کالم

پھول جیسے چائلڈ لیبر:ان کے اصل ذمہ دار کون ہیں؟

ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں 152 ملین کے قریب بچے غربت کی وجہ سے کاپی، قلم اور سکول سے دور محنت مشقت کرنے پر مجبور ہیں۔ صرف پاکستان میں 2 کروڑ کے قریب بچے تعلیم سے دور اور ایک کروڑ سے زائد بچے چائلڈ لیبر کا شکار ہیں۔ آخر اتنی بڑی تعداد میں بچے اپنے بنیادی حقِ تعلیم سے محروم اور مشقت کرنے پر مجبور کیوں ہیں؟اس صورت حال کا ذمہ دار کون ہے؟اسکا سدِباب کیسے ممکن ہے؟ میر ے خیال میں ان سوالات کا جواب ڈھونڈنا مشکل نہیں۔ اس صورتحال کے ذمہ دار بچوں کے والدین ہیں پھر وہ لوگ جو اِن بچوں سے کام لیتے ہیں اور آخر میں وہ حکمران جو غریبوں کی بھوک مٹانے کا وعدہ کر کے حکومت میں توآجاتے ہیں مگر اِن کے لیے کچھ کر نہیں پاتے۔
اگر مزدور بچوں کے والدین سے پوچھا جائے کہ وہ اپنے بچوں سے مشقت کیوں کرواتے ہیں تو اکثر والدین غربت اور مہنگائی کا رونا روتے نظر آتے ہیں کہ مالی وسائل کی کمی کے سبب بچوں کو مشقت پر لگا دیتے ہیں تاکہ وہ ان کا سہارا بن سکے۔یہ حقیقت ہے کہ کوئی بھی صاحبِ حثییت شخص یقینااپنے بچوں کی اچھی تعلیم و تربیت کا بندوبست کرے گا۔وہ کسی صورت اپنے بچوں کو محنت ومشقت کی چکی میں نہیں ڈالے گا۔ آج مہنگائی کے اس دور میں جب ایک فرد کی کمائی سے گھر چلانا مشکل ہے تو اکثر غریب والدین مجبوراََ اپنے بچوں کو محنت مزدوری پر لگا دیتے ہیں جس سے چائلڈ لیبر میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ دوسری جانب بات کی جائے ان افراد کی جو اپنی صنعتوں، کارخانوں،بھٹوں،کھیتوں،ورکشاپس،
ہو ٹلوں اور گھروں میں بچوں سے کام لیتے ہیں۔ یہ وہ افراد ہیں جو غریب کی مجبوری سے صحیح فائدہ اٹھاتے ہیں۔یہ لوگ بچوں سے پورا کام لیتے ہیں اور تھوڑی اجرت دیتے ہیں، بچوں کو کم اجرت دینا پڑتی ہے اس لیے زیادہ تر بچوں کو کام پر رکھا جاتا ہے، یہ لوگ بچوں سے خو ب مشقت کرواتے ہیں اور اگر بچے سے چھوٹی موٹی غلطی ہو جائے تو بری طرح تشدد کا نشانہ بناڈالتے ہیں۔
اس طرح کے کیسیزہمیں اکثر اپنے اردگرد میڈیا پر دیکھنے کو ملتے ہیں۔ چونکہ مزدور مجبور ہوتا ہے اس لیے یہ بچے مار کھا کر تشدد برداشت کر کے بھی اپنا کام کاج جاری رکھتے ہیں۔چائلڈ لیبر سے مستفید ہونے والوں میں ڈاکٹر، وکیل، جج اور ہمارے بڑے بڑے سیاست دان بھی شامل ہیں جن کے گھروں، کارخانوں، صنعتوں اور کھیتوں میں یہ ننھے مزدور اپنا خون پسینہ بہا رہے ہیں اور اپنے غریب ہونے کی سزا کاٹ رہے ہیں۔
اگر ہم حکمرانو ں کی بات کریں تو چائلڈ لیبر میں اضافے کے اصل ذمہ دار یہی ہیں۔ افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ پاکستان میں کسی بھی حکومت نے اس مسئلہ کو سنجیدہ نہیں لیابلکہ ہر دور میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے سیلاب اور حکومت وقت کی غریب کش پالیسیوں نے عام آدمی کی زندگی مشکل بنائی ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں اس وقت غربت کی شرح چالیس فیصد ہے اور موجودہ صورتحال میں اس شرح میں مزید اضافے کی توقع ہے۔ درحقیقت ہماری حکومتوں کی غریب کش معاشی پالیسیوں سے غربت کی شرح بڑھ رہی ہے اسی وجہ سے چائلڈ لیبر میں بھی اضافہ ہو رہا ہے اس ساری صورتحال سے واضح ہوتا ہے کہ چائلڈ لیبر کے اصل ذمہ دار سابقہ اور موجودہ حکمران ہیں جن کی ناقص پالیسیوں کے سبب چائلڈ لیبر میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ حکومتیں چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے سنجیدگی سے اقدامات کرتی کہیں نظر نہیں آتیں، حکمران ہمیشہ چائلڈ لیبر کے خلاف قوانین کو مزید سخت کرنے اور ذمہ داروں کو سخت سزاوں کی یقین دہانی کرواتے تو نظر آتے ہیں مگر اس پر عمل درآمد کروانا وہ بھول جاتے ہیں۔
میرے خیال کے مطابق حکمرانوں کو چاہیے کہ وقتاََ فوقتاََ چائلڈ لیبر کے خلاف سیمینارز اور آگاہی واک کا انعقاد کرائے اور ساتھ ساتھ چائلڈ لیبر کے خلاف میڈیا میں اشتہارات کی باقاعدہ مہم چلائے تا کہ عوام میں بچوں سے مشقت کے بارے شعور بیدار ہو، ان اقدامات سے حکمرانوں سے چائلڈ لیبر کے خاتمے کے بارے سنجیدگی ظاہر ہونے کی توقع کی جا سکے گی۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button