Aarhus University کی ایک نئی تحقیق کے مطابق مردوں میں جسمانی چربی (Body Fat) میں اضافہ بانجھ پن کے خطرے کو بڑھا سکتا ہے۔
تحقیق میں 1,058 نوجوان مردوں کا جائزہ لیا گیا، جن کی اوسط عمر تقریباً 18 سال 9 ماہ تھی۔
نتائج کے مطابق جسمانی چربی بڑھنے پر اسپرم کاؤنٹ میں اوسطاً 23 فیصد تک کمی دیکھی گئی۔
محققین کا کہنا ہے کہ زیادہ جسمانی چربی تولیدی ہارمونز کے توازن کو متاثر کرتی ہے، جس سے مردانہ تولیدی صحت متاثر ہو سکتی ہے۔
تحقیق میں زور دیا گیا کہ صحت مند جسمانی وزن اور جسمانی چربی کو مناسب حد میں رکھنا نہ صرف عمومی صحت بلکہ تولیدی صحت کے لیے بھی ضروری ہے۔
یہ تحقیق Human Reproduction میں شائع ہوئی۔
World Health Organization کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 17.5 فیصد بالغ افراد کو زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے پر بانجھ پن کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ بعض تحقیقات کے مطابق ہر تین میں سے ایک بانجھ پن کا کیس مردوں سے متعلق ہوتا ہے۔
نوٹ: یہ تحقیق جسمانی چربی اور مردانہ بانجھ پن کے درمیان تعلق (association) ظاہر کرتی ہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ ہر فرد میں زیادہ جسمانی چربی براہِ راست بانجھ پن کی وجہ ہی بنے۔ دیگر عوامل جیسے عمر، تمباکو نوشی، طبی مسائل، غذائی عادات اور طرزِ زندگی بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
وزارت خزانہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے دی نیوز کو بتایا کہ جون 2025 سے جون 2026 کے دوران…
لاہور میں وزیراعلیٰ مریم نواز کی زیر صدارت اپنی چھت، اپنا گھر منصوبے سے متعلق اہم اجلاس ہوا، جس…
ایک بیان میں ثمر ہارون بلور نے کہا کہ رنگ روڈ پر واقع مفتی محمود مرکز سے متعلق اہم…
راولپنڈی پولیس کے مطابق گھر سے طلائی زیورات چوری کرنے کے الزام میں ملازمہ کو گرفتار کرکے اس کے…
اٹک میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ چوہدری سالک کے پاس الزامات کے ثبوت…
جنگ اور دی نیوز میں شائع رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ پلاننگ کمیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان…