Categories: کالم

مصنوعی ذہانت کا دور: حقیقت اور فریب میں تمیز کیسے ممکن ہوگی؟

اگر ہر تصویر اور ویڈیو پر شک کیا جائے گا تو سچ اور جھوٹ میں تمیز مشکل ہو جائے گی۔

مصنوعی ذہانت کا دور: حقیقت اور فریب میں تمیز کیسے ممکن ہوگی؟

تحریر:غلام مرتضی
ایک وقت تھا جب ہمیں بتایا جاتا تھا کہ انسان کی گواہی لازم نہیں، سائنسی ایجادات نے اتنی ترقی کر لی ہے کہ تصویر بھی بطور گواہی پیش کی جا سکتی ہے۔ پھر ویڈیو ثبوت بھی پیش کیے جانے لگے۔ آج بھی عدالتوں میں، سیاست میں ویڈیوز کی بنیاد پر فیصلہ سازی کی جاتی ہے۔ مگر 2022ء کے اختتام پر اوپن اے آئی نے ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک اور بڑا قدم اٹھایا اور دنیا میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو ہر شعبہ میں استعمال کیا جانے لگا۔

اب ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں اے آئی کی مدد سے کسی کی بھی تصویر یا ویڈیو تیار کی جا سکتی ہے۔ جیسے جیسے اے آئی میں پرفیکشن آتی جائے گی، ویسے ویسے یہ ٹیکنالوجی خود ہی بتا سکے گی کہ تیار شدہ تصویر یا ویڈیو، اے آئی نے بنائی ہے یا یہ اوریجنل ہے۔

مصدقہ ثبوت:جہاں اے آئی حقیقت اور فریب میں تمیز کرنے میں مدد دے سکتی ہے، وہیں یہ عدالتوں میں مضبوط ثبوت فراہم کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
آسانیاں: اے آئی کی مدد سے مختلف شعبوں میں تیزی سے کام مکمل کیے جا سکتے ہیں۔
لیکن اس کے نقصانات بھی موجود ہیں:
غلط استعمال:اے آئی کی مدد سے تیار شدہ تصاویر اور ویڈیوز کو جھوٹے مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جس سے لوگوں کی ساکھ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
اعتماد کا مسئلہ:اگر ہر تصویر اور ویڈیو پر شک کیا جائے گا تو سچ اور جھوٹ میں تمیز مشکل ہو جائے گی۔

قرین قیاس ہے کہ ایسا سب سے پہلا ٹول ایکس پر لانچ ہو گا۔ جیسے ہی آپ کوئی تصویر یا ویڈیو ایکس پر پوسٹ کریں گے، وہ خود اس کے لیے گرین/ریڈ علامت لگا دے گا جس سے دیکھنے والے کو معلوم ہو جائے گا کہ یہ فیک ہے یا اوریجنل۔ یہ ٹول نہ صرف سچائی اور جھوٹ میں تمیز کرنے میں مدد دے گا بلکہ آن لائن کمیونیکیشن میں اعتماد بحال کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔

ایلون مسک نے 5 بلین ڈالرز ایکس اے آئی پر انویسٹ کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ یہ انویسٹمنٹ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کا استعمال کتنی اہمیت اختیار کرے گا۔ ایلون مسک کا یہ منصوبہ نہ صرف ٹیکنالوجی کی دنیا میں انقلاب برپا کرے گا بلکہ معاشرتی اور قانونی مسائل کو حل کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔

اس موضوع پر آپ کیا سوچتے ہیں؟ کیا مصنوعی ذہانت کا یہ استعمال ہماری زندگیوں میں مثبت تبدیلیاں لائے گا یا اس کے نقصانات زیادہ ہوں گے؟ ہمیں اپنی رائے ریپلائی میں ضرور بتائیے گا۔

web

Recent Posts

وفاقی کابینہ نے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کو کالعدم قرار دے دیا

اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے متفقہ طور پر مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کو انسدادِ دہشتگردی ایکٹ…

3 مہینے ago

اسلام آباد پولیس کے ایس پی انڈسٹریل ایریا عدیل اکبر مبینہ طور پر خودکشی کے باعث جاں بحق

اسلام آباد پولیس کے سینئر افسر ایس پی انڈسٹریل ایریا عدیل اکبر کی مبینہ خودکشی کی خبر نے دارالحکومت کی…

3 مہینے ago

فرانس نے لوور میوزیم میں قیمتی شاہی زیورات چرانے والوں کی تلاش تیز کر دی

فرانسیسی پولیس نے منگل کے روز اُن چوروں کی تلاش تیز کر دی جنہوں نے لوور میوزیم سے قیمتی شاہی…

3 مہینے ago

طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کی خبریں بے بنیاد، افغان سرزمین پر دہشت گردوں کی موجودگی پاکستان کے لیے مستقل خطرہ، دفتر خارجہ

اسلام آباد (ایم وائے کے نیوز ٹی وی) ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے…

6 مہینے ago

پاکستان میں پہلی مسابقتی انرجی مارکیٹ پالیسی 2 ماہ میں نافذ ہوگی، اویس لغاری

وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے ایک بڑے انکشاف میں بتایا ہے کہ پاکستان آئندہ دو ماہ میں توانائی کے…

6 مہینے ago