نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے اپنی حالیہ رپورٹ میں پردہ اُٹھایا ہے کہ بجلی کی خالص پیداواری قیمت محض 7.62 روپے فی یونٹ ہے۔ تاہم، جب اس میں متعدد ٹیکسز، چارجز، ایڈجسٹمنٹ، اور مارجن شامل ہوتے ہیں، تو یہ قیمت صارفین تک پہنچتے پہنچتے 45 روپے فی یونٹ تک پہنچ جاتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، بجلی کی قیمت میں 15 روپے 28 پیسے فی یونٹ مختلف قسم کے ٹیکسز شامل ہوتے ہیں، جبکہ بجلی کے بل میں 67 پیسے فی یونٹ کے اخراجات بھی شامل کیے جاتے ہیں۔ مزید برآں، صارفین کو فی یونٹ 3 روپے 10 پیسے کا ڈسکوز مارجن بھی ادا کرنا پڑتا ہے۔
بل کی مد میں ایک پیسہ فی یونٹ کی ایڈجسٹمنٹ بھی ہوتی ہے، جبکہ صارفین کو 1.37 روپے فی یونٹ ٹرانسمیشن چارجز بھی ادا کرنے ہوتے ہیں، اور 17 روپے 1 پیسہ فی یونٹ کیپیسٹی پیمنٹ بھی لاگو کی جاتی ہے۔
نیپرا کی رپورٹ نے صارفین کو ملنے والے بجلی کے بل کا تفصیلی تجزیہ کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ متعدد چارجز اور ٹیکسز کے بعد بجلی کی حقیقی قیمت کہاں سے کہاں پہنچ جاتی ہے، جو بجلی کے نرخ اور عوامی مسائل کے حوالے سے ایک اہم دستاویز ہے۔
جنگ اور دی نیوز میں شائع رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ پلاننگ کمیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان…
لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے ایس ایچ او کوٹ لکھپت افضل رؤف پر عائد 200 روپے جرمانے کی سزا معطل کردی۔…
راولپنڈی: بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں کے دوران 9 دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ…
اسلام آباد: چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی ایمرجنسی اور گورنر…
اسلام آباد: جماعت اسلامی اور حکومتی کمیٹیوں کے درمیان پیٹرولیم لیوی میں کمی کے طریقہ کار پر اتفاق ہوگیا۔ ذرائع…