آئینی ترمیم کا کابینہ کو علم نہیں، مجھے کیسے ہوگا؟اسحاق ڈار

بلاول بھٹو زرداری اور ن لیگی وفد کے درمیان ملاقات کے بعد اس بات پر زور دیا گیا کہ آئینی ترامیم کے حوالے سے ہر سیاسی جماعت کو مل کر کام کرنا چاہیے

آئینی ترمیم کا کابینہ کو علم نہیں، مجھے کیسے ہوگا؟اسحاق ڈار

اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے ایک اہم سوال کے جواب میں کہا ہے کہ آئینی ترمیم کے حوالے سے کابینہ کو علم نہیں، تو انہیں کیسے علم ہو سکتا ہے؟ ان کا یہ بیان اُس وقت سامنے آیا جب پارلیمنٹ ہاؤس میں چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کے بعد صحافیوں نے ان سے آئینی ترمیم پر سوال کیا۔

ملاقات کے دوران ن لیگی وفد اور بلاول بھٹو کے درمیان آئینی ترمیم کے حوالے سے بات چیت ہوئی۔ لیکن جب اسحاق ڈار سے ترمیم کی تفصیلات کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ اگر کابینہ کو اس بارے میں آگاہی نہیں ہے، تو انہیں بھی اس کی کوئی معلومات نہیں۔
صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے یہ بھی کہا کہ مولانا فضل الرحمن سے ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں اور جب بھی ضرورت پڑے گی، مولانا سے ملاقات کر لی جائے گی۔ مولانا فضل الرحمن اور حکومت کے درمیان سیاسی معاملات پر بات چیت معمول کی بات ہے اور اسحاق ڈار نے اس حوالے سے مستقبل میں بھی رابطے برقرار رکھنے کی بات کی۔

ایک صحافی نے اسحاق ڈار سے عوامی مفاد اور مہنگائی کے بارے میں پوچھا کہ کیا کبھی حکومت نے عوامی مفاد میں راتوں کو جاگ کر فیصلے کیے؟ جس پر اسحاق ڈار نے جواب دیا کہ آپ کے خیال میں مہنگائی خود ہی سنگل ڈیجٹ میں آگئی؟ ان کا اشارہ اس بات کی طرف تھا کہ حکومت کی کوششوں کی بدولت مہنگائی میں کمی آئی ہے، اور اسے سنگل ڈیجٹ تک لے جانا ایک بڑی کامیابی ہے۔

بلاول بھٹو زرداری اور ن لیگی وفد کے درمیان ملاقات کے بعد اس بات پر زور دیا گیا کہ آئینی ترامیم کے حوالے سے ہر سیاسی جماعت کو مل کر کام کرنا چاہیے۔ اس موقع پر ملک کی موجودہ صورتحال، معیشت، اور سیاسی مسائل پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ ن لیگی قیادت نے اس موقع پر کہا کہ حکومت تمام عوامی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے آئینی ترامیم لانے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ ملک میں سیاسی اور معاشی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔

یہ بات اہم ہے کہ آئینی ترمیم کے حوالے سے واضح معلومات نہ ہونے کی وجہ سے سیاسی حلقوں میں بحث چھڑ گئی ہے۔ اپوزیشن اور حکومت کے مختلف عہدیداروں کے بیانات میں تضاد پایا جاتا ہے، جس سے عوامی سطح پر بھی شکوک و شبہات پیدا ہو رہے ہیں۔ اسحاق ڈار کے اس بیان کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر کابینہ کو آئینی ترمیم کی تفصیلات نہیں معلوم تو فیصلے کون کر رہا ہے؟

اس دوران اس بات کا بھی ذکر کیا گیا کہ وزیراعظم نے اپنے وزراء کو عوامی مسائل کے حل کے لیے راتوں کو جاگنے کی ہدایت کی ہے اور ان سے کہا ہے کہ عوامی مفاد کو سب سے پہلے رکھا جائے۔ مہنگائی کی صورتحال بہتر کرنے کے لیے حکومت کی کوششیں جاری ہیں اور اسے سنگل ڈیجٹ تک لانے کا مقصد عوام کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔

web

Recent Posts

وفاقی کابینہ نے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کو کالعدم قرار دے دیا

اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے متفقہ طور پر مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کو انسدادِ دہشتگردی ایکٹ…

3 مہینے ago

اسلام آباد پولیس کے ایس پی انڈسٹریل ایریا عدیل اکبر مبینہ طور پر خودکشی کے باعث جاں بحق

اسلام آباد پولیس کے سینئر افسر ایس پی انڈسٹریل ایریا عدیل اکبر کی مبینہ خودکشی کی خبر نے دارالحکومت کی…

3 مہینے ago

فرانس نے لوور میوزیم میں قیمتی شاہی زیورات چرانے والوں کی تلاش تیز کر دی

فرانسیسی پولیس نے منگل کے روز اُن چوروں کی تلاش تیز کر دی جنہوں نے لوور میوزیم سے قیمتی شاہی…

3 مہینے ago

طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کی خبریں بے بنیاد، افغان سرزمین پر دہشت گردوں کی موجودگی پاکستان کے لیے مستقل خطرہ، دفتر خارجہ

اسلام آباد (ایم وائے کے نیوز ٹی وی) ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے…

6 مہینے ago

پاکستان میں پہلی مسابقتی انرجی مارکیٹ پالیسی 2 ماہ میں نافذ ہوگی، اویس لغاری

وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے ایک بڑے انکشاف میں بتایا ہے کہ پاکستان آئندہ دو ماہ میں توانائی کے…

6 مہینے ago