کالم

انٹرپرینیورشپ (کاروبار)پاکستان میں آسان کیوں نہیں۔۔۔

پی ٹی آئی حکومت نے آتے ہی اپنے انتخابی وعدے کی تکمیل کے لئے نوجوانوں کے روزگار کے لئے کامیاب جوان کے نام سے ایک پروگرام کا اعلان کیا, کاروبار کے لئے اس قرض اسکیم کے لئے تین کیٹگریز بنائی گئیں۔ میڈیا پر اس پروگرام کو خوب پروموٹ کیا گیا جس وجہ سے اسے بہت اچھا رسپانس موصول ہوا۔ پہلے ہی روز ہزاروں لاکھوں لوگوں نے فارم ڈاوّن لوڈ کئے مگر جب ان درخواستوں کی پرکھ پرچول کا کام مکمل ہوا اور انتخاب کا عمل شروع ہوا تو انکشاف ہوا کہ 95 فیصد نوجوانوں کے پاس کاروبار کے لئے کوئی واضح منصوبہ ہی نہیں تھا، وہ شائد یہ سمجھ رہے تھے کہ یہ کوئی گرانٹ سکیم ہے اور باآسانی ہم اسے حاصل کر لیں گئے۔
یہ اہم نکتہ ہے کہ پڑھے لکھے نوجوانوں نے کاروبار کا کوئی واضح خاکہ یا منصوبہ بنائے بغیر ہی اس پروگرام میں عرضی داغ دی۔ جن 5فیصد لوگوں کی درخواستوں کو قابلِ غور سمجھا گیا اور وہ شرائط و ضوابط کی چھلنی میں سےگزرے انکی تعداد بھی بہت کم ہے۔ ایک سال کی چھان بین کے بعد ابھی تک صرف 2900 افراد کو ایک ارب روپے کے قرضے دئیے جا سکے۔ اور 7500 کی درخواستیں منظور کی جا چکی ہیں جنہیں جلد ہی قرض کی رقوم فراہم ہو سکیں گی۔ اس پروگرام کے لئے دو ارب روپے مختص کرنے کا اعلان کیا گیا اس اعتبار سے سال بھر میں صرف ایک ارب روپے کی فراہمی ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔
حکومت کی فراخ دلانہ پیش کش اور تمام تر حوصلہ افزائی کے باوجود اس قدر کم لوگوں کی اہلیت اور منظوری کیوں؟
روزگار اسکیمیں اور نوجوانوں کے لئے ایسے پروگرام ہر حکومت کی خصوصی دلچسپی کے حامل ہوتے ہیں۔ گذشتہ حکومت نے بھی اقتدار سنبھالتے ہی وزیر اعظم یوتھ لون پروگرام کا بڑے زور شور سے اعلان کیا۔ اس سے قبل بھی ن لیگ سمیت دیگر حکومتوں نے بالخصوص نوجوانوں کے لئے اور ساتھ ساتھ عوام کی فلاح کے لئےنت نئے پروگرام لانچ کئے۔اگر یہ پروگرام اپنے اعلان کردہ اہداف کا نصف بھی حاصل کر لیتا تو اب تک سمال اینڈ میڈیم سائز کاروبار کی ملک میں ایک بڑی بنیاد پڑ چکی ہوتی مگر افسوس ایسا نہ ہو سکا۔
دُنیا بھر میں حالیہ چالیس، پچاس سالوں میں نجی کاروبار ہی معاشی ترقی کا چہرہ رہا ہے۔ انگریزی میں کاروبار کے لئے معروف اصطلاح انٹرپرائز استعمال ہوتی ہے اور اسکے قائم کرنے اور انتظام و اہتمام کرنے کے عمل کو انٹرپرینیورشپ کا نام دیا جاتا ہے۔ اس عمل کو ممکن بنانے والے کے لئے انٹر پرینیورکی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ یہ عمل اور اسے انجام دینے والے کو کسی بھی اکانومی میں اس قدر اہم اور معتبر سمجھتے ہیں کہ یونیورسٹیوں، کالجوں میں اس موضوع پر درجنوں مضامین پڑھائے جاتے ہیں، بے تحاشا ادارے اور میڈیا اس عمل اور عملداروں کے لئے مختص ہیں۔ کامیاب انٹرپرینیور ترقی یافتہ معاشی ممالک میں نمایاں حثیت سے جانے جاتے ہیں۔ اخبارات، میگزینز، ٹی وی، کانفرنسوں اور سیمینارز میں لوگ انکو بار بار بُلاتے ہیں۔
حکومتی پالیسیوں اور اداروں کا فوکس ہوتا ہے کہ ملک میں کاروبار کو آسان بنایا جائے اور ایسے افراد کی حوصلہ افزائی کی جائے جو سرمایہ کاری اور روزگار کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
گلوبل اکانومی میں ممالک کا ایک دوسرے پر انحصار بہتر مسابقت اور ڈبلیو ٹی او کی تشکیل کے بعد عالمی تجارت و صنعت میں انقلاب برپا ہو چکا ہے۔ گلوبل انٹرپرینیورشپ انڈکس 2019 کے مطابق دُنیا کے 137 ممالک کی فہرست میں پاکستان 120ویں پر تھا جبکہ بھارت 68ویں نمبر پر، اس انڈکس کی بنیاد ملکوں میں انٹر پرینیورشپ کی طرف رجحان ، اہلیت، شوق، اور موجود سوشل اکنامک انفراسٹرکچر کے ڈھانچے کو انٹرپرینیورشپ ایکو سسٹم قرار دیا جاتا ہے۔ ہماری پوزیشن بہت سے سوالوں کا جواب دیتی ہے۔
ہمارے ملک میں سرمایہ کاری کرنا قوانین اور ضوابط کے جنگل میں راستہ بنانے کے مترادف ہے اس لئے 5 فیصد نوجوانوں کے پاس کاروبار کا کوئی واضح منصوبہ کی نشاندہی کوئی حادثاتی عمل نہیں ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button