسی صورحال پیدا کر دی جائے کہ 75 روپے لیٹر والا پیٹرول 100روپے میں بلیک میں ملنے لگے۔
اس بحران سے نپٹنے کے لیے حکومت کو سخت اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے جس میں سب سے پہلے امپورٹ پر غیر مشروط طور پر پابندی ختم کی جائے اور قیمتوں میں کمی کے معاملے پر عوامی ریلیف اور بزنس کے درمیان توازن قائم کیا جائے۔
عوام کو ریلیف ضرور ملنا چاہیے اس سہولت کو یقینی بنانے کے لیے عوامی ٹیکسز پر کٹ لگایا جائے۔ عوام کو ریلیف دینے کے ساتھ ساتھ کاروباری طبقے کے مفادات کا تحفظ بھی حکومت کی ہی ذمہ داری ہے کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ کاروباری طبقے سے ٹیکسز تو پورے وصول کئے جائیں مگر ساتھ ساتھ انکو کو نقصان بھی پہنچایا جائے۔ یہ بھی ضروری نہیں کہ عوام کو ریلیف دینے کے غیر حقیقی فارمولے پر کام کرتے ہوئے کاروبار تباہ کر دیا جائے اور عوام کو اس تباہی کے بدلے خواری کا سامنا کرنا پڑے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button