کالم

پاکستان کا کورونا کے بعد مستقبل

دنیا کو پہلی بار ایک ایسی صورتحال کا سامنا ہے جسکا حل دِکھائی نہیں دہے رہا،ایک طرف بیماری سے موت ہے تو دوسری جانب بھوک سے موت کا خوف سر پر منڈلا رہا ہے۔ معیشت، ترقی اور تمام تر جدیدیت اس وقت اپنی بقاءکو لاحق خطرات سے دوچار ہے مگر بے بسی اور بے کسی کا عالم یہ ہے کہ پوری دنیا کو اسلحہ کے زور پر جھکانے کی خواہش رکھنے والی قوتوں سے لیکر اپنی معیشت کے بل پر عالمی اقتدار کے خواب دیکھنے والوں اور اپنی تہذیب کو ارفع بتاکر دوسروں پر مسلط کرنے والوں تک کو ایک ہی مسئلہ درپیش ہے کہ لاک ڈاون کھولتے ہیں تو وائرس پلٹ کر حملہ آور ہوتا ہے نہیں کھولتے تو بھوک کے خوف سے ستائے عوام تمام تہذیب اور قاعدے بھول کر حملہ آور ہونے اور احتجاج پر آمادہ دِکھائی دیتے ہیں۔
پاکستان کے معاشی حالات دیکھتے ہوئے کوئی اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتا کہ لوگ بھوک سے نہیں مریں گے، کورونا سے جو اموات ہوں گی وہ تو ایک طرف مگر جیسے پاکستان کے حالات چل رہے ہیں غربت و افلاس کی اموات کا تخمینہ لگانا مشکل ہو جائے گا۔ بھوک والی موت کی اگر وضاحت کی جائے تو بھوک والی موت صرف وہ نہیں ہوتی کہ انسان کو خوراک نہ ملے اور وہ مر جائے، بھوک والی موت وہ ہوتی ہے جو غربت اور وسائل نہ ہونے کی وجہ سے زندگیاں کھا جائے، خوراک مل رہی ہو مگر صحت کے لیے موزوں نہ ہو، بیماریاں حملہ کر رہی ہوں مگر علاج معالجے کی سہولت میسر نہ ہو، اس لیے تعلیم یافتہ اصطلاح میں اگر لوگ غربت اور بے روزگاری سے مر جائیں تو یہ بھی بھوک والی موت کہلائے گی۔
اگر بات کی جائے لاک ڈاون کی تو جتنا لاک ڈاون کراچی کے لیے اہم ہے اتنا ملک کے دیگر شہروں اور قصبوں کے لیے نہیں،کیونکہ کراچی میں کورونا کیسز سب سے زیادہ ہیں اور انکی تعدا دمیں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے دوسری طرف عوامی حلقوں کا لاک ڈاون کو کھولنے کا دباوبھی دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔ کراچی پاکستان کا وہ واحد شہر ہے جو سب سے زیادہ ریونیو ٹیکس کی صورت میں دیتا ہے اگر یہ ریونیو نہ آیا تو معاملات کیسے چلیں گے؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ سب سے زیادہ ریونیو دینے والا شہر صرف کورونا کی اموا ت کے خوف سے بند کر دیا جائے اور ریونیو یعنی مالیاتی وسائل سے خزانہ محروم رہے۔اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ دہاڑی دار اور غریب لوگوں کا درد کیوں محسوس کیا جا رہا ہے، اصل میں لوگوں کو بھوک کی موت سے بچانے کے لیے یہ سب کچھ کیا جا رہا ہے لیکن کیا لوگ ایسی موت سے بچ جائیں گے؟
ایک طرف کورونا کیسزمیں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جبکہ دوسری طرف لاک ڈاون میں نرمی کا اعلان کر دیا گیا اور لوگوں سے کہا گیا کہ وہ خود احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ لاک ڈاون میں نرمی اس لیے اختیار کی گئی کہ لوگ بھوک سے نہ مریں یعنی حکومت نے یہ تسلیم کر لیا کہ کورونا سے بچاو کرتے ہوئے وہ اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ لوگ بھوک سے نہ مریں۔ اپنی دانست میں حکومت نے بھوک کی موت سے لوگوں کو بچانے کے لئے یہ اقدام کیا۔ اگر اب بھی لوگ کورونا سے مرتے ہیں تو یہ ان کا اپنا قصور ہوگا۔
جب چین کے شہر ووہان میں کورونا نہیں پھیلا تھا تب ہماری معیشت نیچے کی طرف غوطہ لگا چکی تھی، معاشی سست روی خوفناک حدوں کو چھو رہی تھی، بیروزگار ی اور غربت کا گراف تیزی سے اوپر اٹھ رہا تھا، دو ماہ کے لاک ڈاون اور اکنامک سلو ڈاون نے اس بحران کو اس منطقی انجام تک پہنچا دیاجو شاید چھ ماہ یا ایک سال میں پہنچتا۔ کورونا سے پہلے عالمی بینک،آئی ایم ایف اور دیگر عالمی مالیاتی ادارے پاکستان کی معاشی تنزلی کے بارے جو پیش گوئیاں کر رہے تھے،کم و بیش اسی طرح کی پیش گوئی کورونا کے بعد کی صور ت حال میں ایک برطانوی ادارے ’اکنامسٹ انٹیلی جنس یونٹ‘ نے اگلے روزایک رپورٹ میں کی ہے۔ کورونا سے پہلے یہ کہا جا رہا تھا کہ 2024 تک پاکستان کی معیشت نہیں سنبھل پائے گی اور اب کورونا کے معاشی اثرات کو شامل کر کے بھی یہی بات کی جا رہی ہے کہ کورونا کے عالمی معیشت پر اثرات کا دباو ہماری کمزور معیشت پر بڑھ جائے گا۔
کورونا کے لاک ڈاون کے دوران پاکستان میں جو لوگ ایک ساتھ بیروزگار ہوئے صرف وہی بیروزگار نہیں ہیں بلکہ بیرون ملک 80 لاکھ پاکستان بھی متاثر ہوئے ہیں جو پاکستان کو زرمبادلہ بھیجتے تھے۔ پاکستان کی برآمدات سے جو زر مبادلہ آنا تھا وہ بھی نہیں آئے گا، کورونا کی وباءاگر ختم ہو جائے تو تب بھی پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہوگاجو معاشی بحران سے سب سے آخر میں نکل پائینگے اور اسکی وجہ کورونا وائرس نہیں بلکہ کوروناسے پہلے پھیلا معاشی بحران ہے اکنامسٹ انٹیلی جنس یونٹ نے جو اعداد وشمار دیے ہیں وہ کورونا سے پہلے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے اعدادو شمار کی توثیق کررہے ہیں۔2024تک کی پیش گوئیاں پاکستان کے لیے مایوس کن ہیں ایسے حالات میں کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ لوگ بھوک اور غربت و افلاس سے نہیں مریں گے،اکنامسٹ انٹیلی جنس یونٹ کی یہ رپورٹ کی پیش گوئی انتہائی تشویشنا ک ہے کہ پاکستان معاشی بحران کے ساتھ ساتھ سیاسی عدم استحکام کا شکار بھی رہے گا،اس لیے سیاست دانوں کے لیے فیصلہ کن مرحلہ آ گیا ہے ا±نہیں غریبوں کے لیے روٹی اور روزی دینے کے لیے زیادہ وسائل مختص کرنا ہوں گے، اور صرف معاملات چلانے والی معیشت کو بچانے سے زیادہ غریبوں کو بچانا اب ضروری ہو گیا ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button