صدقۂ فطر اسلامی تعلیمات کے مطابق ہر اُس مسلمان پر واجب ہے جو بنیادی ضروریات سے زائد، ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر مال یا اسباب کا مالک ہو۔ یہ فریضہ ہر مسلمان مرد و عورت، آزاد یا غلام، بالغ یا نابالغ پر عائد ہوتا ہے۔ والدین پر لازم ہے کہ وہ اپنی نابالغ اولاد کی جانب سے بھی صدقۂ فطر ادا کریں۔ اگر نابالغ بچہ خود صاحبِ نصاب ہو تو اس کا صدقۂ فطر اس کے مال سے ادا کیا جائے گا۔
عید الفطر کے دن صبح صادق کے وقت صدقۂ فطر واجب ہوتا ہے۔ لہٰذا، جو بچہ اس وقت سے پہلے پیدا ہو، اس کی جانب سے بھی صدقۂ فطر ادا کرنا ضروری ہے۔ یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ صدقۂ فطر کی ادائیگی کے لیے مال پر سال گزرنا شرط نہیں ہے۔ اگر کسی کے پاس ضروریاتِ زندگی سے زائد مال موجود ہو، جو نصاب کے برابر یا اس سے زیادہ ہو، تو اس پر صدقۂ فطر واجب ہے۔ صدقۂ فطر کی بروقت اور مستحقین تک پہنچانے کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے تاکہ معاشرے کے ضرورت مند افراد عید کی خوشیوں میں شریک ہو سکیں۔
اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے متفقہ طور پر مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کو انسدادِ دہشتگردی ایکٹ…
اسلام آباد پولیس کے سینئر افسر ایس پی انڈسٹریل ایریا عدیل اکبر کی مبینہ خودکشی کی خبر نے دارالحکومت کی…
فرانسیسی پولیس نے منگل کے روز اُن چوروں کی تلاش تیز کر دی جنہوں نے لوور میوزیم سے قیمتی شاہی…
اسلام آباد (ایم وائے کے نیوز ٹی وی) ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے…
وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے ایک بڑے انکشاف میں بتایا ہے کہ پاکستان آئندہ دو ماہ میں توانائی کے…