کالم

پاکستان میں پولیٹیکل اکانومی کی پسِ پردہ حقیقت

چینی کی قیمتوں میں اچانک اضافے کی بات شوگر انڈسٹریز تک پہنچ گئی جو انتہائی تشویشناک ہے کیونکہ چینی اسکینڈل کی جو فرانزک رپورٹ سامنے آئی تھی اور جس دلسوزی سے اس کے مندرجات اور ملز کے طریقہ کار کی تصویر کھینچی گئی اس سے یہی ظاہر ہو ا تھا کہ ملک کی ایک بہت بڑی انڈسٹری کے ذریعے مال بنانا کس قدر آسان ہے۔ رپورٹ کے مندرجات پر جائیں تو پاکستان کی اس انڈسٹری میں مال بنانا کاغذ کی کشتی بنانے کی طرح آسان ہے۔ فرانزک رپورٹ سے شوگر انڈسٹری سے مال بنانے کی جو ترکیب سمجھ آتی ہے وہ انتہائی سادہ اور آسان ہے۔
اؤل یہ کہ آپ کو کسی بااثر سیاسی خاندان میں پیدا ہوناہے۔ دوسرا یہ کہ آپ کو اپنے علاقے میں ایک عدد شوگر ملز لگانے کا کچھ کشٹ اُٹھانا ہے اس کے بعد سب بہت آسان ہے۔ گنے کا ایک بہت بڑا حصہ ایجنٹ کے ذریعے امدادی قیمت سے پندرہ بیس فیصد کم پر خریدنا ہے لیکن اسکی قیمت کھاتوں میں زیادہ ظاہر کرنی ہے، ملز کی پیداواری گنجائش کو خاموشی سے ڈیڑھ گنا یا دو گنا کر لیں مگر خیال رہے حکومتی ادارون کو کانوں کان خبر نہ ہو، یوں ٹیکس کی مد میں آپ کے پاس گنجائش پیدا ہو جاتی ہے۔ چینی بیچتے وقت دو کھاتے رکھنے ہیں ایک کچا اور ایک پکا۔ کچے پر جو بیچنا ہے اُس کے چیک بے نامی اکاؤنٹ کے ہونے ضروری ہیں، اسٹاک ذخیرہ رکھنا ہے تو رکھ لیں ورنہ سٹے بازوں کے ساتھ صلاح مشورے کے مطابق بیچتے جائیں۔ اسکے باوجود بھی اگر انکم ٹیکس واجب الادا بن جائے تو اسکے ریفنڈ کے لیے درخواست داغ دیں، ادا شدہ انکم ٹیکس تقریباََنصف ریفنڈ مل جائے گا۔
ہر دو تین سال بعد مقامی پیداوار زیادہ ہو جائے تو گھبرانا نہیں چینی برآمد کی اجازت لیں بھاری بھر کم ریٹ حاصل کریں اور اگلے سیزن کی تیاری کریں۔ ہر چند سال بعد ملز کی تعداد اور پیداواری گنجائش تیزی سے بڑھے گی۔ بس ایک خیال رکھنا ہے کہ خاندان میں سے ایک فرد کسی بڑی سیاسی پارٹی میں ہو اور ایم پی اے یا ایم این اے ہو۔
رپورت کے مطابق کین کمشنر، شوگر ایڈوائزری بورڈ، ای سی سی،اسٹیٹ بینک اور ایف بی آرمنہ تکتے رہے مگر چینی برآمد کی اجازت بھی ٹھکا ٹھک مل گئی اور سبسڈی کی رقم بھی۔ اگر سیاسی مقابلے بازی کی وجہ سے جوتوں میں دال نہ بنتی تو کس کو کب معلوم ہونا تھا کہ صارفین کو سال ہا سال چینی کی اصل قیمت سے پانچ سے پندرہ روپے فی کلوتک زیادہ ادا کرنے پڑتے ہیں۔بقول رپورت اس حساب سے سالانہ ایک سے دیڑھ سو ارب روپے تک صارفین کی جیب سے یوں نکلے کہ انہیں اپنی جیب ہلکی محسوس بھی نہ ہوئی۔
انڈسٹر ی میں کارٹل کا طریقہ کار رہا، کرشنگ سیزن تاخیر سے شروع کرنے کی چالاکیوں سے لے کر ملز کے باہر لمبی لائنوں اور کٹوتیوں کے باوجود کیش ادائیگی مکمل نہیں ہوتی رہی، عموماََ اگلے سیزن کے آغاز تک پچھلے سیزن کے واجبات لٹکانے کا معمول رہا۔ ملز کے علاقے میں ایجنٹس کے میزان پر پندرہ بیس فیصد کم ریٹ اور کٹوتی کے ساتھ وہی گنا ملز کو سپلائی ہوتا رہا، جن سالوں میں گنے کی کاشت زیادہ ہوتی یہ معمول یوں ہی جاری رہا۔
گنے کی قیمت حکومت متعین کرتی ہے مگر چینی کی قیمت مارکیٹ فورسز طے کرتی ہیں جن میں کئی ذخیرہ اندوز اور سٹے بارفیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔ زیادہ تر سیلز کچے کھاتوں میں ہوتی ہے یو ں سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس واجبات کا پتہ بھی صاف ہو جاتاہے اور سرمایہ محفوظ طریقے سے گردش میں رہتاہے۔ شوگر انڈسٹری کے کاروبار ی طور طریقے ایک کارٹل کی مانند ہیں، پالیسی سازوں کو بھی معلوم تھا، ریگولیٹر اداروں کو بھی معلوم تھا کہ یہاں کاروبار کس طرح ہوتا ہے مگر جب وہی منصف ہوں جن سے شکایت ہو تو کیا کیجئے۔ کین کمشنر کی تعیناتی ہو یا شوگر ایڈوائزری بورڈ کی تشکیل،مسابقتی کمیشن کے ممبران کی تعیناتی ہو یا ایس ای سی پی کے کمشنر کی منظوری، ای سی سی کے ایجنڈے میں شوگر ایکسپورٹ کی شمولیت ہو یا صوبائی کابینہ میں ہائی سرکولیشن سبسڈی کی سمری کی منظوری۔ فصل کی کاشت، طلب و رسد کے اعدادو شمار ان کی بنیاد پر فیصلے یہ سب ایک پُر اسرار طاقت کا پتہ دیتے ہیں۔
یہ پُر اسرار طاقت وہ پولیٹیکل اکانومی ہے جو سیاست اور حکومت پالیسی بناے اور عمل کرنے کے عمل میں پنجے گاڑے ہوئے ہے۔ یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ کابینہ میں مفادات کے ٹکراؤ کا قانون بنانے کی سفارش کی گئی ہے لیکن نرے قانون بنانے سے کبھی مفادات کا جال ٹوتا ہے جو اب ٹوٹے گا؟ رپورٹ جس طرح چند سیاسی مخالفین کے گرد گھوم رہی ہے اندیشہ ہے کہ شوگر انڈسٹری کی پولیٹیکل اکانومی اور مفادات کے ٹکراؤ کا دیرینہ بندوبست پھر آسانی سے سیاسی آڑ میں چھپ جائے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button