کالم

محکمہ پولیس کا امیج جدید ٹیکنالوجی سے بہتر ہو سکتا ہے

جرائم ہر دور میں سوسائٹی کا مسئلہ رہا اور اس پر قابو پانے کے لیے محکمہ پولیس اپنی استعداد اور روایات کے مطابق مصروف عمل رہی ہے۔ وقت بدلا، جس سےحالات بدلے مگر انفارمیشن ٹیکنالوجی نے تو دُنیا ہی بدل دی، پاکستان میں بھی کرائم کنٹرول اور تفتیش کے لیے آئی ٹی کا استعمال شروع ہوا۔ تحریکِ انصاف حکومت نے پولیس اصلاحات، تھانوں کی حالت بہتر بنانے ، رویوں میں تبدیلی، موثر پولیسنگ،، بہتر انفراسٹرکچر، بروقت فیڈ بیک کے لیے جدید اسلوب اپنانے کے لیے ہدایات دیں اور پنجاب کے کئی اضلاع میں عملی اقدامات بھی اُٹھائے گئے۔
عصرِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کے بغیر کرائم کنٹرول کرنا ناممکن سا عمل ہے۔ پنجاب پولیس میں آئی ٹی اصلاحات فرنٹ ڈیسک کا قیام، خدمت مرکز، کریمینل ریکارڈ مینجمنٹ سسٹم، جیو فنسنگ، موبائل ٹریکنگ سسٹم شروع ہوئے۔ گزشتہ حکومت سے لیکر موجودہ تک پولیس کو کمپیوٹر ٹیکنالوجی کے استعمال سےبہت سی کامیابیاں ملی۔
اصلاحات، ترقی اور ٹیکنالوجی کا استعمال سب معاملات بڑے شہروں تک محدود رہتے مگر موجودہ دور حکومت میں وزیرِ اعظم کے ویژن کے مطابق بڑے شہروں کے ساتھ خدمت مراکز کا نیٹ ورک تجرباتی بنیادوں پر پورے پنجاب میں پھیلایا گیا۔ لاہور پولیس کی لوکل اور آئی ٹی اصلاحات کو دیگر اضلاع تک بڑھایا گیا جو قابلِ تحسین عمل ہے۔
آئی جی پنجاب شعیب دستگیر صاحب عوام کو بہتر سہولیات دینے اور انصاف کی فراہمی کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔ تھانہ کلچر تبدیل ہو رہا ہے اور یہ تبدیلی بتدریج آ رہی ہے۔ عمارتیں انصاف نہیں دے سکتیں اس کے لیے پولیس افسران کا رویہ سب سے اہم ہے۔ پنجاب کے ہر ضلع کا ڈی پی او تن دہی، لگن اور دیانتداری سے محکمانہ فرائض سر انجام دے رہے ہیں جس کے اثرات تھانہ کی سطح تک محسوس ہوتے ہیں۔ تھانوں میں میرٹ پر ایس ایچ او تعینات کئے جا رہے ہیں۔ ہر ضلع میں آئی ٹی ہال کی تعمیر کی نگرانی اس ضلع کے انچارج کی زیرِ نگرانی کی جا رہی ہے۔ عوام کی سہولت کے لیے ہر پولیس لائنز میں انٹرنیشنل معیار کا خصوصی ٹریک بنایا جا رہا ہے۔ ہر ڈی پی او آفس میں عام شہریوں کے لیے ائر کنڈیشنر ہال تعمیر کئے جا رہے ہیں۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ خوبصورت عمارتوں اور ٹیکنالوجی کے استعمال کے ساتھ تھانے کی سطح پر افسران کے رویے بھی مکمل تبدیل ہوں۔ محکمہ پولیس میں بہترین لوگوں کی کمی نہیں جو ایمانداری، خدا خوفی اور فرائض کی بجا آوری کو عملی طور ہر آپنائے ہوئے ہیں۔ بہتر ٹیم، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اور انسان دوست رویہ پولیس پر عوام کے اعتماد کو بڑھائے گا۔ عوام دوست پولیس ہی معاشرے میں جرائم کو کنٹرول کر سکتی ہے۔ آئی جی پنجاب کی طرف سے پرانی سرکاری گاڑیوں کی مرمت کروانے کے بعد قابلِ استعمال بنانا اور پولیس آئی ٹی ہال کی تعمیر جیسے بہترین کام کروانے پر آپکو خراجِ تحسین پیش کرنا محض ستائشی عمل نہیں بلکہ ترغیب ہے کہ باصلاحیت افراد کی حوصلہ افزائی بہت ضروری ہے۔
آئی جی صاحب اللّٰہ نے آپکو قانون کی حکمرانی اور انصاف کے لیے چنا ہے تھانہ کی سطح پر ان کیمروں سے مانیٹرنگ جاری رکھیں تھانہ کلچر ضرور تبدیل ہوگا۔ عام آدمی کو انصاف ضرور میسر آئے گا جس سے محکمہ پولیس کا امیج بھی بہتر ہوگا۔ انشااللّٰہ

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button