ریاست کی افغان پالیسی بدلنے کی ضرورت
کالم نگار: عمر فاروق
دہشت گردی کے خلاف جنگ گزشتہ دو دہائیوں سے پاکستان کی سیاست، معیشت اور سماجی ڈھانچے پر گہرے اثرات مرتب کرتی رہی ہے۔ اس جنگ میں ہزاروں شہری، فوجی اہلکار، پولیس افسران اور قبائلی علاقوں کے عوام اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ مگر اس تمام قربانی کے باوجود ایک بنیادی سوال آج بھی موجود ہے: کیا پاکستان کی سیکیورٹی پالیسیاں مستقل، شفاف اور عوامی اعتماد پر مبنی رہی ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف پالیسی اکثر تضادات، غیر یقینی فیصلوں اور وقتی حکمت عملیوں کا شکار رہی۔
ایک طرف ریاست دہشت گرد تنظیموں کے خلاف بڑے فوجی آپریشنز شروع کرتی رہی، تو دوسری طرف انہی گروہوں کے ساتھ مذاکرات اور معاہدوں کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ کبھی شدت پسندوں کو “قومی دھارے” میں لانے کی بات کی گئی اور کبھی انہی عناصر کے خلاف بھرپور عسکری کارروائیاں کی گئیں۔ اس پالیسی کے تضاد نے نہ صرف عوام میں بے چینی پیدا کی بلکہ دہشت گرد گروہوں کو بھی اپنی طاقت منظم کرنے کا موقع دیا۔
مثال کے طور پر تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ساتھ مختلف ادوار میں مذاکرات کیے گئے۔ 2004 میں جنوبی وزیرستان میں نیک محمد کے ساتھ معاہدہ ہوا، پھر بیت اللہ محسود اور بعد میں حکیم اللہ محسود کے دور میں بھی مختلف سطحوں پر رابطے جاری رہے۔ 2021 اور 2022 میں دوبارہ ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کی خبریں سامنے آئیں جن میں بعض شدت پسند قیدیوں کی رہائی کی اطلاعات بھی گردش کرتی رہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ گروہ ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھائے ہوئے تھے تو پھر ان کے ساتھ خفیہ معاہدے کیوں کیے گئے؟ اور اگر مذاکرات ہی حل تھے تو پھر بار بار فوجی آپریشنز کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
دوسری جانب فوجی آپریشنز جیسے راہِ راست، راہِ نجات، ضربِ عضب اور ردالفساد شروع کیے گئے جن میں لاکھوں قبائلی عوام بے گھر ہوئے۔ پورے پورے علاقے خالی کروائے گئے، بازار تباہ ہوئے اور عام لوگوں کی زندگیاں متاثر ہوئیں۔ لیکن افسوسناک بات یہ رہی کہ ان فیصلوں میں مقامی آبادی، قبائلی مشران، سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کو اکثر اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ فیصلے بند کمروں میں ہوتے رہے جبکہ ان کے نتائج عام عوام کو بھگتنا پڑے۔
قبائلی علاقوں کے عوام نے ہمیشہ یہ شکوہ کیا کہ انہیں دہشت گردی اور ریاستی پالیسیوں دونوں کی قیمت چکانی پڑی۔ ایک طرف دہشت گرد گروہ ان پر ظلم کرتے رہے، دوسری طرف فوجی کارروائیوں کے دوران بھی ان کی زندگی اجیرن بنی رہی۔ جبری نقل مکانی، لاپتہ افراد اور چیک پوسٹ کلچر نے عوام اور ریاست کے درمیان فاصلے بڑھائے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی علاقوں میں احساسِ محرومی نے جنم لیا۔
دہشت گردی کے خلاف کامیاب پالیسی صرف بندوق یا مذاکرات سے ممکن نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے عوامی اعتماد بنیادی شرط ہے۔ جب تک مقامی آبادی، منتخب نمائندوں اور سیاسی قیادت کو فیصلوں میں شریک نہیں کیا جائے گا، اس وقت تک پائیدار امن قائم نہیں ہوسکتا۔ بدقسمتی سے پاکستان میں اکثر سیکیورٹی پالیسیوں کو قومی مباحثے سے دور رکھا گیا اور تنقید کو “قومی مفاد کے خلاف” قرار دیا گیا۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف پالیسی کو مکمل شفافیت، پارلیمانی نگرانی اور عوامی مشاورت کے تحت تشکیل دیا جائے۔ ریاست کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ متضاد پالیسیاں، وقتی معاہدے اور خفیہ فیصلے نہ صرف جمہوریت کو کمزور کرتے ہیں بلکہ انتہا پسندی کے خاتمے میں بھی رکاوٹ بنتے ہیں۔ امن صرف طاقت سے نہیں بلکہ انصاف، اعتماد اور مستقل پالیسی سے قائم ہوتا ہے۔
عمر فاروق











