پاکستان

پاکستان اسٹیل ملز اور سابقہ حکومتوں کی کارستانیاں

ملک کی صنعتی ترقی کے لیے اسٹیل مل کا کردار دیگر صنعتوں کی نسبت زیادہ اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ نئی صنعتوں کی تعمیر کے ساتھ صنعتی و غیر صنعتی انفراسٹرکچر میں لوہے کے استعمال کا کلیدی حصہ ہوتا ہے اس لیے اسٹیل مل کی نگہداشت کے ساتھ کارکردگی بہتر بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ پاکستان اسٹیل ملز ملک کی ضروریات کا ایک بڑا حصہ پورا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے مگر سیاسی و مقامی اجارہ داریوں کے مقامی ایجنٹوں کی سازش نے اپنی پوری صلاحیتی پیداوار کے مطابق چل کر منافع دینے والے ادارے کو بندش تک پہنچا دیا ہے۔ پاکستان کو اپنی ضروریات کے لیے 3.10 ارب ڈالر کا لوہا اور اسٹیل درآمد کرنا پڑتا ہے جبکہ اسکی اپنی اسٹیل ملز پچھلے کئی سالوں سے بند کر دی گئی ہے۔ اس ادارے کے بند ہونے کی بنیادی وجہ جاننے کے باوجود اسے دور نہیں کیا گیا بلکہ اسے خامیوں کے باوجود بھی چلانے کی کوشش کی جاتی رہی۔ گزشتہ پانچ سال سے پاکستان اسٹیل ملز کی پیداوار صفر کے برابر ہے مگر پھر بھی اس بند اسٹیل ملز کے ملازمین کو 36ارب روپے تنخواہوں کی مد میں ادا کئے گئے۔پاکستان اسٹیل کاقرضہ230ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے اس لیے حکومت نے اسٹیل ملز کے 100فیصد ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 9ہزار کے قریب ملازمین فارغ ہوں گے تو حکومت کو تنخواہ اور سود کی مد میں 70کروڑ ماہانہ کی بچت ہوگی۔ حالانکہ پاکستان اسٹیل ملز کے خسارے کی بنیادی وجہ صرف مزدور نہیں بلکہ سیاسی قیادت کی مداخلت اور نااہل اعلٰی انتظامیہ ہے۔اس میں شک نہیں کہ قومی ادارے ملک کا سرمایہ ہوا کرتے ہیں تاہم بعض اوقات ملکی مفاد کی خاطر ان اداروں کے حوالے سے تلخ فیصلے بھی کرنا پڑتے ہیں ایسا ہی فیصلہ پاکستان اسٹیل ملز کے حوالے سے سامنے آیا ہے جس پر اپوزیشن نے انتہائی مایوس کن ردِعمل ظاہر کیا ہے۔ چئیرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹوزرداری اسٹیل ملز سے مزدورں کو فارغ کرنا انسانیت کے خلاف قرار دے رہے ہیں حالانکہ پاکستان اسٹیل ملز کو اس نہج تک پہنچانے میں سب سے زیادہ کردار پیپلزپارٹی اور ایم۔کیو۔ایم کا رہا ہے۔2008 سے 2018 تک ان دس برسوں میں نااہل نالائق اور مفاد پرست سیاسی قیادت نے اس قومی ادارے کی بحالی کے لیے پلان تک ترتیب نہیں دیا ، موجودہ حکومت اب اس ادارے کے مستقبل کا فیصلہ کرنے لگی ہے تو بلاول بھٹو کے بعد سندھ کے صوبائی وزیر سعید غنی بھی بول اٹھے ہیں کہ ہم مزاحمت کریں گے حالانکہ انہیں اپنے سابق فیصلوں پر شرمندگی کا اظہار کرتے ہوئے حکومتی فیصلے کو سراہنا چاہیے تھا۔یہ امر واقع ہے کہ سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں پاکستان اسٹیل ملز اپنے پاﺅں پر کھڑی ہو گئی تھی۔ جب پرویز مشرف اقتدار سے رخصت ہوئے تو اس وقت پاکستان اسٹیل ملز 9ارب روپے منافع کے ساتھ کھڑی تھی۔ پرویز مشرف کے اقتدار سے جانے کے بعد جب پیپلزپارٹی کی حکومت آئی تو اس نے آتے ہی اس میں اندھا دھند سیاسی بھرتیاں کرنا شروع کر دیں۔پیپلزپارٹی نے اپنے دور میں جسے چئیرمین اسٹیل ملز تعینات کیا اسکے خلاف کرپشن کے کیسز سامنے آئے تھے۔اس وقت سندھ حکومت کی ذمہ داری بنتی تھی کہ ان الزامات کی تحقیقات کر کے قومی ادارے کے معاملات کو صاف اور شفاف بنایا جاتا مگر پیپلز پارٹی کی حکومت نے تحقیقات میں رکاوٹ کھڑی کر کے ایف آئی اے کے افسران کو تبدیل کردیا جس کے بعد کیسز پر تحقیقات رک گئیں۔
پیپلز پارٹی جب اقتدار سے رخصت ہوئی تو اس وقت ملازمین کی تعداد میں اضافے کے ساتھ ساتھ خسارے میں بھی بے تحاشہ اضافہ ہو چکا تھا۔ 2013 میں جب مسلم لیگ ن کی حکومت آئی تو سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ملز کو سرے سے بند ہی کروا دیا اور ہر بجٹ میں اسٹیل ملز کے ملازمین کی تنخواہوں کے لیے فنڈ مختص کرنا شروع کر دئیے، یوں اسٹیل ملز ملازمین گزشتہ پانچ سالوں سے گھروں میں بیٹھ کر مراعات انجوائے کر رہے ہیں۔ دراصل اسٹیل ملز میں زیادہ تر پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے  ذاتی کارکنان ملازم ہیں جو اب بھی تنخواہ اسٹیل ملز سے لیتے ہیں لیکن کام سیاسی جماعتوں کا کرتے ہیں۔ حکومت ٹیکس گزاروں کے پیسے سے کب تک ان گھروں میں بیٹھے سرکاری ملازمین کو پیسے دیتی رہے گی۔ ریلوے، پی آئی اے اور اسٹیل ملز کمرشل ادارے ہیں انہیں کمرشل بنیادوں پر ہی چلایا جانا چاہیے تاکہ حکومتی کندھوں پر ان اداروں کا بوجھ نہ پڑے۔ اگر خسارے میں چلنے والے ادارے اپنے پاﺅں پر کھڑا نہیں ہو سکتے تو انکی نجکاری کرنے میں کوئی قباحت نہیں اس نجکاری سے نہ صرف مزید لوگوں کو روزگار ملے گا بلکہ ملکی معیشت بھی مضبوط ہوگی اور ملک بھی خوشحال ہو گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button