منڈی بہائو الدین، نوجوان لڑکیوں کے جنسی استحصال میں تیزی سے اضافہ

جولائی 2024 میں 40 سے زائد خواتین کو جنسی درندگی کا نشانہ بنایا گیا جن عمریں 10 سے 28 سال کے درمیان تھیں

منڈی بہائو الدین، نوجوان لڑکیوں کے جنسی استحصال میں تیزی سے اضافہ

صوبہ پنجاب کے ضلع منڈی بہا الدین میں صرف جولائی کے مہینے میں خواتین کے اغوا، ریپ اور جنسی استحصال کے 40 سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ یہ انکشاف 46 فرسٹ انفارمیشن رپورٹس (ایف آئی آر) کے مطابق ہوا ہے، جو یکم جولائی سے 24 جولائی کے درمیان درج کی گئیں۔

ایف آئی آرز کے مطابق، زیادہ تر مقدمات تعزیرات پاکستان کی دفعہ 376 (ریپ)، 376(3) (نابالغ سے ریپ)، 365بی (عورت کا اغوا، اغوا یا شادی کے لیے مجبور کرنا)، 496-اے (آمادہ کرنا یا حبس بے جا میں رکھنا) سمیت مختلف سنگین دفعات کے تحت درج کیے گئے ہیں۔

دفعہ 376(3) کے تحت سات مقدمات
دفعہ 376 کے تحت چار مقدمات
دفعہ 365بی کے تحت 13 مقدمات
دفعہ 496-اے کے تحت 21 مقدمات
دفعہ 511 کے تحت دو مقدمات
دفعہ 114 کے تحت ایک مقدمہ

ان واقعات میں ملوث مجرموں کی درندگی کا شکار خواتین اور لڑکیوں کی عمریں 10 سے 28 سال کے درمیان ہیں، جن میں اکثریت کی عمر 10 سے 18 سال کے درمیان ہے۔ زیادہ تر وارداتیں پولیس سرکل صدر منڈی بہا الدین کی حدود میں ہوئیں جبکہ دیگر واقعات پولیس سرکل پھالیہ اور سرکل ملکوال میں پیش آئے۔

مختلف تھانوں میں درج ایف آئی آرز میں 150 کے قریب معلوم اور نامعلوم ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے۔

سسٹین ایبل سوشل ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، 2023 میں پنجاب میں خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا۔ سب سے زیادہ واقعات لاہور اور فیصل آباد میں رونما ہوئے۔ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 354 اور 509 کے تحت 10,201 مقدمات درج کیے گئے، جو 2022 کے مقابلے میں 14.5 فیصد زیادہ ہیں۔

لاہور میں 1,464، شیخوپورہ میں 1,198، اور قصور میں 877 کیسز سامنے آئے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ 2023 میں پنجاب میں اوسطاً 28 خواتین کو روزانہ کی بنیاد پر کسی نہ کسی طرح کے تشدد کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔
2023 میں عصمت دری کے 6,624 مقدمات درج ہوئے، یعنی ہر 45 منٹ میں ایک عورت کا ریپ کیا گیا۔ اس سلسلے میں فیصل آباد 728 کیسز کے ساتھ سرفہرست ہے دوسری جانب لاہور شہر میں 721 اور سرگودھا میں 398 مقدمات درج ہوئے۔

پاکستان میں ریپ اور خواتین سے جنسی استحصال کے سخت قوانین کی موجودگی کے باوجود، اس طرح کے واقعات تواتر کے ساتھ رونما ہو رہے ہیں۔ ان واقعات کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات اور سختی سے قوانین کا نفاذ ضروری ہے۔

web

Recent Posts

وفاقی کابینہ نے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کو کالعدم قرار دے دیا

اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے متفقہ طور پر مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کو انسدادِ دہشتگردی ایکٹ…

4 مہینے ago

اسلام آباد پولیس کے ایس پی انڈسٹریل ایریا عدیل اکبر مبینہ طور پر خودکشی کے باعث جاں بحق

اسلام آباد پولیس کے سینئر افسر ایس پی انڈسٹریل ایریا عدیل اکبر کی مبینہ خودکشی کی خبر نے دارالحکومت کی…

4 مہینے ago

فرانس نے لوور میوزیم میں قیمتی شاہی زیورات چرانے والوں کی تلاش تیز کر دی

فرانسیسی پولیس نے منگل کے روز اُن چوروں کی تلاش تیز کر دی جنہوں نے لوور میوزیم سے قیمتی شاہی…

4 مہینے ago

طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کی خبریں بے بنیاد، افغان سرزمین پر دہشت گردوں کی موجودگی پاکستان کے لیے مستقل خطرہ، دفتر خارجہ

اسلام آباد (ایم وائے کے نیوز ٹی وی) ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے…

7 مہینے ago

پاکستان میں پہلی مسابقتی انرجی مارکیٹ پالیسی 2 ماہ میں نافذ ہوگی، اویس لغاری

وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے ایک بڑے انکشاف میں بتایا ہے کہ پاکستان آئندہ دو ماہ میں توانائی کے…

7 مہینے ago