Categories: اہم خبریں

بانی پی ٹی آئی کا سپریم کورٹ کو خط۔ معاملہ آئینی ہے خط کمیٹی کو بھیج دیا۔ چیف جسٹس آف پاکستان

اسلام آباد – چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے چھ رکنی وفد کے درمیان سپریم کورٹ میں ایک اہم ملاقات کے بعد صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ آئی ایم ایف وفد کو واضح طور پر بتایا گیا کہ عدلیہ آئین کے تحت آزاد ہے اور اس نے غیر جانبداری کا حلف اٹھا رکھا ہے۔ انہوں نے کہا، ”ہماری ذمہ داری ہے کہ عدالتی نظام میں بہتری لائی جائے، لیکن یہ ہمارا کام نہیں کہ آئی ایم ایف کو ہر تفصیل فراہم کریں۔ چیف جسٹس نے مزید کہا کہ انہوں نے وفد کو نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کے ایجنڈے سے آگاہ کیا اور ماتحت عدلیہ کے معاملات کے بارے میں بھی بریفنگ دی۔ آئی ایم ایف کے نمائندوں نے پاکستان میں معاہدوں کی پاسداری اور پراپرٹی رائٹس کے تحفظ پر بھی بات کی، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ عدلیہ ان مسائل پر اصلاحات کر رہی ہے۔

چیف جسٹس نے وفد کو بتایا کہ عدالتی نظام میں اصلاحات کے لیے جلد از جلد فیصلے کیے جا رہے ہیں اور ہائیکورٹس میں جلد سماعت کے لیے خصوصی بینچز بنائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ میں ججوں کی تعداد بڑھانے کی ضرورت ہے اور اس سلسلے میں جوڈیشل کمیشن میں تبدیلیاں بھی کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ سپریم کورٹ میں ججز کی تعیناتی کے لیے جوڈیشل کمیشن کا طریقہ کار مزید شفاف بنایا جا رہا ہے اور یہ کہ جوڈیشل کمیشن میں ہر ممبر کو نامزدگی کا اختیار حاصل ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی جانب سے سپریم کورٹ کو بھیجا گیا خط آئینی بینچ کو بھجوا دیا گیا ہے تاکہ اس کا جائزہ لیا جا سکے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ یہ معاملہ آرٹیکل 184(3) کے دائرہ کار میں آتا ہے اور اسے ایک آئینی بینچ کے تحت ہی دیکھا جائے گا۔

چیف جسٹس نے سپریم کورٹ میں ججز کے اختلافات سے متعلق پوچھے گئے سوال پر کہا کہ خط لکھنے والے ججز کو انتظار کرنا چاہیے تھا، کیونکہ عدلیہ کے اندرونی معاملات متعلقہ فورمز پر حل کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی ہر میٹنگ میں عدلیہ میں مداخلت کے مسئلے کو اولین ایجنڈا آئٹم کے طور پر شامل کیا جاتا ہے۔ چیف جسٹس نے بتایا کہ عدالتی اصلاحات کے لیے جلد نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کی میٹنگ بلائی جائے گی۔ انہوں نے اس تاثر کو بھی غلط قرار دیا کہ عدلیہ میں ججز کی بھرتیاں سیاسی بنیادوں پر ہو رہی ہیں۔ ان کے مطابق، عدلیہ میں اصلاحات کے لیے کئی عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ انصاف کی فراہمی میں تاخیر نہ ہو۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ وہ عدالتی نظام میں مزید بہتری کے خواہشمند ہیں اور اصلاحات کے ذریعے عدلیہ کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ججز کی تعیناتی، عدلیہ کی آزادی، اور شفافیت کے حوالے سے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے تاکہ عوام کا عدالتی نظام پر اعتماد بحال رہے۔

 

web

Recent Posts

وفاقی کابینہ نے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کو کالعدم قرار دے دیا

اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے متفقہ طور پر مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کو انسدادِ دہشتگردی ایکٹ…

6 مہینے ago

اسلام آباد پولیس کے ایس پی انڈسٹریل ایریا عدیل اکبر مبینہ طور پر خودکشی کے باعث جاں بحق

اسلام آباد پولیس کے سینئر افسر ایس پی انڈسٹریل ایریا عدیل اکبر کی مبینہ خودکشی کی خبر نے دارالحکومت کی…

6 مہینے ago

فرانس نے لوور میوزیم میں قیمتی شاہی زیورات چرانے والوں کی تلاش تیز کر دی

فرانسیسی پولیس نے منگل کے روز اُن چوروں کی تلاش تیز کر دی جنہوں نے لوور میوزیم سے قیمتی شاہی…

6 مہینے ago

طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کی خبریں بے بنیاد، افغان سرزمین پر دہشت گردوں کی موجودگی پاکستان کے لیے مستقل خطرہ، دفتر خارجہ

اسلام آباد (ایم وائے کے نیوز ٹی وی) ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے…

9 مہینے ago

پاکستان میں پہلی مسابقتی انرجی مارکیٹ پالیسی 2 ماہ میں نافذ ہوگی، اویس لغاری

وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے ایک بڑے انکشاف میں بتایا ہے کہ پاکستان آئندہ دو ماہ میں توانائی کے…

9 مہینے ago