کالم

مہنگائی کا بے قابو جن

ملک کے عوام کا سب سے بڑا مسئلہ بڑھتی ہوئی مہنگائی ہے کیونکہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے عوام کے گھریلو اخراجات پورے نہیں ہو رہے، جس کے لیے وہ قرضوں کا سہارا لے رہے ہیں جبکہ غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزارنے والے افراد کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ گئے ہیں، موجودہ مہنگائی عوام کے لیے ناقابلِ برداشت ہو چکی ہے، ملکی عوام نے پہلی مرتبہ اور خیبر پختونخواہ کے عوام نے صوبے میں مسلسل دوسری مرتبہ پاکستان تحریک انصاف بھاری مینڈیٹ دیا لیکن دو سال پورے ہونے والے ہیں اس دوران عوام کو کوئی ریلیف نہیں ملاالبتہ عوام نے بڑھتی ہوئی مہنگائی کی تبدیلی ضرور دیکھ لی ہے۔
ملک میں مہنگائی کا جن اس قدر بے قابو ہے کہ چینی کی قیمت میں راتوں رات مرضی سے اضافہ کر دیا گیا لیکن پھر اس کے نرخ کم نہیں کئے جا سکے۔ جب چینی 80 روپے فی کلو گرام تھی تو حکومتی اقدامات سامنے آئے لیکن غر یب کی پریشانی میں اس وقت اضافہ ہو گیا جب قیمت 80 روپے سے کم ہونے کی بجائے 85 روپے تک پہنچ گئی۔ جس پر شوگر کمیشن قائم کیا گیا اسکی رپورٹ بھی شائع کی گئی لیکن کسی ذمہ دار کے خلاف کوئی کاروائی عمل میں نہیں لائی جا سکی اور نہ ہی چینی کے نرخ دوبارہ کم کئے گئے۔ اسی طرح آٹا مافیا بھی آج کل بھاری منافع کما رہا ہے اور مارکیٹ میں آٹے کی مصنوعی قلت پید ا کر کے اپنا ٹارگٹ پورا کر رہا ہے۔بڑھتی ہوئی مہنگائی اور آٹا چینی کے بحران پر وزیرِ اعظم عمران خان صاحب نے سخت نوٹس لیا، جس پر آٹا اور چینی چوروں کی نشاندہی تو کی گئی مگراِنکی قیمتوں میں کمی نہ آ سکی۔
ہمارے ملک میں تیل سستا بھی ہوا لیکن مہنگائی کا زور نہ ٹوٹا، فضائی پابندیوں کے باعث طیاروں کے کرایوں میں کمی کے بارے تو کسی نے سوچا ہی نہیں تھا۔پاکستان ریلوے نے بھی جو کہ ایک سرکاری محکمہ ہے ٹرین کرایوں میں کمی یہ کہہ کر مسترد کر دی کہ کورونا وائرس کے باعث پچاس فیصد بکنگ کی جا رہی ہے اور ایسی صورتحال میں کرایہ کم کریں تو خسارہ بہت زیادہ بڑھ جائے گا اور ساتھ ساتھ تنخواہوں کی ادائیگی بھی ممکن نہیں ہو گی۔
ہمارے ملک میں پٹرولیم مصنوعات جب اور جتنی بھی سستی ہوتی ہیں تو اشیائے ضروریات سمیت کسی چیز کی قیمت کم نہیں ہوتی، لیکن اگر تیل کے نرخوں میں معمولی اضافہ بھی ہو جائے تو قیمتوں کو خود بخود پَر لگ جاتے ہیں اور مہنگائی میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ کورونا وائرس وباءپھیلنے کے بعد دنیا بھرمیں تیل کی قیمتیں منفی ہو گئیں تو پاکستان میں بھی پٹرولیم مصنوعات مرحلہ وار سستی کی گئیں، تیل کی قیمتوں میں چالیس روپے تک کمی واقع ہوئی، لیکن اسکا فائدہ عام آدمی تک نہ پہنچ سکا،تیل اتنا سستا ہو ا تو ٹرانسپورٹیشن چارجز چالیس فیصد تک کم ہو گئے، لیکن ٹرانسپورٹ کرایوں میں کوئی خاص کمی نہیں کی گئی، کورونا لاک ڈاون کے دوران کاروبار بند ہوئے تو لوگوں کی مشکلات مزید بڑھ گئیں، پہلے ہی مہنگائی و بیروزگاری سے ستائے عوام کے معاشی مسائل میں کئی گنا اضافہ ہو گیا، پھر جب عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں صفر سے بھی نیچے گر گئیں تو غریب عوام کے لیے امید کی ایک کرن پیدا ہوئی کہ اب پاکستا ن میں بھی تیل سستا ہونے پر ہر چیز کی قیمت میں کمی واقع ہو گی اور مہنگائی کا خاتمہ ہوگالیکن حسب روایت ایک عام پاکستانی شہری کا یہ خواب بھی شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا۔
حکومت کے دوسال گزرنے کے باوجود عوام اب بھی حکمرانوں اور خاص طور پر وزیرِ اعظم سے پر امید ہیں کہ ایک نہ ایک دن ایک خوشگوار تبدیلی ضرور آئے گی جس سے عوام کے معاشی مشکلات میں کمی آ جائے گی اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ حکمران حکومتی اخراجات میں کمی کر کے کفایت شعاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے عوام پر مزید مہنگائی کا بوجھ ڈالنے کی بجائے انہیں ریلیف دینے کی کوشش کریں تاکہ عوام کا حکمرانوں پر اعتماد بحال رہے اور عوام مسلسل بڑھتی ہوئی مہنگائی کنٹرول ہونے پر سکھ کا سانس لے سکے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button