کالم

آٹا بحران کو کم کرنے کے لئے ہمیں گورننس بہتر بنانے کی ضرورت ہے

ملک بھر میں آٹے کی کمیابی نے بحران کی صورت اختیار کر لی ہوئی ہے۔ لاہور، پشاور، کوئٹہ اور کراچی میں حکومتی نرخوں پر آٹے کا حصول نا ممکن ہو چکا ہے۔ روٹی ایسوسی ایشن نے روٹی کی قیمت 6 روپے سےبڑھا کر 10روپے کرنے کا علان کر دیا ہوا ہے اس سے دن بدن عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
آٹا بحران کا مرکز سب سے زیادہ گندم پیدا کرنے والا صوبہ پنجاب ہے، اسکی وجہ حالیہ برس گندم اور آٹے کی تقسیم میں بد انتظامی ہے۔ وہ اسطرح کہ پہلے گزشتہ برس کے سٹاک سے صوبوں کے پاس باقی رہ جانے والی گندم کی مقدار متنازع بنائی گئی پھر رواں برس گندم کی پیداوار کے اعداد و شمار کو ابہام زدہ کیا گیا پھر نئی فصل آنے کے چند دن بعد پُر اسرار طور پر گندم کی کمی اور آٹے کی قیمتوں کا مسئلہ کھڑا کر دیا گیا۔ اسکی وجہ یہ بتائی گئی کہ پیداوار کم ہونے کی وجہ سے ڈیمانڈ سپلائی کا توازن بگڑ گیا جسے درست کرنے کی خاطر باہر سے گندم منگوانا پڑی۔ اس سے قبل اقتصادی رابطہ کمیٹی نے بحران پر قابو پانے کے لئے 3 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کی منظوری دی تھی تاہم ماہرین کا خیال تھا کہ درآمد شدہ گندم آتے آتے مقامی گندم کی فصل تیار ہو جائے گی اور پھر گندم کی زیادتی کی وجہ سے ایک نیا مسئلہ پیدا ہونے کا خدشہ دے دیا گیا۔
گندم اور آٹے کی قیمتیں قابو میں رکھنے کے لئے مسابقتی کمیشن آف پاکستان نے 13 دسمبر 2019 کے پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن ایکٹ کے سیکشن چار کی خلاف ورزی پر مختلف ملز مالکان کو ساڑھے سات کروڑ روپے جرمانہ عائد کئے۔ اس کے بعد وزیر اعظم عمران خان کو 25
جنوری کو جو رپورٹ پیش کی گئی اس میں انہیں بتایا گیا کہ ملک میں آٹے کا بحران باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت پیدا کیا گیا۔ جس میں سرکاری افسران اور بعض سیاسی شخصیات بھی ملوث ہیں۔
آٹے کی بڑھتی قیمتوں کی ایک وجہ ملز مالکان سے مذاکرات بھی ہیں، حکومت ایک طرف فلور ملز مالکان سے اپنے کامیاب مذاکرات کا دعویٰ کرتے ہوئے پنجاب میں آٹے کا تھیلا 850 روپے کرنے کا اعلان کرتی ہے تو دوسری طرف فلور ملز والے اس فیصلے کا تمسخر اڑاتے ہوئے اس نرخ پر آٹا مہیا کرنے سے گریزاں نظر آتے ہیں۔ پھر حکومت دوبارہ مذاکرات کا ڈول ڈالتی ہےتو اعلان ہوتا ہے کہ مذاکرات پھر کامیاب ہو گئے اور اب 20کلو آٹا کا تھیلا 860 روپے میں ملے گا جس کے تحت آٹے کی قیمت 43 روپے فی کلو ہوگی، پچھلے کئی ماہ سے یہ سلسلہ ایسے ہی چل رہا ہے اور آٹے کی قیمتیں کہیں سے کہیں پہنچ گئی ہیں۔
گندم بحران کے سلسلے میں بنیادی سوال یہ اُٹھتا ہے کہ ایک زرعی ملک ہونے کی حثیت سے اور گندم کی وافر خریداری کے باوجود آٹا بحران کیوں پیدا ہوا؟ اگر یہ بحران قابو میں نہیں آتا تو اس کا براہ راست اثر روٹی پر پڑے گا اور غریب کا پیٹ صرف روٹی سے ہی بھرتا ہے جبکہ روٹی کی عدم فراہمی اور فاقہ کشی جرائم کو فروغ دیتی ہے لہذا اگر روٹی غریب عوام کی دسترس سے باہر ہوتی ہے اور اسکا چولہا بجھتا ہے تو پھر اسکا ردِ عمل خوفناک ہوگا۔
بھوک سے تحفظ شہریوں کا بنیادی حق ہے جس کے لئے حکومت ریاستی اختیارات کو بروّے کار لا کر حل تلاش کرتی ہے۔ پاکستان میں گندم سمیت مختلف طرح کے غلہ جات وافر ہونے کے باوجود نرخوں پر حکومت کا کنٹرول نہیں۔ چیزیں موجود تو ہیں مگر دستیاب نہیں۔ صوبائی سطح پر وزیرِ اعلیٰ ہیں، چیف سیکریڑی ہیں، آئی جی ہیں، ڈپٹی کمشنر اور اے سی ہیں۔ خود منتخب نمائندے دن رات لوگوں میں ہوتے ہیں لیکن یہ سب ملکر بھی گورننس میں ہونے والا بگاڑ درست نہیں کر پا رہے۔ بھوک تہذیب کے آداب بھلا دیتی ہے اس لئے حکومت جس قدر جلد ممکن ہو سکے گورننس میں موجود خرابی کو درست کر کے عام شہری کی زندگی کو بھوک اور ذخیرہ اندوزوں سے بچائے تاکہ عوام سُکھ کا سانس لے سکیں۔
بقلم: کاشف شہزاد

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button