Categories: پاکستان

اگر پارلیمنٹ میں ریڈ لائن کراس ہوئی، تو جلسے میں بھی کئی لائنیں عبور کی گئیں:خواجہ آصف

سیاسی اختلافات جمہوریت کا حسن ہیں، لیکن ان اختلافات کو ریاستی اداروں اور آئین کے خلاف استعمال کرنا جمہوریت پر حملہ ہے

اگر پارلیمنٹ میں ریڈ لائن کراس ہوئی، تو جلسے میں بھی کئی لائنیں عبور کی گئیں:خواجہ آصف

اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں تحریک انصاف اور اس کے قائد عمران خان کے طرزِ عمل کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ اگر پارلیمنٹ میں کوئی ریڈ لائن عبور ہوئی، تو دوسری جانب جلسوں میں بھی متعدد ریڈ لائنیں عبور کی گئیں۔ خواجہ آصف نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر آپ کو اپنے قائد کے کیسز سے اختلاف ہے تو عدالتوں سے رجوع کریں، احتجاج کریں، مگر ان حدود کو نہ پھلانگیں جو ملک کی وحدت اور جمہوریت کی حفاظت کے لیے قائم کی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جلسے میں یہ بیان کیسے دیا گیا کہ پندرہ دن میں عمران خان کو جیل سے چھڑا لیا جائے گا؟ آپ کو عدالت میں جانا چاہیے، نہ کہ ریاست کے نظام کو چیلنج کرتے ہوئے ایسی بیانات دینا چاہیے جو جمہوریت کے لیے خودکشی کے مترادف ہیں۔ خواجہ آصف نے کہا کہ سیاسی اختلافات جمہوریت کا حسن ہیں، لیکن ان اختلافات کو ریاستی اداروں اور آئین کے خلاف استعمال کرنا جمہوریت پر حملہ ہے۔

خواجہ آصف نے بینظیر بھٹو اور نواز شریف کے مابین کیے گئے معاہدے کا حوالہ دیا اور کہا کہ یہ 2006ء کی پیشرفت پاکستان کی جمہوری تاریخ میں ایک اہم سنگ میل تھی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ 2014ء کے دھرنے کے دوران تمام سیاسی جماعتیں پارلیمنٹ کے تقدس کے لیے متحد تھیں۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ پر حملے کے دوران ہم پچھلے دروازے سے اسمبلی میں آتے تھے، اور پیپلز پارٹی نے اسی روح کے تحت کام کیا جیسا کہ 2006ء کے معاہدے میں طے پایا تھا۔

خواجہ آصف نے پروڈکشن آرڈرز کے معاملے پر بھی کھل کر بات کی اور کہا کہ اگرچہ میں خود گرفتار رہا، اور ہماری قیادت بھی جیلوں میں رہی، مگر ہمیں کبھی پروڈکشن آرڈرز جاری نہیں کیے گئے۔ تاہم، میں پی ٹی آئی کے گرفتار رہنماؤں کے پروڈکشن آرڈرز جاری نہ کرنے کے حق میں نہیں ہوں۔

وزیر دفاع نے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کی تقریر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب کوئی وزیراعلیٰ حکومت کو للکارتا ہے اور ریاست کے خلاف لشکر لے کر صوبے کی جیل کی طرف چلنے کی بات کرتا ہے، تو یہ جمہوریت کے لیے سنگین خطرہ ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر عمران خان جیل میں ہیں، تو ہماری قیادت بھی اس سے پہلے جیلوں میں رہی ہے، لیکن ہم نے ہمیشہ جمہوریت اور آئین کی حفاظت کی۔

خواجہ آصف نے اپوزیشن کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ آپ جب اپنے قائد کی نظر بندی کا مطالبہ کرتے ہیں، تو نواز شریف اور آصف زرداری کی نظربندی کو بھی یاد کریں۔

انہوں نے کہا کہ اکتوبر کے مہینے کا نام لے کر اپوزیشن امیدیں لگائے بیٹھی ہے، لیکن اس امید کا کوئی ٹھوس بنیاد نہیں ہے۔ میں نے 34 سال اس ایوان میں گزارے ہیں، اور جو تلخی اس وقت ایوان میں دیکھ رہا ہوں، وہ پہلے کبھی نہیں دیکھی۔ اسپیکر صاحب، معاملہ آپ کے سپرد کیا جائے تاکہ ہاؤس کو منظم رکھا جا سکے، ورنہ یہ ایوان ڈس رپٹ ہو جائے گا اور اس دن مایوسی پھیل جائے گی۔

وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بھی اس حوالے سے بات کی اور کہا کہ 2017ء تک ملک کی معیشت بہتر ہو رہی تھی، لیکن 2022ء تک معیشت خراب ہوگئی۔ ہمیں اپنی غلطیوں سے سبق سیکھنا چاہیے اور ملک کو دوبارہ ترقی کی راہ پر گامزن کرنا چاہیے۔

آخر میں خواجہ آصف نے محمود خان اچکزئی کی بات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمان کی بے توقیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے بیرسٹر گوہر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جب کوئی شخص مطالبہ کرے، تو اس کے ہاتھ صاف ہونے چاہئیں۔

web

Recent Posts

خیبرپختونخوا میں ایم پاکس کے مزید 4 کیسز رپورٹ

خیبرپختونخوا میں ایم پاکس کے مزید 4 کیسز رپورٹ پشاور: خیبرپختونخوا میں ایم پاکس (منکی پاکس) کے کیسز میں اضافہ…

19 گھنٹے ago

پیٹرولیم لیوی میں کمی پر جماعت اسلامی اور حکومت میں اتفاق

اسلام آباد: جماعت اسلامی اور حکومتی کمیٹیوں کے درمیان پیٹرولیم لیوی میں کمی کے طریقہ کار پر اتفاق ہوگیا۔ ذرائع…

19 گھنٹے ago

لاہور میں نازیبا حرکت کی مبینہ کوشش، خاتون نے چلتی موٹر سائیکل سے چھلانگ لگا دی

لاہور: جوہر ٹاؤن میں بائیک رائیڈر کی جانب سے خاتون کے ساتھ مبینہ نازیبا حرکت کی کوشش پر خاتون نے…

19 گھنٹے ago

پاکستان کی سلامتی کونسل میں ویٹو پاور بڑھانے کی مخالفت

اقوام متحدہ: پاکستان نے سلامتی کونسل میں ویٹو پاور کی توسیع کی مخالفت کرتے ہوئے جامع، جمہوری اور منصفانہ اصلاحات…

19 گھنٹے ago

اسحاق ڈار کا کشمیری عوام کی حمایت جاری رکھنے کا عزم

اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان ہر عالمی فورم پر کشمیری عوام…

19 گھنٹے ago

بولیویا میں مالک کی موت کے بعد 8 سال سے اسپتال کے باہر موجود مرغا توجہ کا مرکز بن گیا

  عام طور پر کتوں کو وفاداری کی علامت سمجھا جاتا ہے، لیکن جنوبی امریکی ملک بولیویا میں ایک مرغے…

5 دن ago