کالم

غربت

نہ محبت نہ پیار دیتی ہے

پھول مانگو تو خار دیتی ہے

آرزوئوں کا خون کرتی ہے

حسرتیں بے شمار دیتی ہے

وائے  غربت کہ میرے بچوں کی

خواہشیں   روز   مار  دیتی   ہے عطاء راٹھور عطار

         غربت یہ لفظ سن کر ہی انسان تلملا اٹھتا ہے روح بےچین ہو جاتی ہے لکھتے ہوئے ہاتھ کپکپاہٹ کا شکار ہو جاتے ہیں آنکھ نم ہو جاتی  چہرہ اداسیوں کا شکار ہوجاتا  اور دل میں ویرانی و خوف چھا جاتی ہے . غربت موجودہ دور کےمسائل میں سے ایک اہم اور سنگین مسلہ ہے جو وقت کے ساتھ بڑھ رہا اور بہت جانیں نگل رہا آئے روز ایسے واقعات سننے میں آتے جس کو سن کر رونگھٹے کھڑے ہو جاتے ہیں . اس مختصر سے زندگی میں انسان بہت سی خواہشات کو پورا کرنا چاہتا حتی کہ موت کہ منہ میں چلا جاتا مگر پھر بھی اس کی خواہشات ادھوری رہتی اس رنگین دنیا کے سنہرے خواب کبھی پورے نہیں ہوتے اور غریب شخص بھی ایسے ہی خواب دیکھتا ہے مگر اس کے یہ خواب خواب ہی رہ جاتے جن کی کوئی تعبیر نہیں .

        غربت یہ نہیں کہ آپ کو پیٹ بھر کر کھانا نہ ملے ،اپنے موبائل فون کے اخراجات پورے نہ کر سکیں ، سینما ہال کا رخ کر سکے ، رنگین دنیا کی سیر نہ کر سکے ، سرکاری ملازمت نہ ہو یا پھر محفلوں اور تقریبات میں پیسہ نہ کر سکیں ہر گز ایسا نہیں غربت اس کا نام نہیں غربت کی تعریف پوچھنی ہو تو اس باپ سے پوچھو جو صبح نکلتا اور شام کو اداسی لیے گھر داخل ہوتا جنھیں کچھ خبر نہیں کہ ایک وقت کا کھانا ملے یا دو گا یا ملے گا ہی نہیں . اس کے بچوں کے اخراجات پورے ہوں گے یا نہیں .روٹی ، کپڑا اور مکان کی سہولت سے کب تک دور رہیں گے .یہ غربت ہی ہے کہ اس کا بچہ دیگر بچوں سے بہت پیچھے ہے دوسرے لوگوں کے بچے اسکول جاتے اور غریب شخص کا بچہ صحن میں بیٹھا والد کا انتظار کر رہا ہوں کہ ابا جان کچھ لائیں گے .غریب کا بچہ بارش میں ٹپکتی چھت کے نیچے ،سخت سردی میں بغیر کسی بستر کے  اور سخت گرمی میں بغیر پنگھے کے گزارا کرتا ان کے پاس احساسات و جذبات کے سوا کچھ نہیں ہوتا .

  نکلا تھا صبح کتنے ہی  ارمان لیے غریب

   لوٹا جو شام کو تو تھکن سے نڈھال تھا  (ذوالفقار ساغر)

      حال میں غریب غریب تر اور امیر امیر تر ہوتا جا رہا .غریب کا بچہ تعلیم کی ڈگری لیے ہر جگہ بھٹکتا ہے اور امیر کا بچہ رشوت و سفارش سے نوکری کی منزل کو آسانی سے پا لیتا .آہ غریب آہ جس کی قسمت میں خوشی نہیں اداسی ہے اور حکومت جو ان کا سہارا ہے وہ بھی بے سہارا بنی ہے ٹیکس ان اشیاء پر زیادہ لگائی جاتی جو غریب استعمال کرتا .تعلیم  مہنگی ضروریات زندگی کا سامان مہنگا .اب غریب کی فریاد سنے گا کون ؟ . زٰکوۃ کی منصفانہ تقسیم اس مسلہ کا حل ہے ہم آج اگر زٰکوۃغریب و مسحق لوگوں میں تقسیم کریں تو اس کا حل نکل سکتا اس کے علاوہ غیر ضروری محفلوں و تقریبات میں پیسہ خرچ کرنے کے بجائے ان غرباپر تقسیم کریں تو ان کے چہرے پر مسکان لا سکتے ہیں .حکومت تعلیم اور روزگار کو اس سطح پر لائے جہاں غریب کو بھی فائدہ ہو موجودہ دور میں ڈگری کی جگہ پیسہ و سفارش نے لے لی ہے اس کو ختم کرنا ہو گا .ایک گاوں میں پانچ مساجد آباد ہیں وہ بھی فرقہ کی بنیاد پر اگر ہم مل کر ایک مساجد میں نماز قائم کریں اور جو چندہ وہاں دیتے تھے اگر غریب کو دیں تو اس سے بھی کمی آ سکتی ہے . امید ہے میرے الفاظ کسی کے دل میں جگہ بنائیں گے اور شائد وہ غربت کے مسلہ کےحل کے لیے بہتر ثابت ہو کسی غریب کا بھلا ہو سکے آئیے مل کر کام کریں کیوں کہ یہ اس کا یہ اس کا مسلہ نہیں یہ امت مسلمہ کا مسلہ ہے اور ہم سب ایک جسد واحد کی طرح ہیں کسی ایک بھی شخص کو تکلیف ہو ہم سب کو اس کا احساس ہونا چاہیے .

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button