Categories: کالم

دوغلی امن پالیسی

دوغلی امن پالیسی

عمر فاروق
سٹوڈنٹ آف لا
کونٹری یونیورسٹی لندن

پاکستان اور افغانستان کے تعلقات ہمیشہ اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں۔ یہ تعلقات صرف دو ہمسایہ ممالک کے درمیان سفارتی روابط تک محدود نہیں بلکہ ان کے ساتھ تاریخ، ثقافت، زبان، تجارت اور عوامی رشتوں کا ایک وسیع پس منظر بھی جڑا ہوا ہے۔ دونوں ممالک کے عوام صدیوں سے ایک دوسرے کے ساتھ خاندانی، سماجی اور معاشی تعلقات رکھتے آئے ہیں، مگر ریاستی سطح پر تعلقات اکثر بداعتمادی، تنازعات اور سیاسی کشیدگی کا شکار رہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاک افغان سفارت کاری کی تاریخ میں کبھی دوستی اور تعاون کے ادوار نظر آتے ہیں تو کبھی شدید تناؤ اور محاذ آرائی کے مناظر سامنے آتے ہیں۔

پاکستان کے قیام کے فوراً بعد افغانستان وہ پہلا ملک تھا جس نے اقوام متحدہ میں پاکستان کی رکنیت کی مخالفت کی۔ اس مخالفت کی بنیادی وجہ ڈیورنڈ لائن کا مسئلہ اور پشتونستان کا مطالبہ تھا۔ بعد ازاں 1961 میں دونوں ممالک کے تعلقات اس حد تک خراب ہوئے کہ سفارتی روابط منقطع ہوگئے۔ اگرچہ بعد میں تعلقات بحال ہوئے، لیکن بداعتمادی کی فضا برقرار رہی۔ 1980 کی دہائی میں سوویت یونین کے افغانستان پر حملے کے بعد پاکستان نے افغان مہاجرین کو پناہ دی اور افغان مزاحمت کی حمایت کی، جس سے دونوں ممالک کے تعلقات میں وقتی قربت پیدا ہوئی۔ لاکھوں افغان مہاجرین پاکستان آئے اور پاکستانی معاشرے کا حصہ بنے، مگر اس کے ساتھ ساتھ اسلحہ، منشیات اور انتہا پسندی جیسے مسائل بھی پیدا ہوئے۔

2001 میں امریکہ کی افغانستان میں مداخلت کے بعد پاک افغان تعلقات ایک نئے دور میں داخل ہوئے۔ افغانستان کی نئی حکومت نے بارہا پاکستان پر طالبان کی پشت پناہی کا الزام لگایا، جبکہ پاکستان نے افغان حکومت پر اپنی سرزمین سے پاکستان مخالف عناصر کی سرگرمیوں کا الزام عائد کیا۔ 2014 کے بعد جب افغانستان میں امن مذاکرات کا عمل شروع ہوا تو پاکستان نے خود کو ایک اہم ثالث کے طور پر پیش کیا اور طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کردار ادا کرنے کا دعویٰ کیا۔ 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد توقع تھی کہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات بہتر ہوں گے، مگر سرحدی جھڑپیں، تجارتی رکاوٹیں اور تحریک طالبان پاکستان کے مسئلے نے اس امید کو کمزور کر دیا۔

پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ایک نمایاں تضاد یہ ہے کہ وہ خود کو عالمی سطح پر امن کے داعی اور ثالث کے طور پر پیش کرتا ہے، مگر اپنے ہمسایہ افغانستان کے ساتھ مسلسل کشیدگی کا شکار رہتا ہے۔ مثال کے طور پر پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے کئی بار ثالثی کی پیشکش کی۔ پاکستانی قیادت نے بارہا یہ مؤقف اختیار کیا کہ خطے میں جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں اور مذاکرات ہی واحد راستہ ہیں۔ یہ مؤقف بظاہر مثبت ہے، مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب پاکستان ایران اور امریکہ جیسے دشمن ممالک کے درمیان امن کی بات کرتا ہے تو پھر افغانستان کے ساتھ اپنے تعلقات میں یہی اصول کیوں نظر نہیں آتے؟

افغانستان کے ساتھ سرحدی بندشیں، فضائی حملوں کے الزامات، باہمی بداعتمادی، مہاجرین کے مسائل اور سخت بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان اپنے قریبی ہمسایہ کے ساتھ امن کی مستقل حکمت عملی اختیار کرنے میں ناکام رہا ہے۔ اگر پاکستان واقعی خطے میں امن چاہتا ہے تو سب سے پہلے اسے افغانستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو جنگی سوچ سے نکال کر سفارتی، معاشی اور انسانی بنیادوں پر استوار کرنا ہوگا۔ کیونکہ ایک طرف ایران اور امریکہ کو مذاکرات کا مشورہ دینا اور دوسری طرف افغانستان کے ساتھ مسلسل تنازع میں الجھے رہنا خارجہ پالیسی کے دوہرے معیار کو ظاہر کرتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری کشیدگی صرف حکومتوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اس کے اثرات عوامی سطح پر بھی گہرے ہوں گے۔ دونوں ممالک کے درمیان صدیوں پرانے خاندانی اور ثقافتی رشتے کمزور پڑ سکتے ہیں۔ سرحد کے دونوں جانب رہنے والے قبائل، تاجر، طلبہ اور مزدور سب اس تنازع کی قیمت ادا کریں گے۔ نفرت اور بداعتمادی کی فضا نئی نسلوں میں منتقل ہوگی، جس سے مستقبل میں عوامی تعلقات بحال کرنا مزید مشکل ہو جائے گا۔

نتیجتاً اگر پاکستان اور افغانستان نے فوری طور پر جنگی بیانیے کو ترک نہ کیا اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار نہ کیا تو یہ تنازع صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ دونوں قوموں کے دلوں میں فاصلے پیدا کر دے گا۔ ریاستی جنگیں ختم ہو جاتی ہیں، مگر عوام کے درمیان پیدا ہونے والی دوریاں نسلوں تک باقی رہتی ہیں۔

Nadeem Myk News

Recent Posts

وفاقی کابینہ نے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کو کالعدم قرار دے دیا

اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے متفقہ طور پر مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کو انسدادِ دہشتگردی ایکٹ…

6 مہینے ago

اسلام آباد پولیس کے ایس پی انڈسٹریل ایریا عدیل اکبر مبینہ طور پر خودکشی کے باعث جاں بحق

اسلام آباد پولیس کے سینئر افسر ایس پی انڈسٹریل ایریا عدیل اکبر کی مبینہ خودکشی کی خبر نے دارالحکومت کی…

6 مہینے ago

فرانس نے لوور میوزیم میں قیمتی شاہی زیورات چرانے والوں کی تلاش تیز کر دی

فرانسیسی پولیس نے منگل کے روز اُن چوروں کی تلاش تیز کر دی جنہوں نے لوور میوزیم سے قیمتی شاہی…

6 مہینے ago

طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کی خبریں بے بنیاد، افغان سرزمین پر دہشت گردوں کی موجودگی پاکستان کے لیے مستقل خطرہ، دفتر خارجہ

اسلام آباد (ایم وائے کے نیوز ٹی وی) ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے…

9 مہینے ago

پاکستان میں پہلی مسابقتی انرجی مارکیٹ پالیسی 2 ماہ میں نافذ ہوگی، اویس لغاری

وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے ایک بڑے انکشاف میں بتایا ہے کہ پاکستان آئندہ دو ماہ میں توانائی کے…

9 مہینے ago