Cars

پاکستانی آٹو انڈسڑی کا نیا دور

پاکستانی آٹو انڈسٹری ایک طویل عرصے سے متحرک اور ترقی کرتی ہوئی صنعت ہے ، تاہم اتنی زیادہ قائم نہیں ہے کہ آٹوموبائل کی اعلی صنعتوں کی نمایاں فہرست میں آسکے۔ آٹوانڈسٹری کے پیداواری  حجم میں اضافہ کیا گیا ، لیکن منتقلی یا ٹکنالوجی میں ترقی کم رہی۔ ملک میں بیشتر کاریں سی این جی (کمپریسڈ قدرتی گیس) پر چلتی ہیں جو ملک میں پٹرول سے زیادہ سستی ہے۔ پاکستان تقریباَ 1.55 ملین سے زیادہ کاروں اور مسافر بسوں کے ساتھ دنیا میں دوسرے نمبر پر سی این جی سے چلنے والی گاڑیوں کی فہرست میں ہے  جو پاکستان میں کل گاڑ یوں کا  تقریباَ %24 بنتی ہیں۔

آٹوموبائل سیکٹر جاپانی ، یورپی ، چائینیز اور کورین  صنعت کاروں کے ساتھ فرنچائز اور تکنیکی تعاون کے معاہدوں کے تحت اپنا کام انجام دیتا ہے۔ چونکہ پیداوار غیرملکی مشترکہ منصوبوں پر مبنی ہے لہذا مصنوعات میں بین الاقوامی معیارات پر عمل کیا جاتا ہے۔ آٹوموبائل صنعت ان چند صنعتوں میں شامل ہے جو مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کررہی ہے۔

کورونا بحران اور لاک ڈاوًن کی وجہ سے آٹوانڈسٹری کوجہاں شدید نقصانات کا   سامنا کرنا پڑا، وہاں ابھی حال ہی میں پاکستانی آٹو انڈسڑی نے ایک نئے دور  کا آغاز کیا ہے۔ پاکستان کی آٹو انڈسڑی عالمی سپلائی چین کا حصہ بن گئ ہے۔ ٹیوٹا موٹرزویتنام ، پاکستان سے آٹو پارٹس خریدے گا۔   “وویٹرونکس کمپنی” پاکستان کی اولین کمپنی ہو گئ ہےجو ٹیوٹا کمپنی کی عالمی سپلائر چین کا حصہ بن گئ ہے اوراب پاکستان میں مقامی طور پر بنے آٹو پارٹس ” آبسار برایف آربمپر  ٹیوٹا موٹرزویتنام ” کو برآمد کیئے جائیں گے۔

یہ آٹو پارٹس سخت جانچ پڑتال کے عمل اور معیارات میں کامیابی کے بعد منظورکیئے گئے ہیں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Check Also
Close
Back to top button