کالم

‎افغان، افغانی اور کورونا وائرس سے بچاوّ کے لیے ڈیورنڈ لائن کی تعمیر

کسی قوم کو بحثیت مجموعی احسان فراموش قرار نہیں دیا جا سکتا تاہم افغان حکومت نے بارہا  اپنی احسان فراموشی ثابت کی ہے۔ پاکستان نے گزشتہ دہائیوں میں افغانوں کے لیے بہت کچھ کیالیکن اپنے مغربی پڑوسی سے اس کے تعلقات ابتداہی سے مشکلات کا شکار رہے اس میں ڈیورنڈ لائن کے تنازعے کو مرکزی حثییت حاصل ہے اور دیگر کئی تنازعات کی طرح یہ بھی ہمیں برطانوی استعمار سے ورثے میں ملا ہے اگرچہ اس لائن کے منطقی یا غیر منطقی ہونے کے بارے بہت کچھ کہا جا سکتا ہے لیکن بنیادی بات یہی ہے کہ برطانوی راج سرحدی لکیروں سمیت جو کچھ چھوڑ کر گیا اس کے حصے دار پاکستا ن اور بھارت تھے۔ افغان حکومتوں کی جانب سے اس لائن پر سوال اٹھاتے جاتے رہے ہیں اور بات اس لیے بھی مزید پچیدہ ہو جاتی ہے کہ یہ لکیر کئی قبائل اور خاندانوں کو تقسیم کرتی ہے اس لیے جب بھی افغانستان کا معاملہ زیر بحث آتا ہے تو پاکستان کے پختون اسے خاندانی تناظر میں دیکھنا شروع کر دیتے ہیں۔ایک قومی ریاست کے طور پر اپنے قیام ہی سے ہماری سرحدوں کا تعین ہوا تھا، افغانستان سے ملحق ہماری سرحدیں بغیر کسی رسمی کاروائی کے آمد و رفت کے لیے کھلی رہی ہیں۔ ایک جانب جہاں اس سے پاکستان کی قومی شناحت کو زد پہنچی وہی اس سرحد پر ہونے والی اسمگلنگ کے باعث پاکستان کے قومی خزانے کو ہر سال اربوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے اور یہ دھندہ کرنے والے امیر سے امیر تر ہوتے جا رہے ہیں۔
یہ تصویر کا ایک رخ ہے، تین مختلف ادوار میں افغانستان سے پناہ گزینوں کی تین لہریں افغانستان سے پاکستان آئیں، پہلی لہر سوویت جارحیت کے بعد1979میں، دوسری بڑی نقل مکانی 1996 میں طالبان دور ِ حکومت میں ہوئی اور تیسری بار نو گیارہ کے واقعے کے بعد افغان پناہ گزینوں نے پاکستان کا رخ کیا۔ پہلی لہر میں چالیس لاکھ سے زائدافغان صوبہ سرحد میں داخل ہوئے۔ انہیں پناہ گزین کیمپوں تک محدود نہیں رکھا جا سکااور یہ بہ آسانی پورے پاکستان میں پھیل گئے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتاہے کہ کراچی افغانوں کا دوسرا بڑا شہرہے۔
انہوں نے پاکستان کا پاسپورٹ حاصل کر لیا اور بالخصوص ٹرانسپورٹ سمیت ہماری معیشت کے کئی شعبوں پر اپنی اجارہ داری قائم کر لی۔افغان پناہ گزینوں نے انتہائی کم اجرتوں پر کام کر کے ملازمتوں کے کئی مواقع کم کر دئیے اور پاکستان میں روزگار کے حوالے سے کئی پچیدگیاں پیدا ہو گئیں جن کے باعث دن بدن غربت میں اضافہ ہو تا گیا۔1996 میں طالبان جب برسر اقتدار آئے تو اس دور میں بھی قدرے سست رفتاری سے سہی لیکن نقل مکانی کا یہ سلسلہ جاری رہا۔2001 میں پناہ گزینوں کی ایک بڑی لہر پاکستان میں داخل ہوئی، 2001 کے آخر تک پاکستان میں افغان پناہ گزینوں کی تعد اد 50 لاکھ ہو چکی تھی۔2005 میں کہیں جا کر پاکستان نے ان پناہ گزینوں کی رجسٹریشن شروع کی اور اقوام متحدہ کے ادارے برائے پناہ گزین کی مدد سے 30 لاکھ افراد کو واپس ان کے وطن بھیجا گیا۔ ان میں بعض کا آنا جانا لگا رہتا ہے اور ایک بڑی تعداد اب بھی یہیں موجود ہے۔جنوری 2017 میں پاکستان اور افغانستان نے ملک میں داخلے کے لیے پاسپورٹ اور ویزہ لازم قرار دے دیا اور افغان شہریوں کے لیے ویزہ کی مختلف اقسام بھی متعارف کروائی گئیں، 2005 میں سرحدوں پر دہشت گردوں، اسمگلروں اور آزادانہ آمدو رفت کو روکنے کے لیے باڑ لگانے کی تجویز زیرِ غور آئی، امریکہ نے پہلے اس کی تائید کی مگر بعد میں اس سے پیچھے ہٹ گیا۔
2013 سے پاک فوج 2 ہزار 6 سو 40کلومیٹرپر محیط اس منصوبے پر کام کر رہی ہے جس پر ایک بھاری لاگت خرچ ہو رہی ہے قوی امید ہے کہ اس سال کے آخر تک یہ منصوبہ پایا تکمیل تک پہنچ جائے گا۔کورونا وائرس کی وباءسرحدوں اور جنگوں کی پابند نہیں،اگر پاکستان ڈیورنڈ لائن کی شروع کی گئی باڑ مکمل نہیں کرتا تو یہ وائرس افغانستان میں پھیلنا شروع ہو جائے گا اور وزیرِ صحت کے خدشے کے مطابق افغانستان میں یہ وباءانتہائی مہلک ثابت ہوگی جس سے ایک لاکھ سے زیادہ اموات کا اندیشہ ہے اگر وبائی اسی رفتار سے پھیلی جسکا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے تواس سے اتنے افغان شہریوں کی ہلاکتیں ہوں گی جتنی جنگ میں بھی نہیں ہوئیں۔ ایسے سنگین حالات پیدا ہونے سے روکنے کے لیے تمام متعلقہ اداروں اور بین الاقوامی تنظیمات کو افغانستان کے لیے کام کرنا چاہیے تاکہ وہاں اموات کے خدشے کو کم کیا جا سکے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button