پاکستان

حویلیاں طیارہ حادثے کی رپورٹ چار سال بعد جاری کردی گئی

حویلیاں کے قریب پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن (پی آئی اے) طیارے کے حادثے کی تحقیقاتی رپورٹ تقریبا چار سال کے مہلک حادثے کے بعد جاری کردی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق ، اس رپورٹ میں پی آئی اے کے انجینئرز کو اس حادثے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے جس میں مذہبی اسکالر اور سابق گلوکار جنید جمشید سمیت 48 مسافر ہلاک ہوگئے تھے۔

تفتیش کاروں نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ایک ٹوٹا ہوا ٹربائن بلیڈ نے ناکامیوں کا ایک “پیچیدہ” سلسلے کو جنم دیا جس کا اختتام سنہ 2016 میں ہوایل پی آئی اے کے مہلک حادثے کے نتیجے میں ہوا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طیارے کا ایک انجن دوران پرواز ناکام ہوگیا جبکہ دوسرے انجن کا بلیڈ پچھلی پرواز کے دوران (پشاور سے چترال) فریکچر ہوگیا تھا۔

اس میں مزید کہا گیا ہے کہ فریکچر شدہ بلیڈ کے باوجود ہوائی جہاز کو اگلی پرواز میں آگے بڑھنے کی اجازت ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ طیارے کے انجن اوور ہال کو 10،000 گھنٹے مکمل ہونے کے باوجود ملتوی کردیا گیا تھا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button