کالم

مہنگائی، بیروزگاری اور موجودہ حکومت

اقتدار میں آنے سے پہلے تحریکِ انصاف کے رہنما اپنے دھرنوں، جلسوں اور ریلیوں میں ملک سے مہنگائی اور بے روزگاری اور کرپشن کا خاتمہ کرنے کی بات کرتے تھے اور یہ بھی کہتے تھے کہ ہمارے دور حکومت میں غریبوں کو ریلیف ملے گا اور عوام خوشحال ہوں گے۔ مگر اقتدار میں آنے کے بعد موجودہ حکومت اپنے کسی وعدے پر پورا اترنے سے قاصر ہے۔ انتخابات کے وقت جو وعدے اور بُلند و بانگ دعوے کئے گئے وہ سب دھرے کے دھرے رہ گئے بس ایک احتساب باقی بچا جو سیاسی مخالفین کے لئے استعمال کیا گیا مگر ابھی تک کوئی ملک کو لوٹنے والا کیفرِ کردار تک نہیں پہنچ پایا۔
اقتدار میں آنے کے بعد پاکستانی تحریکِ انصاف کی کارکردگی سے مایوس ہوتے نظر آ رہے ہیں کیونکہ جس کاسہ گدائی توڑنے کی عوام کو آس دلائی گئی وہ قرض دو سال میں بڑھتے بڑھتے 11.35کھرب تک پہنچ گیا یعنی کشکول ٹوٹنے کی بجائے پھیلتا چلا گیا۔ جب سے پاکستان تحریکِ انصاف نے حکومت سنبھالی ہے تب سے عوام کو میسر تمام ریلیف اور سبسڈیاں ختم کر دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ روز بروز بڑھتی مہنگائی کا سلسلہ ہے کہ ترُکنے میں نہیں آ رہا۔ غریب اور متوسط آمدن والے افراد افسردہ اور پریشان حال ہیں، مہنگائی کے طوفان کی وجہ سے انکا جسم و جان سے رشتہ برقرار رکھنا محال ہو گیا ہے۔ دوکاندار، فیکٹری مالکان، تاجر اور کسان سب پریشانی میں مبتلا ہیں ہر کوئی اپنے کام کے متعلق مشکلات میں مبتلا ہے۔ بجلی، گیس، پٹرولیم مصنوعات آٹا، گھی، چینی سمیت اشیائے خوردو نوش کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے مہنگائی کے طوفان کا سامنا کرنے کے لیے عوام کو بے آسرا چھوڑ دیا گیا ہے۔
حکومت کا چینی مافیا پر کریک ڈاوّن شروع کرنے کے بعد چینی کی قیمت 68روپے فی کلو مقرر کی گئی لیکن مارکیٹ میں یہ 100 روپے سے اوپر جا رہی ہے۔ اسی طرح آٹا مافیا کے خلاف جونہی حکومت میدان میں اتری اور آٹے کی قیمت 40روپے فی کلو مقرر کی تو آج وہ 70 روپے کلو بک رہا ہے۔ اس سے یہی لگتا ہے کہ مافیاوّں نے تحریکِ انصاف کی حکومت میں ڈیرے ڈال رکھے ہیں اور یوں لگتا ہے جیسے یہ بحثیت قوم ہم اس کشتی کے مسافروں کی طرح ہیں جو موجوں کے رحم و کرم پر ہوں۔ ہر آنے والا حکمران جانے والے کو ملک کی معاشی بد حالی کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔ ملک و قوم پر قرضوں کے بوجھ اور خزانہ خالی کا قصور وار سابقہ حکمرانوں کو قرار دیتا ہے۔ لیکن موجودہ حکمران طریقوں اور انداز سے قوم کو بہلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
حکومتی ٹیکسوں میں پے در پے اضافہ کرنے پر عوام چیخ رہے ہیں کہ اگر غریب پاکستانیوں کے زخموں کا مداوا کرنے کی بجائے مہنگائی و گرانی کا سونامی ہی لانا تھا تو پھر پچھلی حکومتیں بھی تو ایسی ہی تھیں ۔ پاکستانی قوم گزشتہ 73 سالوں سے بھی کسی ڈکٹیٹر کو تو کبھی کسی جمہوری حکومت کے دعووّں اور وعدوں کے سہارے محض جوتیاں گھساتے چلی آ رہی ہے مگر نتیجہ یہ نکلا کہ آج قوم کا ہر فرد ڈیڑھ لاکھ روپے سے زائد کا مقروض ہے جبکہ یہاں مخنت کش کے دونوں ہاتھ خالی ہیں۔
تحریکِ انصاف کی حکومت جس رفتار سے چل رہی ہے اس میں رفتار سے زیادہ گفتار سے کام لیا جا رہا ہے۔ خطے کے حالات اور حکومت کی پے در ہے غفلت یہ اشارے دے رہی ہے کہ اب ملک مزید تجربات کا متحمل نہیں رہا ضرورت اس امر کی ہے طرزِ حکمرانی تبدیل کرتے ہوئے عوامی مسائل کو اولیت دی جائے اور معاشی اصلاحات لاکر ملک سے مہنگائی اور بے روزگاری کا خاتمہ کیا جائے۔
بقلم: کاشف شہزاد

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button