کالم

یہ ٹڈیاں پاکستان نے بھیجی ہیں: بھارت کا واویلا

کورونا وائرس کے ساتھ ساتھ ٹڈی دل کے عذاب کا بھی حملہ شروع ہو گیا ہے، پاکستان اور ہندوستان کے بہت سے علاقے اسکی زد میں میںہے جس سے بڑے پیمانے پر کھڑی فصلیں اور باغات تباہ ہو رہے ہیں۔ کورونا وائرس نے چلتی صنعتوں اور کاروبار کا پہیہ روک دیا جبکہ یہ نئی آفت(ٹڈی دل) زراعت کو ختم کرنے کے درپے ہے۔ ڈر یہ ہے کہ اس آفت سے نپٹنے میں اگر تاخیر کی گئی تو دونوں ممالک میں غذائی بحران پیدا ہو جائے گا جسکے نتائج انتہائی بھیانک ہو سکتے ہیں۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ ٹڈیاں دنیا کے ہر علاقے میں پائی جاتی ہیں لیکن جب موسمی حالات ان کے لیے سازگار ہوتے ہیں تو ان کی تعداد میں ناقابل تصور حد تک اضافہ ہو جاتا ہے اور یہ خوراک کی تلاش میں بڑے بڑے جھنڈ بنا کر ان علاقوں پر حملہ کر دیتی ہیں جہاں سبزہ موجود ہوتا ہے یہ سلسلہ ہزاروں برس سے جاری ہے۔ ہمارے خطے میں انکی افزائش ریگساتانی علاقوں میں ہوتی ہے۔ جنوبی ایشیاءمیں ٹڈی دل نے اٹھارویں اور انیسویں صدی میں بڑی تباہی مچائی تھی۔
ہمارے خطے میں جو ٹڈیاں حملہ آور ہوئی ہیں انکی پیدائش اور افزائش ریگستان میں ہوئی ہے لہذا یہ ٹڈیاں دیگر اقسام کی ٹڈیوں سے کئی گنا منفرد اور مختلف ہے۔ ماہرین کے مطابق ٹڈیاں نقل مکانی کرنے والے کیڑوں میں سب سے زیادہ خطرناک ہوتی ہیں۔کیونکہ یہ ایسے کیڑے ہیں جن کے پر نکل آتے ہیں اور یہ بڑے بڑے جھنڈ کی شکل اختیار کر کے براعظموں حتیٰ کہ سمندروں تک کو عبور کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ عام کیڑے فصلوں کو کھانے میں وقت لگاتے ہیں مگر یہ ٹڈیاں صرف ایک دن کے اندر پورا کھیت چٹ کر جاتی ہیں۔
اس وقت بر صغیر میں جو ٹڈی دل کے حملے ہو رہے ہیں اسکے متعلق اقوام متحدہ کی طرف سے کافی پہلے مطلع کر دیا گیا تھا۔
پاکستان جہاں ٹڈی دل کی یلغار سے دوچار ہے وہاں آج بھارت بھی اس کا واویلا کر رہا ہے۔ کورونا وائرس کی آندھی نے بھارت کو ویسے ہی بے حال کر رکھا ہے اوپر سے ٹڈی دل کے طوفان نے اسکی چیخیں نکال دی ہیں۔ ٹڈی دل کی یلغار اور تباہ کاریوں سے دونوں ممالک خاصے پریشان ہیں۔ کھیت فصلیں اور کسان اجڑ گئے ہیں۔ ایک ہزار ارب روپے سے زیادہ کے زرعی نقصان کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
حکومتِ پاکستان نے اس نئی آفت سے بچاوّ کے لیے کسانوں اور زمینداروں کے لیے آگاہی مہم کے آغاز کے ساتھ ساتھ ٹڈی دل کے حملوں کی وجہ سے برباد شدہ کسانوں کی مالی اعانت کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ مگر پاکستان نے نہ تو واویلا مچایا اور نہ ہی بھارت پر الزامات عائد کئے ہیں کہ ٹڈیوں کا یہ لشکر بھارت نے پاکستان کی طرف بھیجا ہے۔مگر بھارت سرکار اور بھارتی میڈیا کا یہ رویہ بڑا حیرت انگیز ہے۔
بھارت نے جہاں پاکستان پر  حالیہ ایام میں لانچنگ پیڈزاور جاسوس کبوتروں کے بے بنیاد اور بھونڈے الزامات لگائے ہیں وہیں یہ نیا الزام بھی تھوپ دیا ہے کہ دہشت گرد ٹڈی دل پاکستان ہی نے بھارت کی طرف بھیجا ہے۔ اس ٹڈی دل نے بھارت کے گیارہ صوبوں میں تباہی کی نئی مثال قائم کر ڈالی ہے۔ار ناب گو سوامی اور سدھیر چوھدری جیسے بھارتی اینکرز بے لگام ہو کر پاکستان پر الزامات عائد کر رہے ہیں کہ پاکستان کو تو ٹڈی بریانی کھانے کا شوق تھا ہمیں بھی یہ لت لگائی جا رہی ہے۔ ایسی بیہودگی اور بدتمیزی کا بھلا کیا جواب دیا جائے؟ ہڈیان اور ہیجا ن میں بھارتی میڈیا نہ جانے پاکستان کے خلاف کیا کیا بک رہا ہے۔ نئی دلی میں پاکستان ہائی کمیشن میں تعینات دو پاکستانی سفارتکاروں پر بھارت کا نیا اور بھونڈا الزام بھی اسی کا حصہ ہے۔
بھارت سرکار اور اسکی میڈیا ٹیم کو پاکستان پر بھونڈے اور بے بنیاد الزامات لگانے کی بجائے کسانوں کی فصلوں کو تباہ ہونے سے بچانے پر مکمل دھیان کی ضرورت ہے تا کہ اس مشکل گھڑی سے وہ کم سے کم نقصان اٹھائے۔اگر بھارت کے الزامات کی یلغار کا رخ یوں ہی پاکستان کی طرف رہا اور ٹڈیوں کو ختم کرنے کے لیے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہ کئے گئے تو یقینا بھارتی کسان بہت جلد تباہی کے دہانے پر ہوگا جسکی ذمہ دار بھارتی حکومت اور بھارتی میڈیا ہوگا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button