کالم

دُنیا کا اسلحے کی طرف بڑھتا ہوا رجحان

ایک رپورٹ کے مطابق دُنیا کے ہتھیار بنانے والے ممالک پاکستان اور انڈیا کے قیام کے بعد سے انکو ہتھیار فروحت کر رہے ہیں، آزادی کے دن سے ہی یہ دونوں ممالک ہتھیاروں کی بڑی مارکیٹ بنے ہوئے ہیں۔ انڈیا دُنیا میں اسلحے کا دوسرا بڑا برآمد کنندہ ہے جبکہ پاکستان کا 11واں نمبر ہے ۔
مشرقِ وسطی کے ممالک میں اس وقت اسلحہ کی درآمد میں %61اضافہ ہوا ہے۔ یہ دُنیا بھر کے اسلحے کی تجارت کا %35ہے، سعودی عرب دُنیا میں اسلحے کا سب سے بڑا خریدار ہے، اسکے بڑے اسلحے کی درآمد میں %130 اضافہ ہوا ہے۔ یہ غیر معمولی اضافہ دُنیا کے اسلحے کی درآمدات کا %12 ہے۔ سعودی عرب امریکہ سے %73 اور برطانیہ سے %13 اسلحہ برآمد کرتا ہے ۔ جبکہ متحدہ عرب امارات دُنیا میں اسلحے کا آٹھواں بڑا درآمد کنندہ ہے۔
آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان جاری جنگ میں طاقت کے مظاہرے کے لئے دونوں ممالک بڑے پیمانے پر اسلحہ کی خریداری کر رہے ہیں، یہ دونوں ایک دوسرے کے اندر حملہ کر کے تباہی پھیلانے کے لئے روسی میزائل خرید رہے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق آرمینیا پچھلے پانچ سال سے اپنے کل اسلحے کا %94 روس سے خرید رہا ہے جس میں جنگی طیارے بھی شامل ہیں جبکہ آذربائیجان اپنے اسلحے کا %31 روس سے اور %60 اسرائیل سے درآمد کر رہا ہے ۔ حالیہ جنگ کے دوران آرمینیا کے اسلحے کی درآمد میں %415 اضافہ ہوا ہے جبکہ آذربائیجان کی اسلحہ خریداری آرمینیا سے %33 زیادہ ہے۔
یوکرائن میں بھی روسی قوم پرستوں کے خلاف لڑائی جاری ہے اس کے باوجود وہ بہت کم اسلحہ خریدتا ہے کیونکہ اس کی اپنی اسلحہ کی صنعت کافی مضبوط ہے۔
تُرکی ایک طرف کُردوں سے لڑ رہا ہے تو دوسری طرف شام اور لیبیا کی خانہ جنگیوں میں بھی دلچسپی رکھتا ہے اسکی بھی اسلحہ کی صنعت کافی مضبوط ہے اس لئے بہت کم اسلحہ خریدتا ہے۔
کرنل قذافی کی موت کے بعد لیبیا مسلسل خانہ جنگی کا شکار ہے اس ملک میں 2014 سے خانہ جنگی جاری ہے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق اس ملک کو اسلحے کی ترسیل پر مکمل پابندی ہے مگر پابندی کے باوجود مسلم ممالک اس کو اسلحہ فراہم کرنے میں کردار ادا کر رہے ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلحے کی تجارت ایک منافع بخش کاروبار ہے اس تجارت میں اضافہ بہت زیادہ اور کمی بہت کم ہوتی ہے۔ غریب ملکوں کے حُکمران ہمیشہ اسلحے کی خریداری میں دلچسپی رکھتے ہیں کیونکہ اس میں عالمی کمپنیاں زیادہ کمیشن دیتی ہیں اور یہ کمیشن بیرونی ملکوں کے بینکوں میں رکھنے کی سہولت بھی دیتی ہے۔ اسلحے کی عالمی سطح پر کاروبار کے بارے اس ساری تفصیل میں تین امور کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
نمبر ایک، اسلحے کے سب سے زیادہ خریدار تیسری دُنیا کے غریب ممالک ہیں جن کو لڑنے جھگڑنے کا شوق ہے۔ نمبر دو، اسلحہ بنانے والے ممالک خود نہیں لڑتے اسکی بنیادی وجہ یہ تھی کہ دوسری جنگِ عظیم کی تباہی کے بعد ان ملکوں نے فیصلہ کیا کہ جنگ تباہی لاتی ہے اور انسان کی ترقی صرف امن سے وابستہ ہے اس لئے وہ خود جنگ سے دور رہتے ہیں اور غریب ملکوں کے لئے ہتھیار بنا کر اور ان کے اختلافات کو ہوا دیکر اسلحہ بیچتے ہیں۔ نمبر تین، اسلحہ بنانے والے ممالک میں کوئی مسلمان ملک شامل نہیں ہے اسکی بنیادی وجہ مسلمانوں کو سائنس اور ٹیکنالوجی کے علوم میں پیچھے رہ جانا ہے جس وجہ سے ترقی یافتہ ممالک مسلم ممالک کو اسلحہ بیچ کر مالدار ہو رہے ہیں جبکہ مسلم ممالک ان دفاعی اخراجات کی وجہ سے مزید بد حالی کا شکار ہو رہے ہیں۔
بقلم: کاشف شہزاد

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button