کالم

غریب محنت کش اور آٹے چینی کا بحران

ایک طرف حکومت کورونا وائرس سے نبرد آزما ہے تو دوسری جانب منافع خور مافیا نے اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے کے ذریعے عوام کو لوٹنے کا سلسلہ برقرار رکھا ہوا ہے۔ ملک بھر میں آٹے کی قیمت میں اضافہ ہو رہا ہے اور محکمہ خوراک کی جانب سے قائم کئے گئے آٹا پوائنٹس بھی تقریباََ ختم ہو چکے ہیں جسکی وجہ سے شہر ی مہنگا آٹا خریدنے پر مجبور ہیں۔آٹا ڈیلرز کے مطابق آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافے کے امکانات ہیں، روٹی مزید مہنگی ہو رہی ہے جبکہ انتظامیہ کی جانب سے قیمتوں میں اضافہ کی روک تھام کے لیے اقدامات نہیں کئے جا رہے جس سے عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق آڑھتی، ذخیرہ اندوزاور منافع خور آٹے اور چینی کے بحران میں اضافی 200 ارب کما چکے ہیں انہوں نے اب بھی پانچ ملین میٹرک ٹن گندم کا ذخیرہ کر رکھا ہے۔ ستمبر 2018 سے اب تک 23 مہینوں میں گندم کی قیمت میں 94 اور چینی کے نرخوں میں 69 فیصد ریکارڈ اضافہ ہوا ہے جسکی مثال اس سے پہلے ملک کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ سرکاری اعدادو شمار کے مطابق 2009 سے 2018 تک ملک میں تقریباََ386.8 ملین میٹرک ٹن گندم زیادہ تھی جبکہ حالیہ دنوں میں اسکی قلت کا سامنا ہے رواں سال فروری کے بعد یہ دوسرا موقع ہے کہ اس کمی کو مہنگے داموں گندم درآمد کر کے پورا کرنا پڑ رہا ہے۔ آئندہ چند روز میں یو کرائن سے جو گندم درآمد کی جارہی ہے اسکی قیمت میں پہلے ہی پونے چار ہزارروپے فی ٹن اضافہ ہو گیا ہے، کراچی سے دوسرے شہروں کو سپلائی کرنے کے اخراجات اور درآمد کنندگان کا منافع نکال کر عام آدمی کو یہ کس قیمت پر ملے گی اس کے بارے ابھی کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ آٹا غریب کی زندگی میں سب کچھ ہے اگر محنت مزدوری کی کمائی سے وہ پیٹ بھر کر خود اور بیوی بچوں کو دو وقت کی روٹی نہیں کھلا سکتا تو اس بات کی صراحت کی ضرورت نہیں کہ وہ کیونکر زندگی کی دوسری احتیاجات پوری کرئے گا۔ حالیہ مہنگائی نے دال، روٹی،سبزی، ترکاری سے لیکر ہر شے کی قیمتوں کوآسمان تک پہنچا دیا ہے جس سے غریب محنت کش بے حد پریشان ہے۔
ملک میں چینی بھی 90 روپے فی کلو سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ بوری کی قیمت 4250 روپے تک پہنچ چکی ہے۔ چینی کی قیمت میں ایک ہفتے کے دوران 10 روپے فی کلو تک اضافہ ہو گیا ہے۔ چینی کی قیمت میں مسلسل اضافہ سے اس کاروبار سے وابستہ تاجروں نے پرانے سٹاک کو بھی نئے نرخوں پر فروخت کرنا شروع کر دیا ہے اور سٹاک کی جانے والی چینی کے نئے نرخوں پر فروخت سے کروڑوں روپے کا منافع کما لیا ہے۔ چینی کی بوری 3900سے 4200 روپے تک پہنچ گئی۔ کورونا لاک ڈاون کی وجہ سے چینی کی قیمت میں 4 مہینے کے دوران 25 روپے فی کلو کا اضافہ ہو ا ہے، چینی کی قیمت میں مسلسل اضافہ کے باعث تاجروں نے بڑی مقدار میں چینی کی خریداری شروع کر دی ہے تاکہ عوام کو دونوں ہاتھوں سے عید سے پہلے لوٹ سکیں۔
عید الاضحی کے قریب آتے ہی سبزیوں اور فروٹ کی قیمتوں کو پرَ لگ گئے، حکومت مہنگائی کے سیلاب کو روکنے میں مکمل طور پر ناکام نظر آ رہی ہے، ضرورت کی تمام اشیاءعوام کی پہنچ سے دور ہو چکی ہیں اور ناجائز منافع خوروں نے بڑی عید سے قبل ہی تمام اشیاءکے ریٹ بڑھا دئیے ہیں، ذخیرہ اندوزوں نے مارکیٹوں سے گندم، آٹا، چینی، ٹماٹر، سبزیوں اور موسمی پھلوں کو غائب کرنا شروع کر دیا ہے اور انکو مہنگا بیچنے کے لیے کولڈ سٹوریج میں سٹاک کرناشروع کر دیا ہے اور ایک مصنوعی بحران پیدا کر کے عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنا شروع کر دیا ہے۔ یہ بات سچ ہے کہ آج تک مختلف بحران پیدا کرنے والوں کو نہیں پکڑا گیا یہ معاملہ بھی ماضی کی طرح پس پشت ڈال دیا جائے گا۔
بلا شبہ ذخیرہ اندوزی اور چور بازاری بہت بڑی لعنت ہے، انہی کی وجہ سے موجودہ تکلیف دہ حالات میں عوام کو مسلسل خوراک کی یاد یگر ضروری اشیائے صرف کی کمی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ذخیرہ اندوزی اور چور بازاری معاشرے کے خلاف ایک بہت سنگین جرم ہے، جب کوئی شہر ی ذخیرہ اندوزی کرتا ہے تو وہ بڑے سے بڑے جرم کا ارتکاب کرتا ہے۔ ذخیرہ اندوزی کرنے والے لوگ باخبر، ذہین اور عام طور سے ذمہ دار لوگ ہوتے ہیں۔ جب یہ ذخیر ہ اندوزی کرتے ہیں توانہیں کڑی سے کڑی سزا ملنی چاہیے کیونکہ یہ لوگ خوراک اور دیگر اشیائے صرف کی باقاعدہ تقسیم کے نظام کو تہہ و بالا کر دیتے ہیں اور اس طرح غریب عوام فاقہ کشی اورموت کے منہ میں چلی جا تی ہے۔ سابقہ حکمرانوں نے اس مسئلے پر پوری توجہ نہ دی اور آج ذخیرہ اندوز بہت بڑا مافیا بن چکے ہیں، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری بلاشبہ ایک لعنت ہے اور ان کے مرتکب افراد معاشرے کے لیے ناسور ہیں ایسے لوگوں کو نشان عبرت بنا دینا ہی ان کے کرتوتوں کا تقاضا ہے کیونکہ سمگلر، ذخیرہ اندوز اور منافع خور جہاں حکومت کی عوام دوست پالیسیوں کو سبوتاڑکرتے ہیں وہیں انسانوں کے منہ سے نوالہ چھیننے کا سبب بھی بنتے ہیں انہی لوگوں کے بدترین کردار کے باعث حکومتی پالیسیوں کے ثمرات کما حقہ عوام تک نہیں پہنچ پاتے اس لیے معاشرے میں ایسے گھناونے کرداروں کی نہ صرف نشاندہی ضروری ہے بلکہ ان کو سخت ترین سزائیں دینا بھی ناگزیر ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button