صدقۂ فطر اسلامی تعلیمات کے مطابق ہر اُس مسلمان پر واجب ہے جو بنیادی ضروریات سے زائد، ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر مال یا اسباب کا مالک ہو۔ یہ فریضہ ہر مسلمان مرد و عورت، آزاد یا غلام، بالغ یا نابالغ پر عائد ہوتا ہے۔ والدین پر لازم ہے کہ وہ اپنی نابالغ اولاد کی جانب سے بھی صدقۂ فطر ادا کریں۔ اگر نابالغ بچہ خود صاحبِ نصاب ہو تو اس کا صدقۂ فطر اس کے مال سے ادا کیا جائے گا۔
عید الفطر کے دن صبح صادق کے وقت صدقۂ فطر واجب ہوتا ہے۔ لہٰذا، جو بچہ اس وقت سے پہلے پیدا ہو، اس کی جانب سے بھی صدقۂ فطر ادا کرنا ضروری ہے۔ یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ صدقۂ فطر کی ادائیگی کے لیے مال پر سال گزرنا شرط نہیں ہے۔ اگر کسی کے پاس ضروریاتِ زندگی سے زائد مال موجود ہو، جو نصاب کے برابر یا اس سے زیادہ ہو، تو اس پر صدقۂ فطر واجب ہے۔ صدقۂ فطر کی بروقت اور مستحقین تک پہنچانے کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے تاکہ معاشرے کے ضرورت مند افراد عید کی خوشیوں میں شریک ہو سکیں۔
کراچی کے ٹاپ سرکاری کالجوں میں 93 فیصد طلبہ نجی اسکولوں سے، سرکاری اسکولوں کا حصہ صرف 7 فیصد کراچی:…
پاکستان نے ساتویں مرتبہ ورلڈ یوتھ اسکریبل چیمپئن شپ کا ٹیم ٹائٹل جیت لیا پاکستان نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ…
حج مکمل ڈیجیٹائز، عازمین گھر بیٹھے درخواستیں جمع کرا سکیں گے: سردار یوسف اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے مذہبی امور…
امیتابھ بچن کا پریتی زنٹا سے دلچسپ شکوہ، سالگرہ کی مبارکباد کا جواب نہ دینے پر سوال ممبئی: بالی وڈ…
سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کا دفاعی معاہدہ ایران کیلئے خطرہ نہیں: ایرانی وزارت خارجہ تہران: ایرانی وزارت خارجہ کے…
براڈ پیک حادثہ: ہنزہ کے وقار علی نے ریسکیو آپریشن میں کیسے حصہ لیا؟ ہنزہ سے تعلق رکھنے والے پاکستانی…