کالم

‎ملاوٹ زدہ دودھ اور پنجاب فوڈ اتھارٹی کے اقدامات

دودھ قدرت کا انمول تحفہ اور انسان کے لیے مکمل قدرتی غذا ہے۔ دودھ میں موجود اجزاانسان کی غذائی ضروریات کو پورا کرتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دودھ مکمل صحت بخش غذا تو ہے ہی، بلکہ اس سے بننے والی اشیاءجیسا کہ دہی مکھن، پنیر، لسی اور گھی وغیرہ انکا بھی غذائیت اور لذت میں کوئی ثانی نہیں۔ اس میں معدنیات یعنی کیلشیم کی وافر مقدار موجود ہوتی ہے جو ہڈیوں اور دانتوں کی مضبوطی کے لیے نہایت ضروری ہیں۔ اسکے علاوہ دودھ جسم کو کاربوہائیڈریٹس، امائنو ایسڈ، فائبر، فیٹ اور وٹامن بھی فراہم کرتا ہے جو جسم کی حیاتیاتی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد دیتا ہے۔
ایک تحقیق کے مطابق روزانہ ایک گلاس دودھ جسم کی تقریبا آدھی حیاتیاتی ضروریات پوری کر سکتا ہے۔ دودھ اپنی اصلی حالت میں برقرار ہو یعنی خالص ہو تب ہی اسکی افادیت اور لذت کا مزہ بھرپور طریقے سے اٹھایا جا سکتا ہے۔ پاکستان میں کئے گئے ایک سروے کے مطابق پاکستان کی 75% آبادی خالص دودھ سے محروم ہے اس محرومی کی بڑی وجہ ملاوٹ مافیا کی کارروائیاں ہیں۔ دودھ میں ملاوٹ کرنے والے اپنے مفاد کی خاطر مختلف حربے استعمال کرتے ہیں اور نتیجے میں دودھ کی غذائیت پامال ہوتی ہے۔ دودھ میں پانی کی ملاوٹ ایک عام سی بات تھی لیکن گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ ملاوٹ مافیا کی تخریب کاریوں نے لاجواب کر کے رکھ دیاہے۔
دودھ میں زہریلے کیمیکل کی ملاوٹ اب تو معمول کی بات ہو گئی ہے۔ دودھ بیچنے والے دودھ کے نام پر لوگوں کو صرف اور صرف مکر اور دھوکہ بیچتے ہیں۔ کچھ دودھ بیچنے والے تو سرے سے دودھ شامل ہی نہیں کرتے۔ چند کلو پاوڈر میں پانی ڈال کر اسے سوڈیم ہائیڈروآکسائیڈ اور مکئی کا آٹا ڈال کر اسکی ملاوٹ کر دیتے ہیں۔ چند پیسوں کے عوض اپنے ایمان اور ضمیر کا سودا کرنے والے یہ لوگ نہیں جانتے کہ آج جو زہر یہ لوگوں کے گھروں میں پھیلا رہے ہیں کل کو یہ زہر ان کے لیے بھی وبال جان بن سکتا ہے۔
وزیراعظم
کی خصوصی ہدایت کے پیشِ نظر حکومت کے متعلقہ نمائندوں نے ملاوٹ مافیا کو جڑ سے اکھاڑنے کا عزم کیا ہے اسمیں سرِ فہرست پنجاب فوڈ اتھارٹی کی کاوشیں ہیں۔
2022 میں کھلے دودھ پر مکمل پابندی عائد کر دی جائے گی۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی کی جانب سے متعارف کردہ پاسچرائزیشن لاءکے مطابق صرف پاسچرائزڈدودھ بیچنے کی اجازت ہوگی۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی کے ڈی جی بھی آئے دن دودھ میں ملاوٹ کرنے والوں کے خلاف کارروائیاں کرتے نظر آتے ہیں۔ اتھارٹی کے مطابق بیچے جانے والا دودھ غیر معیاری اور ناقص ہو تو کسی قسم کی رعایت نہیں دی جا سکتی، اس دودھ کو موقع پر ہی تلف کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔ حال ہی میں ڈی حی پنجاب فوڈ اتھارٹی اور چئیرمین پنجاب فوڈ اتھارٹی نے اپنی ٹیم کے ہمراہ موبائل مِلک ٹیسٹنگ لیبارٹریز کا آغاز کر دیا ہے۔
موبائل مِلک ٹیسٹنگ لیبارٹریز ابتدائی طور پر لاہور کے داخلی مقامات پر اپنے فرائض انجام دیں گی۔ہر موبائل مِلک ٹیسٹنگ لیبارٹری میں ماہر ڈیری ٹیکنالوجسٹ بلاناغہ جدید ٹیکنالوجی اور مشینری کی مدد سے بیرون شہر سے آنے والے دودھ کی اچھے سے چیکنگ کریں گے۔ صرف وہ دودھ جو چیکنگ کے بعد معیار پر پورا اترتا ہو گا وہی شہر میں داخل ہو سکے گا۔ موبائل مِلک ٹیسٹنگ لیبارٹری کا آغاز ابھی صرف لاہور میں کیا گیا ہے جسکی کامیابی کے بعد اسے پنجاب کے دوسرے شہروں اور اضلاع میں بڑھایا جائے گا۔ حکومت ہر کوشش کر رہی ہے کہ عوام تک پہنچنے والی غذا خصوصا دودھ معیاری ہو لیکن حکومت کے اقدامات صرف تب کامیاب ہو سکتے ہیں جب عوام اسکے ساتھ تعاون کرے۔ عوام کو حکومت کی ملاوٹ مافیا کے خلاف جنگ میں بھرپور حمایت کرنی چاہیے تاکہ ملکر ملاوٹ کو جڑ سے ختم کر سکیں۔ عوام کو چاہیے کہ دودھ خریدنے سے پہلے جانچ پڑتال کر لیں اس سے ملاوٹ مافیا کی ناصرف حوصلہ شکنی ہو گی بلکہ صحت کو بھی فائدہ میسر ہو گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button