صدقۂ فطر اسلامی تعلیمات کے مطابق ہر اُس مسلمان پر واجب ہے جو بنیادی ضروریات سے زائد، ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر مال یا اسباب کا مالک ہو۔ یہ فریضہ ہر مسلمان مرد و عورت، آزاد یا غلام، بالغ یا نابالغ پر عائد ہوتا ہے۔ والدین پر لازم ہے کہ وہ اپنی نابالغ اولاد کی جانب سے بھی صدقۂ فطر ادا کریں۔ اگر نابالغ بچہ خود صاحبِ نصاب ہو تو اس کا صدقۂ فطر اس کے مال سے ادا کیا جائے گا۔
عید الفطر کے دن صبح صادق کے وقت صدقۂ فطر واجب ہوتا ہے۔ لہٰذا، جو بچہ اس وقت سے پہلے پیدا ہو، اس کی جانب سے بھی صدقۂ فطر ادا کرنا ضروری ہے۔ یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ صدقۂ فطر کی ادائیگی کے لیے مال پر سال گزرنا شرط نہیں ہے۔ اگر کسی کے پاس ضروریاتِ زندگی سے زائد مال موجود ہو، جو نصاب کے برابر یا اس سے زیادہ ہو، تو اس پر صدقۂ فطر واجب ہے۔ صدقۂ فطر کی بروقت اور مستحقین تک پہنچانے کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے تاکہ معاشرے کے ضرورت مند افراد عید کی خوشیوں میں شریک ہو سکیں۔
لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے امتحانات میں خراب نتائج پر اساتذہ کے خلاف قانونی کارروائی کا فیصلہ کرلیا۔ وزیراعلیٰ…
پشاور: خیبرپختونخوا پولیس کے سینئر افسران نے مجوزہ پولیس ایکٹ 2026 میں اختیارات کی تقسیم سے متعلق تحفظات کا اظہار…
کراچی: جدہ ایئرپورٹ پر پی آئی اے کے طیارے میں انجن نمبر 2 میں آگ لگنے کی اطلاع پر مسافروں…
اسلام آباد: دفتر خارجہ نے سعودی عرب پر حوثیوں کے حملے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے…
لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے دورہ لندن کے لیے سرکاری طیارے کے استعمال کے اخراجات ادا کر دیے۔ ذرائع…
بلوچستان کے ضلع آواران میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران 3 دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق بلوچستان…