تہران (ایم وائے کے نیوز ٹی وی ) ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ ان کا ملک سفارتکاری سے پیچھے نہیں ہٹا، تاہم موجودہ صورتحال میں تہران کی تمام تر توجہ اسرائیل کی بڑھتی ہوئی جارحیت سے نمٹنے پر مرکوز ہے۔ تہران میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اور تین یورپی وزرائے خارجہ سے رابطے کے دوران عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران نہ تو جنگ کا آغاز کرنے والا ملک ہے اور نہ ہی اسے خونریزی میں دلچسپی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ ایران ہمیشہ سفارتی حل کے لیے تیار رہا ہے اور مذاکرات کی میز کبھی ترک نہیں کی گئی، لیکن حالیہ اسرائیلی اقدامات نے ایک سنگین صورت حال پیدا کر دی ہے جس سے فوری طور پر نمٹنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ اسرائیل کی جانب سے ایران کے سرکاری ٹی وی چینل پر بمباری دراصل اس کی بوکھلاہٹ کا مظہر ہے۔
ایک حالیہ بیان میں عراقچی نے نشاندہی کی کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو جیسے افراد کو روکنے کے لیے واشنگٹن سے ایک فون کال کافی ہو سکتی ہے، اگر امریکہ واقعی جنگ بندی چاہتا ہے تو اسے عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جب تک اسرائیلی جارحیت کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا، ایران کا ردعمل جاری رہے گا۔ ایران کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب خطے میں اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھتی جا رہی ہے اور عالمی برادری کی نظریں اس تنازع پر جمی ہوئی ہیں۔
وزارت خزانہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے دی نیوز کو بتایا کہ جون 2025 سے جون 2026 کے دوران…
لاہور میں وزیراعلیٰ مریم نواز کی زیر صدارت اپنی چھت، اپنا گھر منصوبے سے متعلق اہم اجلاس ہوا، جس…
ایک بیان میں ثمر ہارون بلور نے کہا کہ رنگ روڈ پر واقع مفتی محمود مرکز سے متعلق اہم…
راولپنڈی پولیس کے مطابق گھر سے طلائی زیورات چوری کرنے کے الزام میں ملازمہ کو گرفتار کرکے اس کے…
اٹک میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ چوہدری سالک کے پاس الزامات کے ثبوت…
جنگ اور دی نیوز میں شائع رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ پلاننگ کمیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان…