کالم

بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ بڑھتا ہو ا پانی کا بحران

دنیا کی سال 2020 میں آبادی 7 ارب سے تجاوز کر چکی ہے اس وقت7 ارب سے زائد افراد کو روزانہ پانی اور خوراک کی ضرورت ہوتی ہے اگر اسی رفتار سے آبادی میں اضافہ ہوتا رہا تو 2050 میں دنیا کی یہ آبادی9 ارب ہونے کی توقع ہے۔ ماہرین کے مطابق ہر انسان روزانہ دو سے چار لیٹر پانی پیتا ہے جس میں خوراک میں موجود پانی بھی شامل ہے چونکہ خوراک کا دارومدار بھی پانی پر ہی ہوتاہے اس لیے آبادی میں اضافہ کے بعد خوراک کی طلب میں بڑا اضافہ ہو جائے گا۔پاکستا ن کی آبادی 22کروڑ سے تجاو ز کر چکی ہے اور موسمیاتی تغیرو تبدل کی تیز رفتاری نے ہماری بقاءکو خطرات سے دو چار کر دیا ہے، گلیشئرز کے اس تیزی سے پگھلاو کے تحت یہ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ ہمیں جلد ہی پانی کے بڑے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، وہیں دوسری طرف پانی کے مزید ذخائر بنانے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ پاکستان میں 1976 کے بعد پانی کا کوئی ذخیرہ تعمیر نہیں ہو ا اگر ہمارے ملک پاکستان میں پانی کو ذخیرہ نہ کیا گیا تو بہت جلد پینے کے پانی کا حصول بھی مشکل ہو جائے گا۔پاکستان جب وجود میں آیا تو اس وقت ہر شہری کے لیے پانچ ہزار چھ سو کیوسک میٹر پانی تھا جو کہ اب کم ہو کر ایک ہزار کیوسک میٹر پانی رہ گیا ہے جسکی اصل وجہ بڑھتی ہوئی آبادی اور پانی کو ذخیرہ نہ کرنا بتایا جاتا ہے اور ساتھ ساتھ موسمی تبدیلی بھی اسکی ایک وجہ ہے۔
اس وقت گلگت بلتستان میں پانچ ہزار سے زائد گلئیشرز اور دو ہزار کے قریب جھیلیں ہیں مگر ان گلئیشرز کے پگھلنے کا عمل ماضی کی نسبت اب بہت تیز ہو چکا ہے جسکی وجہ سے جہاں سیلابوں کے آنے کا خطرہ ہر وقت رہتا ہے وہیں اگر پانی کے نئے ذخائر نہ بنائے گئے تو مسائل مزید بڑھ سکتے ہیں اگر حکومت نے پانی ذخیرہ کرنے کے لیے کوئی فوری کاروائی عمل میں نہ لائی تو عوام کو پینے کے پانی کے حصول میں مشکلات آسکتی ہیں ماہرین کے مطابق 2025 تک پاکستان کے ہر ایک شہری کو ایک ہزار کیوسک میٹر پانی کی ضرورت ہوگی جوکم ہو کر چھ سو کیوسک میٹر پانی رہ جائیگی جو کسی طرح بھی ملک کے لیے نیک شگون نہیں۔
قومی اور عالمی ماہرین نے پاکستان کو آبی قلت سے متنبہ کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں 2025 تک پانی کی شدید قلت پیدا ہو جائے گی اور کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس سال پانی کی قلت کے بارے مناسب اور فوری طور پر اقدامات نہ اٹھائے گے توپاکستان میں خشک سالی ملک و قوم کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے، اس قلت کو کم کرنے کے لیے پاکستان کو ایک نہیں بلکہ کئی ڈیموں کی ضرورت ہے۔
وزیراعظم عمران خان اقتدار سنبھالتے ہی جس مسئلہ کو ترجیجی بنیادوں پر اپنے پارٹی منشور کا حصہ بنایاوہ ملک میں پانی کے ذخائر بڑھانے اور بجلی کی پیداوار بڑھانے میں اضافے کے لیے ڈیمز کی تعمیر تھی اور اس کے لیے دیا میر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لیے مہم سازی شروع کی گئی اورتقریباََ 10 ارب روپے سے زائد فنڈز اکٹھے کئے گے، وزیرِ اعظم کی زیر نگرانی ڈیمز کی تعمیر سے متعلق جب اجلا س ہوا تو وزیرِ اعظم نے کہا کہ پانی کے تخفظ کو یقینی بناناموجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے کیونکہ ڈیموں کی تعمیر سے زرعی ضرورت کے لیے پانی کی د ستیابی کے ساتھ ساتھ بجلی کے حصول میں مدد ملے گی اسکے تعمیراتی کام سے مقامی سامان اور افراد کو روز گار کے مواقع ملیں گے۔ان معاملا ت کے حل کے لیے یقینا حکومت کو بہتر پالیسی مرتب کرنی ہوگی جس میں دیامیر بھاشا ڈیم کے علاوہ ان گزرتی جھیلوں کے پانی کو سنبھالنے کے لیے گلگت بلتستان میں ڈیموں کی تعمیر کا آغاز کرنا ہو گا ، پاکستان کو سیلاب کی آفت سے نپٹنے اور پانی کے بحران سے نکالنے کے لیے ڈیمز کی تعمیر سے بہتر کو ئی حل نہیں، حکومت نے ملکی بقاءاور آنے والی نسلوں کے مستقبل کے تحفظ کے لیے ڈیمز بنانے کی جو مہم شروع کی ہے اس پر پوری قوم کو حکومت کا ساتھ دینا چاہیے کیونکہ ڈیموں کی تعمیر ہی قوم کی زندگی ہے جس طرح دیا میر بھاشا ڈیم بنا نا ضروری ہے اسی طرح  پانی کے بحران سے نکلنے کے لیے کالا باغ ڈیم بھی پاکستان کی بقاءاور سا  لمیت کے لیے انتہائی اہم ہے جو ہماری آنے والی نسلوں کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہو گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button