کالم

صحت مند معاشرہ ترقی کا ضامن

اسوقت ہمیں صحت پر سب سے زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ ناقص غذاوّں، دواوّں اور آلودہ ماحول نے قریباٙٙ ہر دوسرے شخص کو متاثر کیا ہے۔ کوئی گردوں، دل اور پھپھڑوں کے مرض میں مبتلا ہے تو کوئی جگر، معدہ اور ٹی بی کے مرض کا شکار ہے لہذا اسکے حل کے لیے حکومت کو فی الفور ہنگامی حالت کا نفاذ کرنا ہوگا۔
ترقی یافتہ ممالک کو دیکھ لیجئے وہاں کی حکومتیں سب سے زیادہ خرچ دو شعبوں صحت اور تعلیم پر کرتی ہیں ان میں بھی صحت کا شعبہ سرِ فہرست ہوتا ہے۔ بعض ملکوں میں تو حکومت ہر شہری کو صحت کی ہر طرح کی سہولتیں مفت فراہم کرنے کی پابند ہیں جہاں مفت نہیں بھی مگر وہ آسانیاں ضرور ہیں تاکہ کوئی دوا کی عدم دستیابی سے جان کی بازی نہ ہار جائے۔ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے ملک میں ایسا کچھ نہیں ہے سرکاری اسپتال خود مختار ہونے کے بعد تو بالکل مریضوں کو نظر انداز کرتے ہیں اگر انکے پاس پیسے ہوں تو پھر توجہ کے لائق ہوتے ہیں وگرنہ بستروں پر پڑے کراہتے رہیں انہیں پوچھنے والا کوئی نہیں ہوتا۔
پہلے پہل ان سرکاری اسپتالوں میں کسی بیماری کی دیکھ بھال تھوڑی بہت ہو جایا کرتی تھی ڈاکٹر حضرات اسے اپنا فریضہ سمجھتے تھے مگر جب سے اُنہوں نے حساب کتاب کرنا شروع کر دیا ہے پیسہ ہی پیشِ نظر رکھا جانے لگا ہے۔ نجی ملکیت کے اسپتالوں میں تو بغیر بھاری رقوم کے داخل بھی نہیں ہوا جاسکتا اور جو ہو جائے وہ اپنا گھر کا سامان بیچ ڈالتا ہے تب بھی شفا یابی ممکن نہیں ہوتی کہ پھر کسی دوسرے اسپتال میں جانا پڑتا ہے۔
بہرحال حکومت اگر واقعی عوام سے محبت کرتی ہے تو وہ صحت کی مد میں ڈھیروں بجٹ کا اضافہ کرئے اس وقت بیماریوں نے لوگوں پر یلغار کی ہوئی ہے تندرستی کا تصور نہیں کیا جا سکتا جس سے مجموعی طور پر قومی جذبہ سرد دکھائ دے رہا ہے کیونکہ عوام یہ سمجھ رہی ہے کہ اسے اپنے شہریوں کی کوئی پرواہ نہیں اور وہ دانستہ طور پر یہ سب کچھ کر رہی ہے تاکہ وہ آہیں بھرتے رہیں اور شاہراہ احتجاج پر آکر اس کے لیے کوئی خطرہ نہ بن جائے جبکہ ایسا ہر گز نہیں ہو سکتا لوگوں کو جب سہولتیں ملتی ہیں تو وہ حکومت کے گُن گاتے ہیں اور آئندہ انتخابات میں بھی ووٹ کے ذریعے اسی حکومت کو لانے کی کوشش کرتے ہیں جس نے انکے لیے کچھ کیا ہو۔ مگر ہمارے معاشرے میں یہ سب اُلٹ ہو رہا ہے یہاں عوام کو روزی روٹی کے چکر وں میں ڈال کر خوف زدہ اور تھانے کچہریوں میں الجھایا گیا ہےتاکہ لوگ حکمرانوں کے بارے سوچیں ضرور مگر وہ سڑک پر آنے سے گریز کریں اور انہی باتوں کا حکمران طبقہ فائدہ اٹھاتا ہے اور جو جی میں آئے کرتا چلا جاتا ہے۔ جیسا کہ آج کل بجلی کے بلوں میں اضافہ کر کے ہر کسی کی جیب ڈھیلی کی جا رہی ہے ادھر واپڈا کے شہ دماغ مقررہ تاریخ سے آگے کی تاریخ کو میٹر کی ریڈنگ لیکر زیادہ سے زیادہ یونٹس ڈال رہے ہیں جس سے ٹیرف ریٹ بڑھتا ہے اور ساتھ ساتھ سیلز ٹیکس میں بھی اضافہ ہوتا ہے جو کہ سراسر عوام پر ظلم ہے۔ اس صورت میں حکومت کسی کی صحت کے بارے کیا سوچےگی۔ ہاں اگر حکومت عوام کی صحت کے بارے سوچنا شروع کرئے گی تو دوائی مافیا میدان میں اتر آئے گا۔ یہ مافیا کام کی دوائیاں منڈی میں لانا کم کر دے گا جس سےان دوائیوں کی مارکیٹ میں قلت ہو جائے گی اور اس قلت کے نتیجے میں دواوّں کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگ پڑیں گی لہذا اسکا حل یہی ہے کہ حکومت خود دواوّں کا نظام سنبھالے، نئے اسپتال بنائے، ڈاکٹروں کی تنخواہیں دوگنی کرئے اور انکی نجی پریکٹس پر پابندی عائد کرئے۔ اگر وہ پریکٹس کرنا بھی چاہیں تو اسکے لیے قواعد و ضوابط مرتب کرئے مگر اندھیر نگری میں یہ نہیں ہو پائے گا۔ عوام کو خود آگے آنا ہوگا اور اس نظام کو بدلنا ہوگا کہ جو عوام کا خون چوس رہا ہے اسے اٹھا کر سسٹم سے باہر پھینکنا ہوگا۔
بہرکیف یہ اُمید ہے کہ موجودہ حکومت معاشی اور سیاسی بحرانوں کے باوجود عوام کی امنگوں کو انکی ضرورتوں کو ملخوظ خاطر رکھتے ہوئے لازمی اقدامات کرئے گی لہذا حکومت سے درخواست ہے کہ وہ اس سلگتے مسئلے کے حل کے لیے اپنی ساری توانائیاں صرف کر دے، عوام اسکی اس مہربانی کو کبھی نہیں بھولے گی۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button