آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو کے مطابق صوبے میں ڈکیتی مزاحمت کے دوران قتل کے واقعات میں 17 فیصد جبکہ زخمی ہونے کے واقعات میں 32 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کراچی میں اس وقت 42 ہزار پولیس اہلکار تعینات ہیں، تاہم شہر کی ضروریات پوری کرنے کے لیے 60 ہزار اہلکاروں کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے اہلکار درکار ہیں جو تعلیم اور جدید ٹیکنالوجی سے بھی واقف ہوں۔
جاوید عالم اوڈھو نے مزید بتایا کہ کمیونٹی پولیسنگ کراچی کے تعاون سے شہر میں سیکیورٹی کیمروں کی تعداد 32 ہزار سے بڑھا کر 40 ہزار کردی گئی ہے۔
آئی جی سندھ کے مطابق رواں سال کراچی میں اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں بھی 14 فیصد کمی آئی ہے۔













