کالم

‘خدارا، پاکستان کے ڈراموں کا رُخ موڑ دیجئے’

پاکستان میں فلمی انڈسٹری کے زوال کے بعد ناظرین کے لئے تفریخ کا ذریعہ صرف ٹیلی ویژن رہ گیا ہے۔ پاکستانی ڈرامہ اور ٹیلی فلمز عوام کی تفریخ کا بڑا ذریعہ ہیں اسی وجہ سے ناظرین کی ایک بڑی تعداد رات 8 بجے آنے والے ڈرامے شوق سے دیکھتی ہے یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے اکثر سیریل ڈرامے مقبولیت کے ریکارڈ قائم کر چکے ہیں۔
آج سے پندرہ بیس سال پہلے ایسے ڈرامے پردہ سکرین کے لئے بنائے اور دکھاۓ جاتے تھے جن میں عمدہ اداکاری، بہترین پروڈکشن اور سبق آموز کہانیاں پائی جاتی تھیں۔ اداکار اتنے ڈوب کر اداکاری کرتے تھے کہ انکا اصل نام ہی بھول جایا کرتا تھا اور صرف کردار ذہنوں پر نقش رہتا تھا مگر 2010 کے بعد پاکستانی ڈراموں کی پردہ سکرین پر تبدیلی رونما ہوئی جن میں زیادہ تر اوسط درجہ کے ہی ڈرامے بنائے گئے۔ مگر کچھ ڈراموں نے شائقین کے دل میں جگہ بھی بنائی اور بڑے سبق آموز ثابت ہوئے کیونکہ جن ڈرامہ سیریلز میں کوئی سبق ہو یا وہ معاشرے کی حقیقت کے قریب ہوں وہی زیادہ کامیاب ہوتے ہیں اور یہی ڈرامے کامیابی کے ریکارڈ توڑتے ہیں۔
ان چند سالوں میں جو بات میں نے محسوس کی وہ یہ تھی کہ معاشرتی مسائل، پیار محبت اور خاندانی جھگڑوں پر تو بے شمار ڈرامے بنائے جاتے ہیں لیکن وطن کی محبت اور قومی ہیروز پر ڈرامے بنانے کا ہمارا خاصا فقدان پایا جاتا ہے حالانکہ اس حوالے سے عوام کی ذہن سازی بہت ضروری ہے۔ حالیہ کچھ سالوں میں اس حوالے سے کچھ ایسے ڈرامے بنائے گئے جن میں قومی ہیروز، پولیس، سیکیورٹی اہلکاروں، سویلین ہیروز اور مسلح افواج کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ مگر اس عرصے میں یہ بات بڑی قابلِ غور ہے کہ اس دوران پاک فضائیہ اور پاک بحریہ پر کوئی ڈرامہ سیریل نہیں بنا جو عوام کے دلوں میں اُتر جائے۔ دو تین دہائیاں پہلے نشانِ حیدر پانے والے چند شہداء اور پاک بحریہ کے شہیدوں پر ایک خوبصورت سیریز بنائی گئی تھی مگر اس کے بعد سے شہدا اور غازیوں پر ڈرامہ عکس بند کرنے کا سلسلہ رُک سا گیا اور یہی وجہ ہے کہ اب ساری قوم تُرکی کی بہترین کاوش ڈرامہ سیریل ارتغل غازی دیکھ رہی ہے۔
یہاں پاکستان کے پروڈیوسرز سے میرا ایک سوال ہے کہ کیا پاکستان میں ٹیلنٹ نہیں یا ہمارے پاس بجٹ نہیں کہ ہم ایسے ڈرامے بنا سکیں؟ شاید ہمارے نجی چینلز ساس بہو کے جھگڑوں سے باہر نہیں آنا چاہتے۔ ہمارے زیادہ تر ڈراموں میں دو شادیاں، متعدد افئیرز اور ایک دوسرے کے خلاف سازشوں کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ ہمارے ڈراموں میں جو لفظ سب سے زیادہ سننے کو ملتا ہے وہ طلاق ہے، اس کے علاوہ خواتین کو بانجھ پن کے طعنے، دوسری تیسری شادیاں اور خاندان میں ایسی لڑائیاں ڈراموں میں دِکھائ جاتی ہیں جیسے وہ گھر کا نہیں بلکہ کسی میدان کا منظر ہو۔
دوسری طرف بھارت ہمارے مسلمان ہیروز کے کرداروں کو مسخ کر رہا ہے، بھارت اپنی بے بنیاد فلموں میں علاوّالدین خلجی اور اور احمد شاہ ابدالی کے کردار کو مسخ کرنے کی کوشش کر رہا ہے اس کے ساتھ ہر دوسری آن لائن ویب سٹریم پر بھارت کی اجارہ داری قائم ہے اسی لئے ہر دوسرا سیزن پاکستان کے خلاف بن رہا ہے جبکہ پاکستان ہدایتکار کشمیر، بلوچستان، ایل او سی، سیاچن، سرحدی امور، ملکی حالات، فوجی اور سویلینز شہداء کی قربانیوں سے نظر چرا کر ٹی وی پر معاشقے کروانے میں مصروف ہیں۔ عورتیں پیسے کے پیچھے بھاگ رہی ہیں اور گھروں میں ایک دوسرے کو قتل کرنے کے منصوبے بنائے جا رہے ہیں۔
اس نازک سے دور میں خدارا پاکستان پر رحم کیجئے۔
اور اسکے ڈراموں کا رُخ تاریخ پاکستان، سنہ 71,65 اور کارگل کی جنگ کی طرف بھی موڑئیے اس کے ساتھ کچھ ڈرامے پاکستانیوں کی بہادری اور دہشت گردی کے خلاف جنگ پر بھی بنائیے جن میں سینکڑوں ماوّں نے اپنے جوان بیٹے اس ملک پر قربان کر دئیے ہیں اور وہی اصل میں ہمارے ہیرو ہیں تاکہ آج کی نسل کو بھی پتا چل سکے کہ ان کے اصل ہیرو کون ہیں اور یہ صرف بہترین تدبیر اور ہدایتکاری سے ہی ممکن ہو سکے گا۔
بقلم: امتل ھدٰی

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button